[ریکارڈز] سال 2011ء کے بہترین ٹیسٹ گیند باز

سال 2011ء کو ٹیسٹ کرکٹ میں گیند بازوں کا سال قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا، خصوصاً اسپنرز اور ڈیبوٹنٹس، یعنی ٹیسٹ کیریئر کا پہلا مقابلہ کھیلنے والے، باؤلرز نے اس سال حیران کن کارکردگی پیش کی ہے۔ اسپن گیند بازوں کی برتری تو اسی بات سے ظاہر ہے کہ سال میں سب سے زیادہ وکٹیں پاکستان کے سعید اجمل نے حاصل کیں جبکہ سال میں سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والے سرفہرست 10 گیند بازوں میں تین مزید اسپنرز بھی شامل ہیں۔

روی چندر آشون نے کیریئر کے پہلے ہی ٹیسٹ میں بہترین گیند بازی کی  اور بہترین کھلاڑی قرار پائے (تصویر: AFP)

روی چندر آشون نے کیریئر کے پہلے ہی ٹیسٹ میں بہترین گیند بازی کی اور بہترین کھلاڑی قرار پائے (تصویر: AFP)

رواں سال حیران کن طور پر کیریئر کا پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے 8 گیند بازوں نے پہلے ہی مقابلے میں اننگز میں 5 وکٹیں حاصل کرنے کا کارنامہ انجام دیا۔ ان میں نیوزی لینڈ کے ڈوگ بریسویل نے آسٹریلیا کے خلاف ٹیم کی تاریخی فتح میں مرکزی کردار ادا کیا، جبکہ آسٹریلیا کے جیمز پیٹن سن نے اسی سیریز کے پہلے ٹیسٹ میں نیوزی لینڈ کے 5 کھلاڑیوں کو زیر کر کے آسٹریلیا کو برتری دلائی تھی۔ ان سے قبل آسٹریلیا کے دورۂ جنوبی افریقہ کے دوران دو گیند بازوں نے ایسی ہی عمدہ کارکردگی دکھائی اور اپنی ٹیموں کی فتوحات میں اہم کردار ادا کیا یعنی آسٹریلیا کے پیٹرک کمنز اور پھر جنوبی افریقہ کے ویرنن فلینڈر، آسٹریلیا ہی کے ناتھن لیون نے قبل ازیں دورۂ سری لنکا میں میزبان ٹیم کے خلاف جبکہ بنگلہ دیش کے الیاس سنی نے پاکستان کے خلاف ٹیسٹ میں یہ کارنامہ انجام دیا۔

سال کے آخری ایام میں جنوبی افریقہ کے مرچنٹ دے لانگے نے سری لنکا کے خلاف ڈربن ٹیسٹ میں 8 وکٹیں حاصل کیں۔ لیکن سب سے یادگار ڈیبو بھارت کے روی چندر آشون کا رہا جنہوں نے پہلے ہی مقابلے میں 9 وکٹیں حاصل کر کے میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز حاصل کیا۔

بلاشبہ یہ سال پاکستان کے سعید اجمل کا تھا جنہوں نے پورے سال بہترین کارکردگی دکھائی۔ خصوصاً ویسٹ انڈیز کے خلاف سال کی مشکل ترین سیریز میں انہوں نے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ پاکستان کو سال کی واحد ٹیسٹ شکست کیریبین سرزمین پر ہی ہوئی تھی اس لحاظ سے یہ پاکستان کا سخت ترین دورہ کہلایا جا سکتا ہے۔ اس سیریز میں انہوں نے 17 وکٹیں حاصل کیں اور سیریز کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ اگلا سال گیند بازوں کے لیے کیا لے کر آتا ہے۔ ایک ایسا سال جس کا آغاز ہی پاکستان و انگلستان کے درمیان معرکہ آرائی اور آسٹریلیا و بھارت کی پنجہ آزمائي سے ہو رہا ہے۔ امید ہے کہ گیند باز اپنی کارکردگی کا تسلسل برقرار رکھتے ہوئے کھیل کے حسن کو مزید بڑھاوا دیں گے۔

سال 2011ء ٹیسٹ: سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے گیند باز

نام ملک مقابلے اوورز میڈنز رنز وکٹیں بہترین گیند بازی/اننگز بہترین گیند بازی/میچ اوسط
سعید اجمل پاکستان 8 487.0 112 1193 50 6/42 11/111 23.86
ایشانت شرما بھارت 12 487.5 100 1578 43 6/55 10/108 36.69
دیوندر بشو ویسٹ انڈیز 10 454.4 65 1413 39 5/90 8/152 36.3
عبد الرحمن پاکستان 8 412.0 116 946 36 4/51 7/97 26.27
جیمز اینڈرسن انگلستان 7 296.2 77 870 35 5/65 7/127 24.85
عمر گل پاکستان 8 287.5 47 873 34 4/61 8/148 25.67
اسٹورٹ براڈ انگلستان 7 270.2 63 736 33 6/46 8/76 22.30
فیڈل ایڈورڈز ویسٹ انڈیز 8 252.2 22 957 32 5/63 8/132 29.90
رنگانا ہیراتھ سری لنکا 9 419.4 87 1064 32 7/157 8/133 33.25
روی رامپال ویسٹ انڈیز 8 283.1 55 776 31 4/48 7/75 25.03

Facebook Comments