بنگلہ دیش نے دورۂ پاکستان پر رضامندی ظاہر کر دی

بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے اپریل 2012ء میں پاکستان کا دورہ کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا ہے اور اس سلسلے میں اگلے ماہ یعنی جنوری میں ایک ٹیم پاکستان بھیجنے کا اعلان کیا ہے جو پاکستان میں سیکورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کے بعد ٹیم کے دورۂ پاکستان کی منظوری دے گی۔ اس طرح پاکستان میں تین سال کے طویل عرصے کے بعد بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔

پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ مارچ 2009ء میں لاہور میں سری لنکن ٹیم پر ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد سے مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے اور اس کے بعد سے پاکستان اپنی 'ہوم سیریز' دیگر ممالک میں کھیل رہا ہے جن میں متحدہ عرب امارات اور انگلستان قابل ذکر تھے۔ البتہ رواں سال اعجاز بٹ کی جگہ ذکا اشرف کی بطور چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ تقرری اور پھر بین الاقوامی کرکٹ کونسل کی صدارت والے معاملے نے پاکستان کی بین الاقوامی کرکٹ سے محرومی کو نئی راہ دکھائی ہے۔

ذکا اشرف نے عہدہ سنبھالتے ہی ایک عظیم کارنامہ انجام دے دیا (تصویر: AP)

ذکا اشرف نے عہدہ سنبھالتے ہی ایک عظیم کارنامہ انجام دے دیا (تصویر: AP)

کہا جا رہا ہے کہ پاکستان اس دورے کے بدلے بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نائب صدارت کے حصول کے لیے بنگلہ دیشی امیدوار کی حمایت کرے گا۔ آئی سی سی کی روٹیشن پالیسی کے تحت اس مرتبہ باری پاکستان اور بنگلہ دیش کی ہے، جس کے لیے پاکستان نے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے چیئرمین مصطفیٰ کمال کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔

اس سلسلے میں ڈھاکہ میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ذکا اشرف اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے سربراہ مصطفیٰ کمال کے درمیان کامیاب مذاکرات ہوئے ہیں جس کے بعد بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے اعلامیہ جاری کر کے آئندہ سال اپریل میں دورۂ پاکستان پر رضامندی کا اعلان کردیا ہے ۔اعلامیہ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی کی نائب صدارت کے لیے مصطفیٰ کمال کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ دورے کو حتمی صورت دینے سے قبل بنگلہ دیش کی سیکیورٹی ٹیم اگلے ماہ یعنی جنوری میں پاکستان کا دورہ کرےگی۔

اس تاریخی موقع پر کرک نامہ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی سی بی ذکا اشرف نے کہا کہ آئی سی سی کی نائب صدرات بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کو دینے کا فیصلہ اکتوبر میں اعجازبٹ کے دور ہی میں کرلیا گیا تھا، لہٰذا یہ تاثر درست نہیں کہ نائب صدارت کی قربانی کے عوض بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی کا کوئی سودا کیا گیا ہے ۔ذکا اشرف نے کہا کہ موجودہ حالات میں بنگلہ دیش کی جانب سے دورہ پاکستان کا اعلان اطمینان بخش ہے کیونکہ دنیا کی کوئی بھی ٹیم پاکستان کے دورے پر تیار نہیں ہے اور ایسی صورتحال میں کسی بین الاقوامی ٹیم کا دورۂ پاکستان کے کرکٹ میدانوں کی رونقیں بحال کرنے کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ پاک بھارت کرکٹ تعلقات کی بحالی پر ذکا اشرف کا کہنا تھا کہ مستقبل میں پاک بھارت کرکٹ بحالی خارج از امکان نہیں ہے۔

دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین توقیر ضیا نے آئندہ سال اپریل میں بنگلہ دیش کے دورے کی خبر پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی سے زیادہ اہم کچھ نہیں ہے اور میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی کے لیے نائب صدرات کی قربانی کے فیصلے پر ذکا اشرف کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

Facebook Comments