[ریکارڈز] سال 2011ء کی بہترین ٹیسٹ ٹیمیں

سال 2011ء ٹیسٹ کرکٹ کے لیے ایک یادگار سال ثابت ہوا۔ گو کہ اس سال کا سب سے بڑا ایونٹ ایک روزہ عالمی کپ تھا لیکن اس کے باوجود ٹیسٹ کرکٹ کے کئی یادگار مقابلوں نے شائقین کے دل موہ لیے اور اس مفروضے کو غلط ثابت کر دیا کہ ٹیسٹ کرکٹ اب مر رہی ہے یا ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی کے تیز فارمیٹ سے اسے کوئی خطرہ لاحق ہے۔

سال کے بہترین مقابلوں میں آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کے درمیان کھیلے گئے دو ٹیسٹ (پہلا و دوسرا ٹیسٹ)، ویسٹ انڈیز کے دورۂ بھارت کا ممبئی ٹیسٹ، نیوزی لینڈ کے دورۂ زمبابوے کا واحد ٹیسٹ ایسے مقابلے ہیں جو شائقین کرکٹ کو مدت تک یاد رہیں گے جبکہ انگلستان کا اپنی سرزمین پر بھارت کو کلین سویپ کی ہزیمت سے دوچار کرنا اور پاکستان کا سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز جیتنا سال کے یادگار لمحات میں شمار ہوں گے۔

بھارت کا انگلستان کے خلاف کلین سویپ کی ہزیمت سے دوچار ہونا پڑوسی کے لیے سال کا سب سے عبرتناک لمحہ تھا

بھارت کا انگلستان کے خلاف کلین سویپ کی ہزیمت سے دوچار ہونا پڑوسی کے لیے سال کا سب سے عبرتناک لمحہ تھا

انگلستان کے لیے یہ سال بلاشبہ تاریخی رہا۔ طویل عرصے سے جدوجہد کرنے والا بابائے کرکٹ اس سال ایک ناقابل تسخیر ٹیم کی حیثیت سے نظر آیا۔ جس نے سال کے اوائل میں پہلے آسٹریلیا کو ایشیز سیریز میں اُسی کی سرزمین پر بدترین شکست دی اور پھر اپنے ہوم گراؤنڈ پر بھارت کے خلاف 4-0 سے زبردست فتح سمیٹتے ہوئے ٹیسٹ کی عالمی درجہ بندی میں پہلا نمبر حاصل کیا۔ انگلستان نے سال بھر میں 8 ٹیسٹ کھیلے جن میں سے 6 میں فتوحات حاصل کیں اور دو مقابلے ڈرا ہوئے اور یوں پورے سال ناقابل شکست رہا جبکہ دوسرے نمبر پر حیران کن طور پر پاکستان کی ٹیم ہے۔

2010ء میں اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں پھنسنے کے بعد پاکستان نے 2011ء میں بہت ہی عمدہ کارکردگی دکھائی۔ گو کہ اس کا مقابلہ سوائے سری لنکا کے کسی مضبوط ٹیم سے نہیں ہوا لیکن اس کی سب سے زبردست کارکردگی بھی سری لنکا کے خلاف ہی رہی، جس میں اس نے تینوں ٹیسٹ مقابلوں میں حریف کو سامنے ٹکنے تک نہ دیا۔ پاکستان نے سال بھر میں 10 ٹیسٹ کھیلے اور 6 میں جیت حاصل کی۔ اسے واحد شکست دورۂ ویسٹ انڈیز کے پہلے ٹیسٹ میں ہوئی جبکہ بقیہ 3 ٹیسٹ مقابلے ڈرا ثابت ہوئے۔ اس طرح پاکستان و انگلستان سال 2011ء کی بہترین ٹیمیں رہی اور اب یہی دونوں ٹیمیں 2012ء کا آغاز متحدہ عرب امارات میں 3 ٹیسٹ مقابلوں کی سیریز کھیل کر کریں گی۔

سال کی سب سے مایوس کن کارکردگی سری لنکا کی رہی جو اسپن جادوگر مرلی دھرن کی ریٹائرمنٹ کے بعد سے اب تک کسی ٹیسٹ میں کامیابی حاصل نہیں کر پایا۔ ایک روزہ میں عالمی کپ کے فائنل میں شکست اس کے لیے بہت ہی حوصلہ شکن ثابت ہوئی اور تمام سال ٹیم ہر طرز کی کرکٹ میں جدوجہد کرتی دکھائی دی۔ گو کہ سال کے اِن آخری ایام میں جنوبی افریقہ کے خلاف ایک ٹیسٹ کھیلے گا جس کا اختتام 30 دسمبر کو ہوگا، جہاں وہ سال کی واحد جیت حاصل کر سکتا ہے لیکن جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز کے پہلے ٹیسٹ میں اس سے جس ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کیا، اس سے یہ امید نہیں باندھی جا سکتی کہ وہ دوسرے ٹیسٹ میں اتنا زبردست کم بیک کر پائے گا۔ بہرحال، سری لنکا نے پورے سال میں 10 ٹیسٹ کھیلے جن میں سے 4 میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا اور باقی 6 مقابلے ڈرا رہے اور یوں پورا سال وہ فتح کے ذائقے سے بھی محروم رہا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اگلا سال اس کے لیے کیا لے کر آتا ہے۔ اگر وہ جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز کے بقیہ مقابلوں میں اچھی کارکردگی دکھاتا ہے تو توقع ہے کہ وہ اگلے سال کا آغاز پر اعتماد انداز میں کر سکے گا۔

ئیے اعداد و شمار پر مشتمل اس جدول کے ذریعے سال 2011ء میں ٹیسٹ میں ٹیموں کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہیں کہ فتوحات کے تناسب کے لحاظ سے وہ کس درجے پر فائز رہیں:

سال 2011ء: ٹیسٹ فتوحات کا تناسب

ملک مقابلے جیتے ہارے برابر ڈرا فتوحات کا تناسب
انگلستان 8 6 0 0 2 75.00 فیصد
پاکستان 10 6 1 0 3 60.00 فیصد
جنوبی افریقہ 4 2 1 0 1 50.00 فیصد
نیوزی لینڈ 5 2 2 0 1 40.00 فیصد
آسٹریلیا 8 3 3 0 2 37.50 فیصد
زمبابوے 3 1 2 0 0 33.33 فیصد
بھارت 11 3 4 0 4 27.27 فیصد
ویسٹ انڈیز 10 2 4 0 4 20.00 فیصد
سری لنکا 10 0 4 0 6 0.00 فیصد
بنگلہ دیش 5 0 4 0 1 0.00 فیصد

Article Tags

Facebook Comments