100 میل فی گھنٹہ

وہ عالمی کپ 2003ء میں 22 فروری کا دن تھا جب وہ لمحہ آن پہنچا جس کا مجھے مدتوں سے انتظار تھا۔ پاکستان نیولینڈز، کیپ ٹاؤن میں انگلستان کے مدمقابل ہوا تھا اور میچ کی ابتدائی لمحات ہی میں مجھے اندازہ ہوا کہ میں نے بیٹنگ کریز پر موجود بلے باز نک نائٹ کو غیر معمولی طور پر تیز گیند پھینکی ہے۔ تو میں نے اپنی رفتار کا مشاہدہ کرنا شروع کر دیا – وہ 90 کے وسط میں تھی۔ میں نے مزید محنت کی، اور اسپیڈ گن – جی ہاں باضابطہ یعنی آفیشل والی – نے 94 سے 97 میل فی گھنٹہ کی رفتار دینا شروع کر دی۔ پھر میں نے 99 میل فی گھنٹہ کو جا لیا، اب میں خود سے گویا ہوا، یہی موقع ہے، تم کر سکتے ہو، اپنی تمام تر قوت کے ساتھ دوڑو—اور ریکارڈ بنا ڈالو۔ وہ لمحہ، جس کا میں منتظر تھا، میرے دماغ میں جھماکےکے ساتھ آیا، میں کچھ دھیما ہوا۔ پہلے تومیں نے سوچا کہ کہیں میں کچھ غلط تو نہیں کر رہا اور میں نے اپنے رن اپ پر توجہ توجہ مرکوز کی –قدم کہاں رکھا، زقند کس طرح بھری۔ میں نے اندازہ لگایا کہ مسئلہ آخری چند گزوں میں ہے۔ میں نے مکمل توجہ کے ساتھ آخر تک اپنی رفتار برقرار رکھنے کی کوشش کی، چھلانگ ماری اور ہاتھ گھماتے ہوئے گیند کو چھوڑا اور 161.3 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند پھینکی؛ میں 100 میل فی گھنٹے کی رکاوٹ عبور کر چکا تھا۔ ایک مرتبہ پھر! میں نے پویلین کی طرف دیکھا اور وہاں بیٹھے لوگوں کی طرف اشارہ کیا، دیکھو، میں نے یہ دوبارہ کر ڈالا۔ اللہ کا واسطہ ہے اب اسے تسلیم کرو۔ اور انہوں نے ایسا کیا۔

(یہ اقتباس شعیب اختر کی سوانحِ عمری 'کنٹروورشلی یورز' سے ترجمہ کیا گیا ہے۔ اس کتاب کے دیگر ترجمہ شدہ اقتباسات یہاں سے پڑھے جا سکتے ہیں۔)

Facebook Comments