ایک اور اعصاب شکن معرکہ، نیوزی لینڈ کی آسٹریلیا پر تاریخی فتح

نوجوان قائد روز ٹیلر نے وہ کر دکھایا جو نیوزی لینڈ کی تاریخ کے کامیاب ترین کپتان اسٹیفن فلیمنگ اپنے پورے کیریئر میں نہیں کر پائے یعنی آسٹریلیا کو شکست دینا بلکہ ٹیلر نے تو اک ایسا کارنامہ انجام دے دیا ہے جو گزشتہ 26 سالوں سے بلیک کیپس کے لیے خواب تھا یعنی آسٹریلیا کی اسی کی سرزمین پر زیر کر کے ٹیسٹ سیریز برابر کر دینا۔ ہوبارٹ میں کھیلے گئے سیریز کے دوسرے و آخری ٹیسٹ میں ڈوگ بریسویل کے عمدہ اسپیل نے نیوزی لینڈ کو جہاں ایک جانب یادگار و تاریخی فتح سے ہمکنار کیا وہیں سنسنی خیز ٹیسٹ مقابلوں کے حوالے سے 2011ء کو ایک یادگار سال بنا دیا۔ کیپ ٹاؤن سے لے کر ممبئی اور اب ہوبارٹ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کے سنسنی خیز مقابلوں میں شمار ہوں گے۔ آخر الذکر میں نیوزی لینڈ نے میچ کے چوتھے روز زبردست گیند بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آسٹریلیا کو محض 7 رنز سے شکست دے دی اور سیریز 1-1 سے برابر کر ڈالی۔

یہ 1993ء کے بعد کسی بھی ٹیسٹ مقابلے میں نیوزی لینڈ کی آسٹریلیا کے خلاف پہلی فتح تھی جبکہ آسٹریلوی سرزمین پر نیوزی لینڈ نے آخری مرتبہ 1985ء میں کوئی مقابلہ جیتا تھا اس لحاظ سے اس فتح کی اہمیت دو چند ہو چکی ہے جبکہ آسٹریلیا اک نئے زوال کی جانب گامزن دکھائی دیتا ہے۔

ڈیوڈ وارنر دل شکستہ ناتھن لیون کو دلاسہ دیتے ہوئے، یہ 26 سال بعد اپنی سرزمین پر نیوزی لینڈ کے خلاف واحد شکست تھی (تصویر: AFP)

ڈیوڈ وارنر دل شکستہ ناتھن لیون کو دلاسہ دیتے ہوئے، یہ 26 سال بعد اپنی سرزمین پر نیوزی لینڈ کے خلاف واحد شکست تھی (تصویر: AFP)

بھارت کے خلاف اہم ترین سیریز کے آغاز سے محض دو ہفتے قبل یہ شکست آسٹریلیا کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا ثابت ہوگی کیونکہ نیوزی لینڈ اس وقت عالمی درجہ بندی میں آٹھویں نمبر پر ہے اور اتنی کم درجے کی ٹیم سے شکست کھانے سے درجہ بندی میں آسٹریلیا کی پوزیشن کو سخت نقصان پہنچا ہے اور اس کے دو قیمتی پوائنٹس کم ہو گئے جبکہ نیوزی لینڈ کو 4 پوائنٹس ملے ہیں اور بھارت کے خلاف شکست اسے چوتھی پوزیشن سے بھی محروم کر سکتی ہے۔

1999ء سے 2007ء تک دنیائے کرکٹ پر بلا شرکتِ غیرے حکمرانی کرنے والا آسٹریلیا یکدم اتنا بنجر ہو گیا ہے کہ 2008ء سے اب تک اسے 16 ٹیسٹ مقابلوں میں شکست کا منہ دیکھنا پڑا ہے اور یہ اتنی بڑی تعداد ہے کہ اس میں صرف ویسٹ انڈیز اور بنگلہ دیش جیسی ٹیمیں ہی اس سے پیچھے ہیں۔

