[ریکارڈز] ڈبل سنچریاں بنانے والے پاکستانی بلے باز

پاکستان کے بلے باز یونس خان نے چٹاگانگ میں بنگلہ دیش کے خلاف جاری پہلے ٹیسٹ مقابلے میں ڈبل سنچری داغ کر ایک مرتبہ پھر ریکارڈ بک میں جگہ بنا لی ہے۔ انہوں نے ڈبل سنچری کا کارنامہ دوسری مرتبہ انجام دیا ہے۔اس سے قبل وہ 2005ء میں بھارت کے خلاف بنگلور ٹیسٹ میں یادگار ڈبل سنچری جڑ چکے ہیں۔ اس مرتبہ انہوں نے محض 290 گیندوں پر 3 چھکوں اور 18 چوکوں کی مدد سے 200 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی جس کی بدولت پاکستان میچ میں انتہائی مضبوط پوزيشن میں آ چکا ہے۔ ان کی ڈبل سنچری مکمل ہوتے ہی پاکستان نے اپنی پہلی اننگز 594 رنز 5 کھلاڑی آؤٹ پر ڈکلیئر کر دی اور بنگلہ دیش کی پہلی اننگز 135 رنز پر 459 رنز کی زبردست برتری حاصل کر لی ہے۔

حنیف محمد 337 رنز کی تاریخی اننگز کھیلنے کے بعد میدان سے واپس لوٹتے ہوئے۔ یہ کرکٹ کی تاریخ کی عظیم ترین اننگز میں شمار ہوتی ہے (تصویر: ESPNcricinfo)

حنیف محمد 337 رنز کی تاریخی اننگز کھیلنے کے بعد میدان سے واپس لوٹتے ہوئے۔ یہ کرکٹ کی تاریخ کی عظیم ترین اننگز میں شمار ہوتی ہے (تصویر: ESPNcricinfo)

پاکستان کی کرکٹ تاریخ میں اب تک 18 بلے بازوں نے 32 مرتبہ ڈبل سنچریاں بنائی ہیں۔ جن میں سے عظیم بلے باز جاوید میانداد نے 6 مرتبہ 200 کا ہندسہ عبور کر رکھا ہے جبکہ محمد یوسف اور ظہیر عباس نے 4، 4، یونس خان، قاسم عمر اور شعیب محمد نے دو، دو مرتبہ یہ کارنامہ انجام دیا ہے۔ان میں سے یونس خان، حنیف محمد اور انضمام الحق ایک، ایک مرتبہ ٹرپل سنچری بھی اسکور کر چکے ہیں۔ ان کے علاوہ کوئی پاکستانی بلے باز ڈبل کو ٹرپل سنچری میں نہیں بدل پایا۔

پاکستان کی جانب سے پہلی ڈبل سنچری کا اعزاز امتیاز احمد کے پاس ہے جنہوں نے اکتوبر 1955ء میں لاہور میں نیوزی لینڈ کے خلاف 209 رنز کی اننگز کھیلی تھی جس کے بعد حنیف محمد نے 1958ء میں برج ٹاؤن میں ویسٹ انڈیز کے خلاف 337 رنز کی یادگار و ریکارڈ اننگز کھیلی جسے آج بھی دنیائے کرکٹ کی تاریخ کی طویل ترین اننگز کا آغاز حاصل ہے جو 970 منٹ تک ویسٹ انڈیز کے مضبوط باؤلنگ اٹیک کے خلاف جاری رہی اور پاکستان کے لیے میچ بچاؤ اننگز کا کردار ادا کیا۔ یہ پاکستان کی تاریخ کی پہلی ٹرپل سنچری بھی تھی۔ ان کے علاوہ صرف دو پاکستانی بلے باز انضمام الحق اور یونس خان ہی ٹرپل سنچری بنا سکے ہیں باقی 32 مرتبہ پاکستانی کھلاڑیوں کو ڈبل سنچری پر ہی اکتفا کرنا پڑا۔ اس لحاظ سے سب سے بدقسمت اننگز جاوید میانداد کی تھی جو انہوں نے جنوری 1983ء میں حیدرآباد، سندھ میں روایتی حریف بھارت کے خلاف کھیلی۔ 460 گیندوں پر 280 رنز بنانے والے جاوید میانداد کو اس وقت میدان سے باہر جانا پڑا جب کپتان عمران خان نے 581 رنز پر اننگز ڈکلیئر کرنے کا اعلان کر دیا۔ یوں جاوید میانداد اپنے کیریئر کی واحد ٹرپل سنچری سے محروم ہو گئے۔ اس میچ کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں جاوید کے علاوہ مدثر نذر میں بھی ڈبل سنچری بنائی تھی اور دونوں کھلاڑیوں نے پہلی اننگز میں تیسری وکٹ پر 451 رنز کی شراکت داری قائم کی تھی۔ بعد ازاں پاکستان نے یہ مقابلہ اننگز اور 119 رنز سے جیتا۔

