”جانتے نہیں تو جان جاؤ گے“، سچن-شعیب پہلا مکالمہ

یہ ایک عظیم دورہ تھا جس میں میدان میں ایک لاکھ تماشائی اور باہر اِس سے کہیں زیادہ ہم پر نگاہیں جمائے بیٹھے تھے۔ پورا ہندوستان و پاکستان ہمیں دیکھ رہا تھا۔ لیکن چلیے ماحول کی بات نہیں کرتے، آئیے خود پر موجود دباؤ کے بارے میں کرتے ہیں۔

شعیب اور سچن

اس موقع پر مجھ پر اعصابی تناؤ کا شدید حملہ ہوا اور میں لرزتی ہوئی ٹانگوں کے ساتھ میدان میں اترا۔ مجھے تناؤ سے نکلنا تھا اور میں اپنے آزمودہ طریقے سے ایسا کرنے میں کامیاب بھی ہوا۔ بھارتی بلے باز مقابلے سے قبل وارم اپ ہو رہے تھے، اور بلے لیے میدان میں داخل ہو رہے تھے۔ میں سچن ٹنڈولکر کی جانب بڑھا اور پوچھا، 'کیا تم مجھے جانتے ہو؟'

اس نے اوپر دیکھا اور بولا 'نہیں۔'

میں نے کہا 'جان جاؤ گے، جلد ہی۔'

میں نے اُسے پہلی ہی گیند پر میدان بدر کر دیا اور بعد ازاں اُس نے مجھے کہا کہ 'اب میں تمہیں یاد رکھوں گا۔'

چند سالوں بعد میں نے سچن سے پوچھا کہ تمہیں وہ واقعہ یاد ہے، لیکن اُس کا جواب نفی میں تھا۔

(یہ اقتباس شعیب اختر کی سوانحِ عمری 'کنٹروورشلی یورز' سے ترجمہ کیا گیا ہے۔ اس کتاب کے دیگر ترجمہ شدہ اقتباسات یہاں سے پڑھے جا سکتے ہیں۔)

Facebook Comments