پاکستان سخت حریف ثابت ہوگا، سیریز کھیل کی حقیقی روح کے مطابق کھیلیں گے: اسٹراس

دنیائے کرکٹ میں سب سے زیادہ سخت حریف پاکستان و بھارت کو سمجھا جاتا ہے جن کے درمیان مقابلوں کو دنیا میں سب سے زیادہ دیکھے جانے والے میچز میں شمار کیا جاتا ہے لیکن حیران کن طور پر اِن دونوں ممالک کے درمیان کھیل میں اتنے تنازعات پیدا نہیں ہوتے جتنا کہ پاکستان اور انگلستان کے درمیان مقابلوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ معاملہ 1987ء کے گیٹنگ-شکور تنازع کا ہو، 1992ء کے بال ٹمپرنگ معاملے کا ہو یا 2006ء میں اوول کے میدان میں اٹھائی گئی رسوائی کا یا پھر 2010ء کا عظیم ترین اسپاٹ فکسنگ تنازع۔ کرکٹ کی تاریخ کے ان تمام بڑے قضیوں نے پاکستان و انگلستان کے درمیان سیریز میں جنم لیا۔ لیکن انگلستان کے کپتان اینڈریو اسٹراس تاریخ بدلنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور اِس امید کے ساتھ متحدہ عرب امارات پہنچ رہے ہیں کہ اِس مرتبہ پاک-انگلستان سیریز کھیل کی حقیقی روح کے مطابق کھیلی جائے گی۔

برصغیر میں جیت کر اپنی اہلیت ثابت کرنا چاہتے ہیں (تصویر: Getty Images)

برصغیر میں جیت کر اپنی اہلیت ثابت کرنا چاہتے ہیں (تصویر: Getty Images)

انگلستان کا ذرائع ابلاغ اور سابق کھلاڑی ہمیشہ کی طرح ایک مرتبہ پھر سیریز شروع ہونے سے قبل ہی تنازعات پیدا کرنے اور حریف ٹیم کے حوصلوں کو پست کرنے کے لیے میدان میں اتر چکے ہیں، اور اس مرتبہ انہوں نے وہاب ریاض کی شمولیت کو آڑے ہاتھوں لیا ہے جن کا نام سالِ گزشتہ میں اسپاٹ فکسنگ مقدمے کی سماعت کے متعدد بار سامنے آیا۔ مقدمے میں جس میں تین کھلاڑیوں سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر کو قید کی سزائیں سنائی گئی تھیں، وہاب ریاض کے علاوہ وکٹ کیپر کامران اکمل، اُن کے بھائی عمر اکمل اور اوپنر عمران فرحت کا نام بھی لیا گیا لیکن ان کھلاڑیوں کو نہ ہی عدالت کی جانب سے طلب کیا گیا اور نہ ہی بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے ان کے خلاف کوئی ایکشن لیا۔ اس لیے پاکستان ان کھلاڑیوں کو ٹیم میں شامل کرنے کے معاملے پر آزاد ہے لیکن انگلستان کے ذرائع ابلاغ اور سابق کھلاڑیوں کو تو تنازعات اٹھانے کا شوق ہے اور اس مرتبہ ان کی 'نظرِ کرم' وہاب ریاض پر ہے۔ یہ وہی وہاب ریاض ہیں جن کا اسپاٹ فکسنگ تنازع کے منظر عام پر آنے کے بعد گزشتہ دورۂ انگلستان میں انگلش کھلاڑی جوناتھن ٹراٹ کے ساتھ جھگڑا بھی ہوا تھا۔