بہرحال، میچ جیتنے کے لیے 241 رنز کے ہدف کا تعاقب کرنے والے آسٹریلیا نے میچ کے تیسرے روز شاندار بلے بازی کا مظاہرہ کیا اور اوپنرز ڈیوڈ وارنر اور فل ہیوز نے 72 رنز کی زبردست شراکت قائم کی اور بظاہر ایک آسان فتح کی جانب گامزن تھا۔ اس شراکت داری میں بڑا حصہ ٹی ٹوئنٹی اسپیشلسٹ سمجھے جانے والے ڈیوڈ وارنر کا تھا جنہوں نے 47 رنز بنائے لیکن چوتھے روز، جو مقابلے کا آخری دن بھی ثابت ہوا، نیوزی لینڈ نے آسٹریلوی بلے بازی کی دھجیاں بکھیر دیں اور میچ کا پانسہ یکدم مہمان ٹیم کے حق میں پلٹ گیا۔ سوئنگ ہوتی ہوئی گیندوں کے سامنے آسٹریلوی بلے باز یکے بعد دیگرے پویلین لوٹنے لگے اور ایک موقع پر جہاں آسٹریلیا با آسانی میچ جیتنے کی پوزیشن میں تھا صورتحال اتنی نازک ہو گئی کہ ہدف سے 42 رنز کی دوری تک اس کی 9 وکٹیں گر چکی تھیں۔

صبح کے دوسرے ہی اوور میں کرس مارٹن نے فل ہیوز کو ٹھکانے لگا کر نیوزی لینڈ کو پہلی کامیابی دلائی۔ سیریز میں ناکامی کا منہ دیکھنے والے فل ہیوز گزشتہ روز کے اسکور 20 میں ایک رن کا بھی اضافہ نہیں کر پائے۔ پاکستانی نژاد عثمان خواجہ ڈیوڈ وارنر کا ساتھ دینے کے لیے میدان میں آئے اور دونوں نے مل کر مزید 50 رنز کا اضافہ کیا۔ اُس وقت تک بھی صورتحال مکمل طور پر آسٹریلیا کے قابو میں تھی بلکہ عثمان کے 23 رنز پر پویلین لوٹنے کے بعد بھی تیسری وکٹ پر 37 رنز کا اضافہ ہوا یعنی اسکور 159 تک پہنچ گیا اور یہیں ڈوگ بریسویل نے میچ کے دو سب سے اہم و فیصلہ کن اوور پھینکے جن میں انہوں نے پہلے اوور میں آسٹریلیا کے سابق کپتان رکی پونٹنگ اور اگلے اوور میں دو مسلسل گیندوں پر موجودہ قائدمائیکل کلارک اور تجربہ کار مائیکل ہسی کو ٹھکانے لگا کر آسٹریلوی صفوں میں پہلی مرتبہ ہلچل مچائی۔ گو کہ امپائر نے ہسی کو ناٹ آؤٹ قرار دیا تھا لیکن امپائرز کے فیصلوں پر نظر ثانی کے نظام (ڈی آر ایس) نے ایک مرتبہ پھر اپنی اہمیت دکھا دی اور تیسرے امپائر سے رجوع کرنے کے بعد ہسی کو پویلین کا راستہ پکڑنا پڑا۔ کھانے کے وقفے تک 173 رنز پر آسٹریلیا کی پانچ وکٹیں گر چکی تھیں۔

نیوزی لینڈ کی فتح کے ہیرو ڈوگ بریسویل جنہوں نے میچ میں 9 وکٹیں حاصل کیں تاہم میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز ان کو نہیں دیا گیا (تصویر: Getty Images)

نیوزی لینڈ کی فتح کے ہیرو ڈوگ بریسویل جنہوں نے میچ میں 9 وکٹیں حاصل کیں تاہم میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز ان کو نہیں دیا گیا (تصویر: Getty Images)

