فساد زدہ کراچی میں شعیب کے دن

کراچی میں قیام کے دن میرے ذہن میں انتہائی تکلیف و غم کے دنوں کی حیثیت سے محفوظ ہیں۔ 1990ء کی دہائی کے اوائل میں شہر میں مختلف نسلی گروہوں کے درمیان سیاسی تناؤ میں اضافہ ہوا اور شہر زبردست فسادات کی لپیٹ میں آ گیا۔ اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے افواج کو طلب کر لیا تاکہ وہ آپریشن کلین اپ کا آغاز کرے؛ جس میں فوج کو حالات کو قابو میں کرنے کے لیے کھلا ہاتھ دیا گیا۔یہ کراچی کی تاریخ کے خونریز ترین ایام میں سے تھے، جن میں فسادات کے دوران ہزاروں افراد مارے گئے یا غائب کر دیےگئے۔ میں اپنے ماموں کے علاوہ شہر میں کسی کو نہیں جانتا تھا، لیکن میری آمد سے چند ہفتے قبل ہی وہ شہر سے منتقل ہو گئے تھے اس لیے مجھے اپنی رہائش کا انتظام خود کرنا تھا۔ پھر مجھے اپنی انتہائی معمولی تنخواہ کی مشکلات کا بھی اندازہ ہوا، یعنی 500 روپے ماہانہ۔ اس پر طرہ یہ کہ پی آئی اے شاذ و نادر ہی یہ تنخواہ وقت پر دیتا تھا۔ میرے علاوہ لاہور کے دو یا تین لڑکے اور تھے جنہوں نے خود کو ایسے حالات میں پایا۔ شہر میں ہمہ وقت کرفیو لگا رہتا، لیکن پی آئی اے کو ہماری حفاظت کا خیال تھا یا نہ ہی اس نے کبھی پریشانی کا اظہار کیا تھا کہ ہم اس صورتحال میں کیسے جی رہے ہیں؟ ہم ایسے شہر میں سفر یا رہنے کے لیے مکان کیسے حاصل کرتے جس میں ہم کسی کو نہیں جانتے تھے؟ اتنی کم تنخواہ پر ہم کیسے زندہ رہتے؟ یہ تمام معاملات ہم کیسے نمٹاتے، جبکہ ہم ابھی بچے تھے!

شعیب اختر کی کتاب Controversially Yours کا سرورق

ممکن ہو کہ ہم چند لڑکوں کے حوالے سے یہ سخت گیر رویہ اِس لیے ہو کیونکہ ہم غریب گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے۔ اپنے ادارے کی جانب سے کوئی مدد نہ ملنے پر میں نے رہنے کی جگہ کی تلاش شروع کیا، ایسی رہائش جس کی میری جیب اجازت دے سکے، اسی وجہ سے میرے آپشنز بہت کم رہ گئے۔ جن علاقوں میں میں رہائش گاہ کی گنجائش رکھتا تھا – الکرم، لالو کھیت، دس نمبر، شرف آباد – وہ اُس وقت گڑ بڑ کا مرکز بنے ہوئے تھے۔ یہاں ہر جگہ گلیوں کوچوں میں فسادات تھے – جس میں فائرنگ اور ہنگامے بھی شامل تھے، اور مجھے مجبوراً اُسی میں رہنا تھا، اجنبیوں کے درمیان ڈرتے اور سہمتے ہوئے۔

لیکن یہ یہی اجنبی تھے جنہوں نے بالآخر میرا خیال رکھا۔ میں ایسے علاقے میں ایک کمرہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا جہاں کے بیشتر رہنے والے شمالی علاقہ جات کے علاقے چترال سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ کراچی میں ایک برادری کی صورت میں رہتے تھے۔ خوش قسمتی سے میں اُردو اچھی بولتا تھا اور با آسانی دوست بناتا تھا۔ مالی طور پر میں مسائل کا شکار تھا؛ کرائے کی ادائیگی اور کرکٹ میدان تک سفر کے اخراجات کے بعد میرے پاس کھانے کے لیے بمشکل ہی پیسہ بچتا تھا۔ جیب میں پچاس روپے، بس۔ امن و امان کی بدترین صورتحال کو سمجھتے ہوئے پی آئی اے کو اپنے نوجوان کھلاڑیوں کا خیال رکھنا چاہیے تھا اور اُن کے لیے محفوظ مقام کا انتظام کرنا چاہیے تھا لیکن انہوں نے کوئی پروا نہیں کی، نہ ہی ہمارے حوالے سے کسی ذمہ داری کا احساس کیا۔ میں نے اپنے دوست ثقلین مشتاق کو قائل کیا کہ وہ پی آئی اے میں جگہ بنانے کی کوشش کرے اور جب وہ آیا، تو سیدھا میرے پاس چلا آیا۔

