[ریکارڈز] سال 2011ء کے بہترین ایک روزہ گیند باز

کرکٹ اب بہت زیادہ بلے باز دوست یعنی بیٹسمین فرینڈلی کھیل بنتا جا رہا ہے۔ شائقین کی چھکے اور چوکے دیکھنے کی بڑھتی ہوئی خواہشوں اور 'ہائی اسکورنگ گیمز' کا چلن بلے باز دوست وکٹیں تخلیق کرنے کا سبب بن رہا ہے اس لیے اب گیند بازوں کو بہت زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے لیکن اس کے باوجود ایک چیز گیند بازوں کے حق میں جا رہی ہے، وہ ہے بلے بازوں کی بڑھتی ہوئی جارح مزاجی۔ جس کے باعث ایک تو وہ باؤلرز کو وکٹیں تھما دیتے ہیں وہیں مختصر طرز کی کرکٹ میں اسپنرز کا اہم بہت زیادہ ہو گیا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے سال 2011ء میں سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والے 10 میں سے 3 باؤلرز اسپنر ہی رہے۔

Lasith Malinga grabs 3rd ODI hat trick

لاستھ مالنگا ایک روزہ بین الاقوامی مقابلوں کی تاریخ میں پہلی بار تین ہیٹ ٹرک کرنے والے باؤلر بھی بنے (تصویر: AP)

گو کہ سری لنکا کے لیے ایک لحاظ سے یہ سال بہت زیادہ مایوس کن رہا۔ طویل طرز کی کرکٹ میں وہ تمام سال کی جدوجہد کے بعد کہیں جا کر آخری ایام میں ایک مقابلہ جیتنے میں کامیاب ہوا وہیں ایک روزہ کرکٹ میں بھی سوائے عالمی کپ کی عمدہ کارکردگی کے اس کے ریکارڈ پر بہت زیادہ فتوحات شامل نہیں۔ آسٹریلیا کے خلاف اپنی ہی سرزمین پر شکست، انگلستان سے سیریز ہارنا اور پھر سب سے زیادہ مایوس کن یہ کہ پاکستان کے خلاف سیریز میں بھی 4-1 کی ذلت آمیز شکست 2011ء کو سری لنکا کے لیے ایک لاحاصل سال قرار دینے کے لیے کافی تھی۔ عالمی کپ میں بھی فائنل میں پہنچ کر ہار جانا اس کے لیے کافی دل شکستہ لمحہ ہوگا۔ البتہ انفرادی سطح پر ایک روزہ کرکٹ میں سری لنکن کھلاڑیوں نے عمدہ کارکردگی دکھائی ہے۔ سال میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے 10 میں سے 4 بلے بازوں کا تعلق سری لنکا سے رہا تو وہیں گیند بازوں میں بھی سری لنکا کے لاستھ مالنگا سب سے زیادہ وکٹوں کے ساتھ سرفہرست رہے۔ انہوں نے 24 مقابلوں میں 19.25 کے شاندار اوسط سے 48 وکٹیں حاصل کیں۔ ان کی بہترین کارکردگی 38 رنز دے کر 6 وکٹیں حاصل کرنا رہی۔ مالنگا نے رواں سال تیسری ہیٹ ٹرک کرنے کا اعزاز بھی حاصل کیا اور یوں کرکٹ کی تاریخ کے واحد گیند باز بن گئے ہیں جنہوں ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ میں تین ہیٹ ٹرک کر رکھی ہیں۔

پاکستان کے شاہد آفریدی کے پاس بنگلہ دیش کے خلاف ایک روزہ سیریز میں اچھی کارکردگی پیش کر کے سرفہرست پوزیشن حاصل کرنے کا بہترین موقع تھا تاہم انہوں نے یہ موقع گنوا دیا اور یوں سال 2011ء میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے باؤلرز کی فہرست میں دوسرے نمبر پر رہے۔ شاہد نے 27 مقابلوں میں 20.82 کی اوسط سے 45 کھلاڑیوں کو اپنا نشانہ بنایا۔ 16 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کرنا ان کی بہترین کارکردگی رہی۔ حیران کن طور پر پاکستان کے دو مزید گیند باز بھی سال میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے گیند بازوں کی فہرست میں شامل ہیں اور اتفاق یہ کہ وہ بھی اسپنرز ہی ہیں یعنی کہ سعید اجمل اور محمد حفیظ۔ سعید اجمل نے 20 مقابلوں میں 34 جبکہ محمد حفیظ نے 32 مقابلوں میں 32 وکٹیں حاصل کر کے اس فہرست میں جگہ پائی ہے۔

اس کے علاوہ فہرست میں آسٹریلیا کے مچل جانسن اور بریٹ لی، بھارت کے مناف پٹیل اور ظہیر خان اور انگلستان کے ٹم بریسنن اور گریم سوان بھی موجود ہیں۔

سال 2011ء ایک روزہ: سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے گیندباز

نام ملک مقابلے اوورز میڈنز رنز وکٹیں رنز فی اوور بہترین گیندبازی اوسط
لاستھ مالنگا سری لنکا 24 192.1 12 924 48 4.80 6/38 19.25
شاہد آفریدی پاکستان 27 224.0 9 937 45 4.18 5/16 20.82
مچل جانسن آسٹریلیا 22 184.1 10 817 39 4.43 6/31 20.94
سعید اجمل پاکستان 20 166.4 17 581 34 3.48 4/35 17.08
بریٹ لی آسٹریلیا 19 156.1 10 717 33 4.59 4/15 21.72
محمد حفیظ پاکستان 32 229.0 15 811 32 3.54 3/27 25.34
مناف پٹیل بھارت 21 163.3 8 879 32 5.37 4/29 27.46
ٹم بریسنن انگلستان 24 210.2 10 1136 32 5.40 5/48 35.50
گریم سوان انگلستان 21 192.0 11 853 31 4.44 3/18 27.51
ظہیر خان بھارت 14 12.75 6 620 30 4.85 3/20 20.66

Facebook Comments