کھانے کے وقفے کے بعد 68 رنز کا مفاصلہ طے کرنے کے لیے آسٹریلیا کی تمام تر امیدیں جوہانسبرگ ٹیسٹ کے ہیرو بریڈ ہیڈن اور پہلے ہی سے کریز پر موجود ڈیوڈ وارنر سے وابستہ تھیں۔ دونوں کھلاڑیوں نے بجائے محتاط انداز کے جلد از جلد فتح کا رخ کرنے کی ٹھانی اور محض 7 اوورز میں 33 رنز جڑ ڈالےل لیکن اس مرتبہ ٹم ساؤتھی قہر بن کر ٹوٹ پڑے جنہوں نے ایک ہی اوور میں بریڈ ہیڈن اور پیٹر سڈل کو پویلین کا راستہ دکھا دیا اور اگلے ہی اوور میں بریسویل نے جیمز پیٹن سن اور مچل اسٹارک کو آؤٹ کر کے آسٹریلوی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔

آخری وکٹ پر ناتھن لیون نے ڈیوڈ وارنر کا کافی ساتھ دیا اور دونوں 34 رنز کا اضافہ کر کے آسٹریلیا کو ایک اعصاب شکن فتح کے قریب لے آئے لیکن ایک مرتبہ پھر بریسویل فتح کی راہ میں حائل ہو گئے جنہوں نے اپنے 17 ویں اوور کی چوتھی گیند پر ناتھن لیون کو بولڈ کر کے آسٹریلیا کا قصہ پاک کر دیا۔ ڈیوڈ وارنر نے 'بیٹ کیری' کرتے ہوئے ٹیسٹ مقابلوں میں بھی اپنی اہلیت ثابت کر دی۔ وہ 170 گیندوں پر 14 چوکوں کی مدد سے 123 رنز بنا کر ناقابل شکست رہے۔ وہ 18 سال بعد پہلے بلے باز ہیں جنہوں نے کسی ٹیسٹ مقابلے کی چوتھی اننگز میں 'بیٹ کیری' کیا ہو۔ 'بیٹ کیری' کی اصطلاح کرکٹ میں اس وقت استعمال کی جاتی ہے جب کوئی اوپنر اپنی ٹیم کے اننگز کے اختتام تک میدان میں موجود رہے اور دوسرے اینڈ سے تمام وکٹیں گر جائیں۔

بریسویل، جن کے بارے میں سیریز سے قبل نیوزی لینڈ کا کہنا تھا کہ وہ اہم کردار ادا کریں گے، نے توقعات پر پورا اتر کر اپنی اہلیت ثابت کر دی اور دوسری اننگز میں 6 وکٹیں حاصل کیں۔ مجموعی طور پر میچ میں 9 وکٹیں ان کے ہاتھ لگیں لیکن حیران کن طور پر انہیں میچ کا بہترین کھلاڑی قرار نہیں دیا گیا بلکہ آسٹریلیا کے لیے ناکام جدوجہد کرنے والے ڈیوڈ وارنر بہترین کھلاڑی قرار پائے جبکہ سیریز کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز جیمز پیٹن سن کو دیا گیا۔

مجموعی طور پر یہ میچ آسٹریلیا کے لیے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہ تھا۔ پہلی اننگز میں پیٹن سن کی عمدہ گیند بازی کی بدولت نیوزی لینڈ کو محض 150 رنز سے ٹھکانے لگانے کے بعد وہ مہمان پیس اٹیک کے سامنے محض 136 رنز پر ڈھیر ہو گیا اور یہ گزشتہ چند سالوں سے بلے بازی میں پیش کردہ آسٹریلیا کی ناقص ترین کارکردگی میں سے ایک تھی۔ سب سے زیادہ رنز گیند باز پیٹر سڈل نے 36 رنز کی صورت میں بنائے جبکہ ٹاپ اور مڈل آرڈر میں صرف دو بلے باز ڈیوڈ وارنر 15 اور مائیکل کلارک 22 رنز کے ساتھ دہرے ہندسے میں پہنچ پائے۔ بلے بازوں کی یہ ناقص کارکردگی بھارت کے خلاف بڑی سیریز سے قبل آسٹریلیا کے لیے ایک بدشگون ہے اور اس کارکردگی کے ذریعے وہ بڑی ٹیموں میں سے کسی کو بھی زیر نہیں کر پائے گا۔