2006ء اس لحاظ سے پاکستان کے لیے اچھا سال تھا کہ اس میں پاکستانی بلے باز طویل عرصے کے بعد دنیائے کرکٹ پر چھائے۔ محمد یوسف اور یونس خان کی عمدہ کارکردگی نے پاکستان کی فتوحات میں اہم کردار ادا کیا۔ بدقسمتی سے اس سال یہ دونوں بلے باز پانچ مرتبہ 190 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے اور ڈبل سنچریاں مکمل نہ کر پائے۔ 4 مرتبہ یہ کارنامہ انجام دینے والے یوسف اگر اس سال 3 مرتبہ نروس ون نائنٹیز کا شکار نہ ہوتے تو آج پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ ڈبل سنچریاں بنانے کا اعزاز ان کے پاس ہوتا۔ اسی سال دو مرتبہ یونس خان بھی 190 رنز بنانے کے بعد پویلین لوٹے جن میں 199 رنز پر آؤٹ ہونا بھی شامل ہے۔ ان سے قبل مدثر نذر بھی ایک مرتبہ 199 پر پویلین لوٹ چکے ہیں۔

ذیل میں ہم پاکستان کے کھلاڑیوں کی جانب سے بنائی گئی ڈبل سنچریوں کی فہرست پیش کر رہے ہیں، امید ہے قارئین محظوظ ہوں گے۔ پہلی تین سطر میں ٹرپل سنچریوں کا ذکر ہے جو حنیف محمد، انضمام الحق اور یونس خان نے بنا رکھی ہیں۔

(نوٹ: آپ پہلی سطر میں موجود تیروں کے نشان پر کلک کر کے فہرست کو اپنے لحاظ سے ترتیب دے سکتے ہیں، جیسا کہ 'چھکے' پر کلک کرنے سے وہ اننگز سب سے پہلے آ جائے گی جس میں سب سے زیادہ چھکے شامل ہوں گے)

نام رنز منٹ گیندیں چوکے چھکے بمقابلہ میدان تاریخ
حنیف محمد 337 970 - 24 0 ویسٹ انڈیز برج ٹاؤن، بارباڈوس جنوری 1958ء
انضمام الحق 329 579 436 38 9 نیوزی لینڈ لاہور مئی 2002ء
یونس خان 313 760 568 27 4 سری لنکا کراچی فروری 2009ء
جاوید میانداد 280* 696 460 19 1 بھارت حیدرآباد، سندھ جنوری 1983ء
ظہیر عباس 274 544 467 38 0 انگلستان برمنگھم جون 1971ء
جاوید میانداد 271 558 465 28 5 نیوزی لینڈ آکلینڈ فروری 1989ء
یونس خان 267 690 504 32 1 بھارت بنگلور مارچ 2005ء
جاوید میانداد 260 617 521 28 1 انگلستان اوول، لندن اگست 1987ء
وسیم اکرم 257* 490 363 22 12 زمبابوے شیخوپورہ اکتوبر 1996ء
ظہیر عباس 240 545 410 22 0 انگلستان اوول، لندن اگست 1974ء
سلیم ملک 237 443 328 34 0 آسٹریلیا راولپنڈی اکتوبر 1994ء
توفیق عمر 236 712 496 17 1 سری لنکا ابوظہبی اکتوبر 2011ء
ظہیر عباس 235* 375 - 29 2 بھارت لاہور اکتوبر 1978ء
مدثر نذر 231 627 444 21 1 بھارت حیدرآباد، سندھ جنوری 1983ء
محمد یوسف 223 602 373 26 2 انگلستان لاہور نومبر 2005ء
ظہیر عباس 215 334 254 23 2 بھارت لاہور دسمبر 1982ء
جاوید میانداد 211 636 441 29 1 آسٹریلیا کراچی ستمبر 1988ء
اعجاز احمد 211 519 372 23 1 سری لنکا ڈھاکہ مارچ 1999ء
تسلیم عارف 210* 435 379 20 0 آسٹریلیا فیصل آباد مارچ 1980ء
قاسم عمر 210 685 442 27 0 بھارت فیصل آباد اکتوبر 1984ء
امتیاز احمد 209 380 - 28 0 نیوزی لینڈ لاہور اکتوبر 1955ء
جاوید میانداد 206 410 - 29 2 نیوزی لینڈ کراچی اکتوبر 1976ء
قاسم عمر 206 - - - 0 سری لنکا فیصل آباد اکتوبر 1985ء
عامر سہیل 205 343 284 32 0 انگلستان مانچسٹر جولائی 1992ء
محمد یوسف 204* 325 243 34 2 بنگلہ دیش چٹاگانگ جنوری 2002ء
حنیف محمد 203* 445 - 33 0 نیوزی لینڈ لاہور اپریل 1965ء
جاوید میانداد 203* - - - 1 سری لنکا فیصل آباد اکتوبر 1985ء
شعیب محمد 203* 484 338 20 0 بھارت لاہور دسمبر 1989ء
شعیب محمد 203* 656 411 23 0 نیوزی لینڈ کراچی اکتوبر 1990ء
محمد یوسف 203 528 429 27 3 نیوزی لینڈ کرائسٹ چرچ مارچ 2001ء
محمد یوسف 202 468 330 26 1 انگلستان لارڈز، لندن جولائی 2006ء
مشتاق محمد 201 383 - 20 0 نیوزی لینڈ ڈنیڈن فروری 1973ء
انضمام الحق 200* 535 397 23 2 سری لنکا ڈھاکہ مارچ 1999ء
یونس خان 200* - 290 18 3 بنگلہ دیش چٹاگانگ دسمبر 2011ء
محسن خان 200 495 386 23 0 انگلستان لارڈز، لندن اگست 1982ء

Facebook Comments