آسٹریلیا کو بڑا دھچکا، پیٹرک کمنز زخمی، بھارت کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے باہر ہونے کا خدشہ

بھارت کے خلاف اہم ترین سیریز سے قبل آسٹریلیا کو ایک اور بڑا دھچکا پہنچ چکا ہے کیونکہ اس کے نوجوان و باصلاحیت گیند باز پیٹرک کمنز ایڑی کی تکلیف کے باعث کم از کم 5 ہفتوں کے لیے کرکٹ کھیلنے سے محروم ہو سکتے ہیں۔ حالیہ دورۂ جنوبی افریقہ میں کیریئر کا یادگار آغاز کرنے والے 18 سالہ کمنز دوسرے ٹیسٹ کے دوران ایڑی کی تکلیف کا شکار ہوئے تھے اور اس کے بعد نیوزی لینڈ کے خلاف جاری سیریز نہیں کھیل پا رہے ہیں۔

پیٹرک کمنز نے کیریئر کے پہلے ہی ٹیسٹ میں 7 وکٹیں حاصل کر کے آسٹریلیا کی فتح میں کلیدی کردار ادا کیا تھا لیکن اس کارکردگی کے فوراً بعد وہ ایڑی کی تکلیف کا شکار ہو گئے (تصویر: AFP)

پیٹرک کمنز نے کیریئر کے پہلے ہی ٹیسٹ میں 7 وکٹیں حاصل کر کے آسٹریلیا کی فتح میں کلیدی کردار ادا کیا تھا لیکن اس کارکردگی کے فوراً بعد وہ ایڑی کی تکلیف کا شکار ہو گئے (تصویر: AFP)

کرکٹ آسٹریلیا کی جانب سے کرک نامہ کو موصول ہونے والے اعلامیہ کے مطابق آسٹریلین ٹیم کے فزیوتھراپسٹ ایلکس کونتورس کا کہنا ہے کہ جنوبی افریقہ سے واپسی پر پیٹرک کمنز کو بحالی کے لیے کچھ وقت دیا گیا اور گزشتہ ہفتے میں نے برسبین میں نیوزی لینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ کے دوران اُن کا معائنہ کیا اور پایا کہ ان کی صحت یابی کا عمل نسبتاً سست ہے۔ اس سلسلے میں پیروں کے امراض کے ایک ماہر سے رابطہ کیا گیا اور مزید اسکین کرنے پر اُن کی ہڈی میں مسئلہ پایا گیا ہے۔ یوں پیٹرک بیک وقت ایڑی میں دو انجریز کا شکار ہو گئے ہیں اور اب اُن کی مکمل واپسی میں توقع سے کہیں زيادہ وقت لگ سکتا ہے اور ہو سکتا ہے کہ وہ وسط جنوری تک کرکٹ بالکل نہ کھیل پائیں۔

بھارت اور آسٹریلیا کے مابین سیریز کا آغاز 26 دسمبر کو ملبورن میں روایتی باکسنگ ڈے ٹیسٹ سے ہو رہا ہے اور اگر پیٹ کمنز وسط جنوری تک مکمل صحت یاب ہو بھی جاتے ہیں تو انہيں چوتھا و آخری ٹیسٹ کھیلنے کا موقع ہی مل سکتا ہے۔ یوں بھارت کے خلاف سیریز کے ابتدائی تینوں ٹیسٹ مقابلوں میں آسٹریلیا کمنز کی صلاحیتوں سے محروم رہے گا۔ البتہ ممکن ہے کہ وہ یکم فروری سے شروع ہونے والے سہ فریقی ٹورنامنٹ میں آسٹریلیا کی نمائندگی کر پائیں تاہم اس کا پورا انحصار ان کی مکمل صحت یابی کے اوپر ہوگا۔

کمنز نے حالیہ دورۂ جنوبی افریقہ میں دوسرے ٹیسٹ کے دوران شاندار گیند بازی کر کے آسٹریلیا کو فتح سے ہمکنار کیا اور کیریئر کے پہلے ہی مقابلے میں 7 وکٹیں حاصل کر کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔

واضح رہے کہ آسٹریلیا پہلے ہی مچل جانسن سمیت اہم گیند بازوں کی خدمات سے محروم ہے اور یہی وجہ ہے کہ اسے نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز کے پہلے ٹیسٹ میں بیک وقت دو گیند بازوں کو ٹیسٹ کیپ دینا پڑی۔ جبکہ آسٹریلیا مجموعی طور پر سیريز میں اپنے پانچ اہم ترین کھلاڑیوں کی خدمات سے بھی محروم ہے۔

Facebook Comments