ڈیوڈ وارنر کی 'بیٹ کیری' اننگز بھی آسٹریلیا کو شکست سے نہ نکال پائی البتہ میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز ان کے نام رہا (تصویر: Getty Images)

ڈیوڈ وارنر کی 'بیٹ کیری' اننگز بھی آسٹریلیا کو شکست سے نہ نکال پائی البتہ میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز ان کے نام رہا (تصویر: Getty Images)

نیوزی لینڈ کی جانب سے پیس ٹرائیکا کرس مارٹن، ٹرینٹ بولٹ اور ڈوگ بریسویل نے 3،3 وکٹیں حاصل کیں جبکہ ٹم ساؤتھی کو ایک وکٹ ملی۔

پہلی اننگز میں 14 رنز کی حیران کن برتری ملنے کے بعد دوسری اننگز میں روز ٹیلر کی قائدانہ اننگز نے آسٹریلیا کے لیے ایک مشکل ہدف ترتیب دیا۔ روز ٹیلر نے 169 گیندوں پر 56 رنز بنائے جبکہ کین ولیم سن نے 34 رنز بنا کر ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ آخری لمحات میں ٹرینٹ بولٹ کے 21 رنز نے بھی اسکور کو 200 کا نفسیاتی ہندسہ عبور کرنے میں مدد دی۔

آسٹریلیا کی جانب سے پیٹن سن، پیٹر سڈل اور ناتھن لیون نے 3،3 وکٹیں حاصل کیں جبکہ ایک وکٹ مائیکل ہسی کو ملی۔

آسٹریلیا کو 241 رنز کا ہدف ملا جس کے جواب میں اس کی اننگز کس طرح نشیب و فراز سے گزر کر منزل نے محض 7 قدموں کے فاصلے پر تھم گئی، اس کا احوال پیش کیا جا چکا ہے۔

کیونکہ آسٹریلیا نے گزشتہ ٹرانس-تسمان ٹرافی جیتی تھی اس لیے اعزاز بدستور اُسی کے پاس رہے گا لیکن اس یادگار فتح کے بعد نیوزی لینڈ کو کسی ٹرافی یا تمغے کی ضرورت نہیں ہوگی کیونکہ اس فتح کا نشہ ہی کافی ہے۔

آج سے 4 سال قبل کسی نے تصور بھی نہ کیا ہوگا کہ آسٹریلیا جیسی ٹیم جسے ناقابل شکست تصور کیا جاتا تھا، ایک روز نیوزی لینڈ جیسی کمزور ٹیم کے ہاتھوں اپنے ہی میدانوں میں شکست کھائے گی لیکن بلیک کیپس نے پہلے مقابلے میں شکست کے باوجود عمدہ واپسی کرتے ہوئے نہ صرف یہ مقابلہ جیتا بلکہ حیران کن طور پر سیریز بھی برابر کر ڈالی۔

اب آسٹریلیا شکستہ حوصلوں کے ساتھ عالمی نمبر دو بھارت کا سامنا کرے گا جس کی آدھی ٹیم پہلے ہی کینگروؤں کی سرزمین پر پہنچ چکی ہے جبکہ باقی دستوں کے بھی جلد آنے کا امکان ہے۔ دونوں کا پہلا معرکہ 26 دسمبر کو ملبورن میں روایتی باکسنگ ڈے ٹیسٹ سے ہوگا اور بلاشبہ یہ آسٹریلیا کی صلاحیتوں کا حقیقی امتحان ہوگا جو جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ کے خلاف مسلسل دو سیریز برابر کھیلنے کے بعد اب بھارت کے ہاتھوں شکست سے بچنے کی کوشش کرے گا۔

دوسری جانب نیوزی لینڈ اگلے ماہ پہلے زمبابوے اور پھر جنوبی افریقہ کے خلاف دو مکمل ہوم سیریز کھیلے گا اور یقیناً آسٹریلیا کے خلاف اس فتح نے نیوزی لینڈ کے لیے عالمی کرکٹ میں نئے سفر کا آغاز کیا ہوگا۔

اسکور کارڈ کچھ دیر میں ملاحظہ کریں

Facebook Comments