ثقلین میں دونوں راولپنڈی کے کرکٹ حلقوں سے اٹھے تھے۔ ہم نے انڈر 19 ٹیم میں بھی ایک ساتھ کھیلا، اس لیے یہ ہمارے لیے فطری تھاکہ ہم نئے شہر میں ایک ساتھ رہتے۔ لیکن میں اس کی حفاظت کی ذمہ داری خود پر محسوس کرتا تھا، کیونکہ میں نے ہی اُسے کراچی منتقل ہونے پر قائل کیا تھا۔ اس کی خوش قسمتی کہ وہ چند ماہ ہی میرے پاس رہا اور پھر اپنے دوست حسنین کاظم کی طرف منتقل ہو گیا۔ میرے پاس ایسے کوئی آپشن نہیں تھا، اس لیے ڈیڑھ سال تک میں سنگ مرمر کے فرش پر صرف ایک تکیے اور چادر کے ساتھ راتیں گزارتا رہا۔ فرش کے ٹکڑے میرے جسم میں گھستے، اور میں نے وہاں اپنے قیام کے دوران کبھی رات سکون کی نیند نہیں لی۔

یہ پی آئی اے کا اسپورٹس بورڈ نہیں بلکہ چترال سے تعلق رکھنے والے دوست تھے جنہوں نے میرا خیال رکھا۔ وہ اس بات کا اہتمام کرتے کہ مجھے کھانے کے لیے گرم خوراک ملے اور وہ اپنے گھروں پر مجھے بلانے کے لیے آپس میں باریاں طے کرتے۔ وہ اور چند دیگر افراد – جن میں سے کچھ تو ہنگاموں میں کافی حد تک ملوث بھی تھے – مجھے فساد زدہ علاقوں سے نکالنے میں مدد دیتے۔ میں ان دلخراش ایام میں اپنا خیال رکھنے پر اُن کا ہمیشہ شکر گزار رہا ہوں۔ انہوں نے اپنے بل بوتے پر میرا خیال رکھا، مجھے بھوک سے بچایا اور یقینی بنایا کہ میں ارد گرد ہونے والی دہشت گردی سے بچوں۔

فوج کو دیکھ کر ہی گولی مار دینے کے احکامات جاری ہو گئے، اور میں ایک متربہ کھڑکی کے ساتھ بیٹھا تھا اور خود پر چلائی گئی گولیوں سے بال بال بچا۔ میں نے لوگوں کو راکٹ لانچرز سے اُڑتے ہوئے دیکھا۔ جب کرفیو لگتا تھا یا ہڑتال ہوتی، تو آپ کسی پرندے کو بھی باہر پر مارتے نہیں دیکھ سکتے تھے۔ میں مستقل خوف و دہشت کی حالت میں رہا۔ میں ابھی اوائل عمری میں تھا اور اس میں بھی سڑکوں کے کناروں پر اپنی کئی راتیں بتا چکا تھا؛ اور ہنگاموں اور گولیوں کی زد میں آ کر لوگوں کو اپنے سامنے مرتا دیکھ چکا تھا۔ دل سے کہوں تو میں کرکٹ کھیلنے کے لیے کچھ بھی کر گزرا۔

(یہ اقتباس شعیب اختر کی سوانحِ عمری 'کنٹروورشلی یورز' سے ترجمہ کیا گیا ہے۔ اس کتاب کے دیگر ترجمہ شدہ اقتباسات یہاں سے پڑھے جا سکتے ہیں۔)

Facebook Comments