پیٹن سن سچن اور سہواگ کا سامنا کرنے کے لیے بے چین

آسٹریلیا میں ہر سال کا اختتام ایک شاندار ٹیسٹ میچ کے ذریعے ہوتا ہے، 26 دسمبر کو ملبورن کے تاریخی میدان میں ٹیسٹ مقابلہ کھیلا جاتا ہے جس میں آسٹریلیا کسی مہمان ٹیم کے مدمقابل ہوتا ہے۔ اس کو "باکسنگ ڈےٹیسٹ" کہا جاتا ہے اور رواں سال یہ مقابلہ آسٹریلیا اور عالمی نمبر دو بھارت کے درمیان ہے۔

جیمز پیٹن سن رواں سال پہلے ہی ٹیسٹ کی کسی اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کرنے کا کارنامہ انجام دینے والے گیند بازوں میں کی فہرست میں تازہ اضافہ ہیں (تصویر: AFP)

جیمز پیٹن سن رواں سال پہلے ہی ٹیسٹ کی کسی اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کرنے کا کارنامہ انجام دینے والے گیند بازوں میں کی فہرست میں تازہ اضافہ ہیں (تصویر: AFP)

ملبورن کرکٹ گراؤنڈ پر ٹھیک چار سال قبل جب دونوں ٹیمیں آخری مرتبہ مدمقابل آئی تھیں، جب آسٹریلیا نے بھارت کو 337 رنز کی ذلت آمیز شکست سے دوچار کیا تھا اور بھارت کی جانی مانی بیٹنگ لائن اپ آسٹریلیا کے گیند بازوں کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئی تھی۔ سچن ٹنڈولکر، سارو گنگولی، وی وی ایس لکشمن اور راہول ڈریوڈ جیسے بلے بازوں کی حامل بیٹنگ لائن پہلی اننگز میں 196 اور دوسری میں 161 پر ڈھیر ہوئی۔ لیکن اس وقت آسٹریلیا کو بریٹ لی اور مچل جانسن جیسے برق رفتار گیند بازوں کا ساتھ حاصل تھا جن سے وہ اب محروم ہے۔ لیکن اس کے نئے گیند بازوں نے آتے ہی ٹیسٹ دنیا میں تہلکہ مچا دیا ہے، جن میں قابل ذکر آسٹریلوی گیند باز جیمز پیٹن سن ہیں۔ جنہوں نے چند روز قبل نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ کیریئر کا شاندار آغاز کیا ہے اور اب جاری دوسرے ٹیسٹ میں بھی پانچ وکٹیں سمیٹ کر ان گیند بازوں کی فہرست میں شامل ہو گئے ہیں جنہوں نے اپنے اولین دونوں ٹیسٹ مقابلوں میں 5،5 وکٹیں حاصل کیں۔

21 سالہ پیٹن سن کا کہنا ہے کہ وہ بھارت کے خلاف 4 ٹیسٹ مقابلوں کی سیریز کا شدت سے انتظار کر رہے ہیں اور ان کے لیے سچن، سہواگ، لکشمن اور ڈریوڈ پر مشتمل مشہور زمانہ بیٹنگ لائن اپ کا سامنا کرنے سے اچھا چیلنج کوئی اور نہیں ہوگا۔

26 دسمبر کو ملبورن میں شروع ہونے والے پہلے ٹیسٹ کے بارے میں پیٹن سن نے 'فوکس اسپورٹس' سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "باکسنگ ڈے ٹیسٹ، یہ کرکٹ کی معراج ہے۔ جب میں چھوٹا تھا تو میں ہر سال دیکھنے جاتا ہے۔ تو یہاں کھیلنے کا موقع ملنا ایسا ہوگاجیسے ایک خواب حقیقت کا روپ دھار جائے۔ اور اگر یہ مقابلہ بھارت جیسے حریف کے خلاف ہو تو ان کے بلے بازوں سے بہتر چیلنج تو کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔"

بدقسمتی سے بھارت-آسٹریلیا معرکہ آرائی میں پیٹن سن کے ساتھی پیٹ کمنز، ریان ہیرس اور مچل جانسن ان کا ساتھ نہیں دے پائیں گے کیونکہ وہ مختلف نوعیت کی انجریز کے باعث بھارت کے خلاف سیریز میں نہیں کھیل پائیں گے۔ یوں بھارتی بلے بازوں کو کچھ سکھ کا سانس ضرور ملے گا۔لیکن وہ پیٹر سڈل اور ناتھن لیون سمیت نوجوان آسٹریلوی گیندو بازوں پیٹن سن اور مچل اسٹارک کو کمزورسمجھنے کی غلطی نہیں کرے گا۔

Facebook Comments