[ریکارڈز] ایک روزہ کرکٹ کے سب سے بڑے مجموعے

90ء کی دہائی کے وسط سے ایک روزہ کرکٹ میں برق رفتار بلے بازی کا رحجان پروان چڑھنے کے بعد بہتر سے بہتر مجموعہ اکٹھا کرنے کے لیے ٹیموں کی بھاگ دوڑ بہت زیادہ ہو چکی ہے ورنہ اس سے قبل 250 سے زیادہ کے مجموعے کے فتح کے لیے کافی سمجھا جاتا تھا لیکن پہلے حکمت عملی میں نئی تبدیلیوں اور بعد ازاں اکیسویں صدی کی پہلی دہائی کے وسط میں ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے بین الاقوامی سطح پر ابھرنے کے باعث کرکٹ کا حلیہ ہی بدل کر رہ گیا۔ آج یہ عالم ہے کہ دنیائے کرکٹ کی مختلف ٹیمیں 10 مرتبہ 400 کا ہندسہ عبور کر چکی ہیں۔ جس میں بھارت کا گزشتہ روز اندور میں ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلے گئے مقابلے میں 418 رنز بنا کر اپنی ایک روزہ تاریخ کا سب سے بڑا مجموعہ بھی شامل ہے۔

ان تمام مقابلوں میں سب سے اعلیٰ حیثیت 2006ء کے جنوبی افریقہ-آسٹریلیا مقابلے کو حاصل ہے جس میں جنوبی افریقہ نے 434 رنز کے ہمالیہ جیسے ہدف کو کامیابی سے حاصل کر لیا تھا (تصویر: Getty Images)

ان تمام مقابلوں میں سب سے اعلیٰ حیثیت 2006ء کے جنوبی افریقہ-آسٹریلیا مقابلے کو حاصل ہے جس میں جنوبی افریقہ نے 434 رنز کے ہمالیہ جیسے ہدف کو کامیابی سے حاصل کر لیا تھا (تصویر: Getty Images)

یہ ایک روزہ کرکٹ کی تاریخ کا چوتھا بڑا مجموعہ تھا اور اتنے بڑے مجموعے تک پہنچنے میں اہم کردار ایک روزہ کرکٹ کی طویل ترین انفرادی اننگز کا تھا جو بھارت کے قائم مقام کپتان اور جارح مزاج اوپنر وریندر سہواگ نے 219 رنز بنا کر کھیلی۔

بھارت کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اس نے سب سے زیادہ یعنی 4 مرتبہ 400 یا اس سے زیادہ کا مجموعہ حاصل کیا ہے جبکہ جنوبی افریقہ نے دو مرتبہ یہ کارنامہ انجام دیا ہے۔جبکہ 6 ایسی بدقسمت ٹیمیں بھی ہیں جو محض چند رنز کے فاصلے پر ہونے کے باوجود 400 کی نفسیاتی حد عبور نہیں کر پائیں۔ ان میں سے جنوبی افریقہ کے اکتوبر 2010ء میں بنائے گئے 399 رنز بھی شامل ہیں۔

جیسا کہ ہم نے اوپر ذکر کیا تھا کہ 90ء کی دہائی کے وسط سے ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ میں وسیع پیمانے پر تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں خصوصاً بلے بازی کے انداز میں، اس کو اعداد و شمار تقویت بخشتے ہیں کہ 400 کے مجموعے کو عبور کرنے کے تمام مواقع 2000ء کے بعد پیش آئے ہیں۔ اس سے قبل صرف سری لنکا ہی واحد ٹیم تھی جو اس مجموعے تک پہنچنے کے قریب آ گئی تھی جس نے عالمی کپ 1996ء کے دوران کینیا کے خلاف 398 رنز بنائے تھے۔

