[ریکارڈز] ایک روزہ کرکٹ کی طویل ترین انفرادی اننگز

اتفاقاً جنم لینے والی ایک روزہ کرکٹ پر ایک ایسا دور گزرا ہے جب 150 سے زیادہ رنز بنانا تقریباً ناممکنات میں شمار ہوتا تھا کیونکہ اس زمانے میں برق رفتار بیٹنگ کا رحجان نہیں تھا۔ اس رحجان کو بدلنے والی پہلی شخصیت ویسٹ انڈیز کے عظیم بلے باز ویوین رچرڈز تھے جنہوں نے 1984ء میں انگلستان جیسے مضبوط حریف کے خلاف 170 گیندوں پر 189 رنز کی ناقابل شکست و یادگار اننگز کھیلی۔ ایسا لگتا تھا کہ رچرڈز کا یہ ریکارڈ کبھی نہیں ٹوٹ پائے گا اور بلاشبہ یہ ریکارڈ طویل عرصے تک برقرار رہا یعنی 13 سال تک، جب سعید انور نے چنئی میں بھارت کے خلاف 194 رنز کی یادگار اننگز کھیلی۔ بدقسمتی سے سعید ایک روزہ کرکٹ کی تاریخ کی پہلی ڈبل سنچری بنانے سے محروم رہے اور دنیائے کرکٹ کو 200 رنز کا انفرادی ہندسہ دیکھنے کے لیے مزید 13 سال کا انتظار کرنا پڑا جب لٹل ماسٹر سچن ٹنڈولکر نے گوالیار میں جنوبی افریقہ کے خلاف یہ کارنامہ انجام دے کر اس میدان کو تاریخ میں اَمر کر دیا۔

وریندر سہواگ کی ریکارڈ ساز اننگز 25 چوکوں اور 7 چھکوں سے مزین رہی (تصویر: AP)

وریندر سہواگ کی ریکارڈ ساز اننگز 25 چوکوں اور 7 چھکوں سے مزین رہی (تصویر: AP)

درمیان میں 2009ء میں زمبابوے کے چارلس کوونٹری نے بنگلہ دیش کے خلاف 194 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیل کر اپنا نام ریکارڈ بک میں ضرور لکھوایا لیکن جو شہرت ویوین رچرڈز اور بعد ازاں سعید انور کی اننگز کو ملی وہ گزشتہ سال سچن کی اننگز تک کسی کو بلے باز کو حاصل نہیں ہوئی۔ سعید انور کی اننگز کی خاص بات بھارت جیسے روایتی حریف کے خلاف اور اُسی کی سرزمین تھی لیکن یہ وہ زمانہ تھا جب خصوصاً اوپنرز اور آخری اوورز میں بلے بازی کرنے والے کھلاڑی برق رفتاری سے کھیلنے لگے تھے۔

اکیسویں صدی کی پہلی دہائی کے وسط میں جب ٹی ٹوئنٹی جیسے مختصر ترین فارمیٹ نے قبولیت عام حاصل کرنا شروع کی تو گویا کرکٹ میدانوں سے رنز کا سیلاب نکلنے لگا۔ مسلسل تین سال تک ایک روزہ کرکٹ کی تین طویل ترین اننگز کھیلی گئیں۔ پہلے 2009ء میں چارلس کوونٹری نے سعید انور کا ریکارڈ برابر کیا، اگلے سال سچن ٹنڈولکر نے جنوبی افریقہ کے خلاف 200 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیل کر پہلی بار یہ کارنامہ انجام دیا۔ سچن کے اس ریکارڈ کو پہلی بار حقیقی خطرہ اپریل 2011ء میں درپیش ہوا جب آسٹریلیا کے شعلہ فشاں اوپنر شین واٹسن نے بنگلہ دیش کے کمزور باؤلنگ اٹیک کو آڑے ہاتھوں لیا اور ریکارڈ 15 چھکوں اور 15 چوکوں کی مدد سے 185 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی۔ وہ تو ٹنڈولکر کو بنگلہ دیش کا شکر گزار ہونا چاہیے، جن کی جانب سے دیے گئے کم ہدف کے باعث واٹسن چاہتے ہوئے بھی ٹنڈولکر کے ریکارڈ کے قریب نہ پھٹک سکے ورنہ اس دن کئی اور ریکارڈ ٹوٹ جاتے لیکن سچن زیادہ قسمت ثابت نہیں ہوئے کیونکہ محض 8 ماہ بعد آج یعنی 8 دسمبر 2011ء کو اندور میں اُن کے ہم وطن وریندر سہواگ نے ویسٹ انڈیز کے خلاف میچ کے دوران محض 149 گیندوں پر 219 رنز کی اننگز کھیل کر ان کا ریکارڈ اپنے نام کر لیا ہے۔

اپنی جارحانہ بلے بازی کے باعث معروف بھارت کے اوپننگ بلے باز وریندر سہواگ کے بارے میں عرصے سےیہ بات کہی جا رہی ہے کہ اگر کوئی سچن ٹنڈولکر کا ریکارڈ توڑ سکتا ہے تو وہ سہواگ ہی ہو سکتے ہیں۔ اپنے بلے سے پھینکی گئی گیندوں اور حریف ٹیم کے حوصلوں دونوں کو توڑنے کی صلاحیت سے مالامال وریندر سہواگ نے اس اننگز میں 7 مرتبہ گیند کو براہ راست میدان سے باہر پھینکا جبکہ حریف گیند بازوں کو ریکارڈ 25 چوکے بھی رسید کیے۔ یوں انہوں نے سنچری تو محض چوکوں ہی سے بنا ڈالی۔ اس طرح سہواگ نے ایک روزہ کرکٹ میں کسی انفرادی اننگز میں سب سے زیادہ چوکے لگانے کا سچن ٹنڈولکر کا ریکارڈ بھی برابر کر دیا۔

کرک نامہ اپنے قارئین کے لیے نیچے ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ کی 10 سب سے طویل انفرادی اننگز کی فہرست پیش کر رہا ہے، ملاحظہ کیجیے:

ایک روزہ کرکٹ کی طویل ترین انفرادی اننگز

کھلاڑی رنز گیندیں چوکے چھکے بمقابلہ میدان تاریخ
وریندر سہواگ بھارت 219 149 25 7 ویسٹ انڈیز اندور 8 دسمبر 2011ء
سچن ٹنڈولکر بھارت 200* 147 25 3 جنوبی افریقہ گوالیار 24 فروری 2010ء
چارلس کوونٹری زمبابوے 194* 156 16 7 بنگلہ دیش بلاوایو 16 اگست 2009ء
سعید انور پاکستان 194 146 22 5 بھارت چنئی 21 مئی 1997ء
ویوین رچرڈز ویسٹ انڈیز 189* 170 21 5 انگلستان مانچسٹر 31 مئی 1984ء
سنتھ جے سوریا سری لنکا 189 161 21 4 بھارت شارجہ 29 اکتوبر 2000ء
گیری کرسٹن جنوبی افریقہ 188* 159 13 4 متحدہ عرب امارات راولپنڈی 16 فروری 1996ء
سچن ٹنڈولکر بھارت 186* 150 20 3 نیوزی لینڈ حیدرآباد (بھارت) 8 نومبر 1999ء
شین واٹسن آسٹریلیا 185* 96 15 15 بنگلہ دیش ڈھاکہ 11 اپریل 2011ء
مہندر سنگھ دھونی بھارت 183* 145 15 10 سری لنکا جے پور 31 اکتوبر 2005ء

Facebook Comments