وارم اپ میچ: بھارتی اسپنرز نے کینگروز کو نچا کر رکھ دیا

عالمی کپ 2011ء کے سلسلہ میں جاری وارم اپ مقابلوں میں دو فیورٹ ٹیمیں بھارت اور آسٹریلیا مد مقابل آئیں۔ میچ میں تمام وقت آسٹریلوی ٹیم چھائی رہی تاہم آخری لمحات میں بھارتی اسپنرز نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مہمان ٹیم کی بیٹنگ لائن کو تہس نہس کردیا۔ ایک جانب سے بھارتی اسپنر پیوش چاؤلہ کی لیگ بریک نے آسٹریلوی مڈل آرڈر کو بریک کیا تو دوسری جانب ہربھجن سنگھ نے بھی بہترین گیند بازی کرتے ہوئے میچ کا پانسہ ٹیم کے حق میں پلٹ کر رکھ دیا۔

بھارتی گیند باز پیوش چاؤلہ (© گیٹی امیجز)

215ء رنز کے تعاقب میں آسٹریلیا نے ہدف کا برق رفتاری سے پیچھا کیا۔ اوپنر شین واٹسن (33) اور ٹم پین (37) نے 51 رنز کی بنیاد فراہم کی جسے کپتان رکی پونٹنگ (57) کی ذمہ دارانہ اننگ نے بڑی حد تک مضبوط کردیا۔ تاہم 118 کے مجموعی اسکور پر ہربھجن سنگھ کے ہاتھوں دوسری وکٹ گرنے کے ساتھ ہی آسٹریلوی بیٹنگ لائن کا زوال شروع ہوا۔ دوسرے اینڈ پر موجود نوجوان بھارتی اسپنر پیوش چاؤلہ نے سینئر اسپنر کا ساتھ دیتے ہوئے آسٹریلوی بلے بازوں پر یلغار کردی اور یکے بعد دیگر 4 مستند مڈل آرڈر بلے بازوں کو رخصت کردیا۔ دونوں اسپنرز کی زبردستی کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کینگروز کے آخری 8 کھلاڑی ٹیم کے اسکور میں صرف 58 رنز کا اضافہ کر سکے۔ 7 آسٹریلوی بلے باز انفرادی اسکور کو دہرے ہندسے میں داخل نہ کر سکے جن میں سے 3 آسٹریلوی بلے باز صفر پر آؤٹ ہوئے۔ پیوش چاؤلہ نے 9 اوورز میں 31 رنز کے عوض 4 کھلاڑی اور ہربھجن سنگھ نے 5 اوورز میں 15 رنز کے 3 کھلاڑیوں کو ٹھکانے لگایا۔ یوں پوری آسٹریلوی بیٹنگ 38ویں اوور میں صرف 176 پر ڈھیر ہوگئی۔

اس سے قبل بھارتی کپتان مہندر سنگھ دھونی نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا۔ گوتھم گھمبیر (6) کے جلد ہی رخصت ہو جانے کے بعد ورات کوہلی (21) نے اوپنر وریندر سہواگ کا ساتھ دیا۔ انجری مسائل سے نبٹنے کے بعد میدان میں واپس آنے والے سہواگ (54) نے ذمہ دارانہ اننگ کھیلی تاہم دوسرے اینڈ پر موجود کھلاڑی ایک کے بعد ایک پویلین لوٹتے گئے۔ سہواگ کی نصف سنچری کے بعد یوسف پٹھان (32) اور روی چندرن آشون (25) کے علاوہ کوئی بھارتی بلے باز آسٹریلوی بالنگ کا سامنا نہ کر سکا۔ خصوصاً بریٹ لی اور جان ہسٹنگ نے بھارتی بلے بازوں کو ہمہ وقت پریشان کیے رکھا۔ بریٹ لی نے 10 اوورز میں 35 رنز کے عوض 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کرتے ہوئے پوری بھارتی ٹیم کو 214 رنز پر رخصت کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

اس وارم اپ مقابلے میں بھارت نے دفاعی چیمپئن کو 38 رنز سے ہرا کر مستقبل میں اپنی فتوحات کی بنیاد رکھ دی ہے۔ چناسوامی اسٹیڈیم، بنگلور میں ہونے والے اس مقابلہ نے دونوں ٹیموں کے کئی کمزور پہلوؤں کو واضح کردیا ہے۔ ایک طرف بھارت کی مضبوط ترین سمجھی جانے والی بلے بازی قابل ذکر اسکور نہ بنا سکی تو دوسری طرف آسٹریلوی بیٹنگ لائن کپتان رکی پونٹنگ کی واپسی کے باوجود لڑ کھڑا گئی۔ میچ کے دوران بالنگ کے عمدہ مظاہرہ کے ساتھ ہی دونوں ٹیموں نے مخالف ٹیم کو بھرپور اضافی رنز سے بھی نوازا۔ آسٹریلوی گیند بازوں نے 25 وائڈ گیندوں سمیت کل 29 اضافی رنز دیے جبکہ بھارتی گیند بازوں نے کل 20 اضافی رنز دیے جن میں 11 وائڈ گیندیں بھی شامل ہیں۔

Facebook Comments