طویل ترین اجتماعی اننگز کھیلنے کے باعث بیشتر مقابلے یکطرفہ ہو گئے اور اکثر تو کمزور ترین ٹیموں کے خلاف بنائے گئے لیکن مارچ 2006ء میں جوہانسبرگ کے وانڈررز اسٹیڈیم میں کھیلا گیا جنوبی افریقہ-آسٹریلیا معرکہ ایک روزہ کرکٹ کے بہترین مقابلوں میں شمار کیا جاتا تھا جس کے دوران پہلے بلے بازی کرتے ہوئے آسٹریلیا نے تاریخ میں پہلی مرتبہ 400 کی حد کو عبور کیا اور پھر جواب میں جنوبی افریقہ نے تاریخی تعاقب کرتے ہوئے 434 رنز کا ہدف آخری اوور میں حاصل کرتے ہوئے اسی مقابلے میں سب سے زیادہ رنز کا ریکارڈ اپنے نام کر لیا۔ اس میچ کو ایک روزہ کرکٹ کے بہترین مقابلوں میں شمار کیا جاتا ہے جس میں ہرشل گبز نے 175 اور رکی پونٹنگ نے 164 رنز کی یادگار اننگز کھیلی تھیں۔

علاوہ ازیں دسمبر 2009ء میں راجکوٹ میں کھیلے گئے بھارت-سری لنکا معرکے کا ذکر کرنا بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔ اس مقابلے میں بھارت نے سہواگ کی برق رفتار سنچری اننگز کی بدولت پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 414 رنز کا مجموعہ اکٹھا کیا جس کے جواب میں سری لنکا نے تلکارتنے دلشان کے 'کیریئر بیسٹ' 160 رنز کی بدولت منزل کو تقریباً جا لیا تھا لیکن آنے والے بلے باز ہمت نہ پکڑ سکے اور سری لنکا محض 3 رنز سے شکست سے دوچار ہوا۔

اس پوری فہرست میں مذکورہ بالا دونوں مقابلے ہی ایسے ہیں جو عرصۂ دراز تک عوام کے ذہنوں میں نقش رہیں گے تاہم اس کے علاوہ فروری 2010ء میں گوالیار میں کھیلا گیا بھارت-جنوبی افریقہ معرکہ ایک روزہ تاریخ کی پہلی ڈبل سنچری اننگز کے باعث یاد رکھا جائے گا جو لٹل ماسٹرسچن ٹنڈولکر نے کھیلی جبکہ گزشتہ روز یعنی 8 دسمبر 2011ء کو اندور میں ہونے والا بھارت-ویسٹ انڈیز مقابلہ بھی وریندر سہواگ کی 219 رنز کی اننگز کے باعث اَمر ہو گیا ہے۔

ذیل میں ہم کرک نامہ کے قارئین کے لیے ایک روزہ کرکٹ کی تاریخ کی طویل ترین اننگز کی فہرست پیش کر رہے ہیں۔

ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ کی تاریخ کے سب سے بڑے مجموعے

ٹیم رنز اوورز بمقابلہ میدان تاریخ
سری لنکا 443/9 50.0 نیدرلینڈز ایمسٹلوین 4 جولائی 2006ء
جنوبی افریقہ 438/9 49.5 آسٹریلیا جوہانسبرگ 12 مارچ 2006ء
آسٹریلیا 434/4 50.0 جنوبی افریقہ جوہانسبرگ 12 مارچ 2006ء
جنوبی افریقہ 418/5 50.0 زمبابوے پوچفیسٹروم 20 ستمبر 2006ء
بھارت 418/5 50.0 ویسٹ انڈیز اندور 8 دسمبر 2011ء
بھارت 414/7 50.0 سری لنکا راجکوٹ 15 دسمبر 2009ء
بھارت 413/5 50.0 برمودا پورٹ آف اسپین 19 مارچ 2007ء
سری لنکا 411/8 50.0 بھارت راجکوٹ 15 دسمبر 2009ء
نیوزی لینڈ 402/2 50.0 آئرلینڈ ابرڈین یکم جولائی 2008ء
بھارت 401/3 50.0 جنوبی افریقہ گوالیار 24 فروری 2010ء
جنوبی افریقہ 399/6 50.0 زمبابوے بینونی 22 اکتوبر 2010ء
سری لنکا 398/5 50.0 کینیا کانڈی 6 مارچ 1996ء
نیوزی لینڈ 397/5 44.0 زمبابوے بلاوایو 24 اگست 2005ء
جنوبی افریقہ 392/6 50.0 پاکستان سنچورین 4 فروری 2007ء
بھارت 392/4 50.0 نیوزی لینڈ کرائسٹ چرچ 8 مارچ 2009ء
انگلستان 391/4 50.0 بنگلہ دیش ناٹنگھم 21 جون 2005ء

Article Tags

Facebook Comments