شعیب! پہلے سائیکلوں میں ہوا بھرو


ایک روز جب پنڈی کلب گراؤنڈز کی روشنیاں جلائی گئیں تو ہم نے دیکھا پاکستانی کرکٹ ٹیم وہاں مشق کر رہی ہے۔ مجھےیاد ہے کہ میں اور میرے دوست دور جنگلے کے ساتھ کھڑے تھے، اور عمران خان، وسیم اکرم اور وقار یونس ہماری نظروں کے عین سامنے پریکٹس کر رہے تھے۔ میں نے انہیں کچھ دیر تک دیکھا، اور پھر اپنے دوستوں کا رخ کرتے ہوئے بولا 'اِس دن کو یاد رکھنا۔ اگلے چند سالوں میں میں کرکٹ کی اِن عظیم ہستیوں کے ساتھ کھڑا ہوں گا۔' دوست ہنس ہنس کے بے حال ہو گئے اور پھر مجھے قمیض سے پکڑ کر جنگلے سے دور لے گئے اور کہا کہ ٹھیک ہے، ابھی تو تم سائیکلوں میں ہوا بھرو، یہ بعد میں دیکھنا کہ تمہارا مستقبل کیا ہے۔'

(یہ اقتباس شعیب اختر کی سوانحِ عمری 'کنٹروورشلی یورز' سے ترجمہ کیا گیا ہے۔ اس کتاب کے دیگر ترجمہ شدہ اقتباسات یہاں سے پڑھے جا سکتے ہیں۔)

Facebook Comments