پہلا ٹیسٹ اور پہلا بڑا تنازع

اپنے پہلے ٹیسٹ میچ کے بارے میں کیا بتاؤں! ایک ایسا لمحہ جس کے لیے میں نے پوری زندگی تیاری کی تھی۔ وسیم اکرم ٹیم کے کپتان تھے اور انہوں نے بورڈ کو کہا کہ اگر شعیب کو کھلایا گیا تو وہ نہیں کھیلیں گے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ پہلے سے موجود ٹیم کے ساتھ کھیلنا چاہتے ہوں جس کی کارکردگی سے مطمئن تھے یا ہو سکتا ہے کہ وہ ایک نئے تیز باؤلر کی آمد کی حوصلہ افزائی نہ کرنا چاہتے ہوں۔ ہو سکتا ہے کہ کراچی میں میرے غصے سے پھٹ پڑنے کی یادوں نے اُنہیں پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا ہو۔ وجہ کوئی بھی ہو، وسیم اکرم پہلے ٹیسٹ سے مجھے باہر رکھنے میں کامیاب ہو گئے لیکن بورڈ نے زور دیا کہ نئے کھلاڑیوں کو بھی موقع دینا ہے؛ خصوصاً بورڈ چاہتا تھا کہ وہ مجھے کھلائیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ میں ٹیم میں ایک نامناسب علامت بن کر رہ گیا، وسیم اور سلیکٹرز کے درمیان وجہ نزاع۔

شعیب اختر کی کتاب Controversially Yours کا سرورق

پاکستان کرکٹ بورڈ نے اعلان کیا کہ میں کھیلوں گا اور ٹیم کے کپتان نے جواب دیا کہ اگر میں کھیلا تو وہ استعفیٰ دے دیں گے۔ لیکن بورڈ اَڑا رہا۔ تو وسیم نے معاملے کو مزید آگے بڑھایا اور کہا کہ اگر شعیب کو کھلایا گیا تو ٹیم کے پانچ دیگر اراکین نے بھی نہ کھیلنے کی دھمکی دی ہے ۔ میچ کے آغاز سے قبل ٹیم تقسیم کا شکار ہو چکی تھی، ایک اور تنازع جنم لے چکا تھا اور میں نادانستہ طور پر بھی اس تنازع کا حصہ تھا۔ ایک طرف میں تھا، ایک معمولی سا نوجوان، اور دوسری طرف سینئر کھلاڑی، جو سب بغاوت کے موڈ میں تھے۔ میں ڈریسنگ روم کے عقب میں خاموشی کے ساتھ بیٹھا تھا، اور واقعات کے اُلٹ پھیر پرخوفزدہ تھا۔ میں کسی کی نظر میں آ کر معاملات کو مزید گمبھیر نہیں کرنا چاہتا تھا۔

ماجد خان نے سلیم الطاف کو فون کیا، جو اُس وقت چیف سلیکٹر تھے، اور کہا کہ وسیم کو کہو کہ وہ بورڈ کے فیصلوں کو برداشت کرے یا پھر میں بطور کپتان وسیم اکرم کا استعفیٰ قبول کرکے متبادل کھلاڑیوں کو بھیجوں؟۔ اس دھمکی پر وسیم نے ہتھیار ڈال دیے لیکن فیصلے پر بہت زیادہ غضبناک تھے اور چیختے چنگھاڑتے ڈریسنگ روم میں واپس آئے۔ اُن کے غصے و اشتعال کا بوجھ مجھے اٹھانا تھا۔ میں سوال کرنا چاہتا تھا کہ "کوئی مجھے سمجھائے کہ اِس پورے معاملے میں میری غلطی کیا ہے؟" لیکن میں خاموش رہا۔ یہ میرا پہلا ٹیسٹ تھا، تو آپ میری حالت کا اندازہ لگا سکتے ہیں – میں شدید اعصابی تناؤ کا شکار تھا! جب وسیم غضبناک رویے کے ساتھ ٹاس کے لیے میدان میں اترے تب مجھے یقین آیا کہ میں کھیلنے جا رہا ہوں۔

(یہ اقتباس شعیب اختر کی سوانحِ عمری 'کنٹروورشلی یورز' سے ترجمہ کیا گیا ہے۔ اس کتاب کے دیگر ترجمہ شدہ اقتباسات یہاں سے پڑھے جا سکتے ہیں۔)

Facebook Comments