بہرحال، اس تمام تر شور و غوغے کے باوجود پاکستان کے خلاف تین ٹیسٹ، چار ایک روزہ اور تین ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی مقابلے کھیلنے کے لیے متحدہ عرب امارات روانہ ہونے سے قبل لندن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انگلش قائد کا کہنا ہے کہ اُنہیں متحدہ عرب امارات میں سیریز کے لیے منتخب کردہ پاکستانی دستے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ سیریز کے لیے دستے کا انتخاب کرنا پاکستان کرکٹ بورڈ کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ "میرے خیال میں اب ہمیں اسپاٹ فکسنگ کے معاملات سے آگے بڑھنا چاہیے اور تمام تر توجہ اپنی کرکٹ پر مرکوز کرنی چاہیے۔" اسٹراس نے واضح الفاظ میں کہا کہ "پاکستان چاہے کسی بھی کھلاڑی کا انتخاب کرے، ہم اُس سے کھیلنے کے لیے تیار ہیں۔" گزشتہ تین دہائیوں سے مختلف تنازعات میں گھرے پاک-انگلستان تعلقات کو کاری ضرب 2010ء میں پاکستان کے دورۂ انگلستان کے موقع پر لگی جب برطانیہ کے ایک مصالحہ اخبار 'نیوز آف دی ورلڈ' نے پاکستان کے تین کھلاڑیوں کے اسپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے کا الزام لگایا جو بعد ازاں ثابت ہونے پر پہلے بین الاقوامی کرکٹ کونسل کی طویل پابندیوں کا نشانہ بنے اور اب بدعنوانی و دھوکہ دہی کے الزامات پر برطانیہ کی عدالت کی جانب سے سنائی گئی قید کی سزائیں بھگت رہے ہیں۔

تاہم سال 2011ء میں ناقابل شکست رہنے والی انگلش ٹیم کے قائد یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ کہ برصغیر میں انگلستان کا ریکارڈ قابل ذکر نہیں ہے، گو کہ پاکستان کے خلاف سیریز متحدہ عرب امارات میں ہے جہاں ہم اِس سے قبل کبھی نہیں کھیلے، لیکن وہاں کی صورتحال بھی برصغیر کے جیسی ہی ہے اس لیے ہم وہاں جیت کر اپنی اہلیت ثابت کرنا چاہتے ہیں اور پھر انہی بنیادوں پر ایشیا میں مستقل کامیابیاں سمیٹنا چاہتے ہیں۔ بلاشبہ یہ ایک سخت چیلنج ہے اور ہمیں تسلسل کے ساتھ وہاں کامیابیوں کے لیے اپنی تمام مہارتوں کو استعمال کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس منزل کو پانے میں ہماری راہ کا پہلا چیلنج پاکستان ہے اور انگلستان کو خود کو حقیقی نمبر ون بنانے کے لیے تمام صورتحال اور مقامات پر خود کو کامیاب ثابت کرنا ہوگا۔

اینڈریو اسٹراس نے کہا کہ پاکستان کچھ عرصے سے بہت اچھی کرکٹ کھیل رہا ہے اور اِن کنڈیشنز میں ہمارے لیے چیلنجز پیدا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان کرکٹ سیریز ہمیشہ کسی نہ کسی تنازع میں الجھی ہے اور میرے خیال میں یہ تاثر ختم کرنے کا یہ بہترین موقع ہے۔ پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی گزر چکا ہے اور مجھے امید ہے کہ اگر دونوں ٹیمیں کھیل کو اس کی حقیقی روح کے مطابق کھیلیں تو دونوں ممالک کے کرکٹ تعلقات بہتری کی جانب گامزن ہو سکتے ہیں جو بحیثیت مجموعی دنیائے کرکٹ کے لیے بھی اچھے ثابت ہوں گے۔

اسٹراس نے کہا کہ پاکستان کا باؤلنگ اٹیک بہت متاثر کن ہے۔ اچھے و معیاری گیند باز ہمیشہ پاکستان کی پہچان رہے ہیں اور خاص طور پر متحدہ عرب امارات جیسی کنڈیشنز میں سعید اجمل اچھی کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حریف ٹیم کی 20 وکٹیں لینا کلیدی کردار ادا کرے گا، اور انگلستان کا متوازن باؤلنگ اٹیک اس کی پوری صلاحیتیں رکھتا ہے۔ گزشتہ دو سالوں کی مستقل کارکردگی کے بعد مجھے پوری توقع ہے کہ انگلش باؤلرز ایک مرتبہ پھر ویسی ہی کارکردگی دہرائیں گے۔

پاکستان کے تین کھلاڑیوں سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر کو ملنے والی قید کی سزاؤں کا حوالہ دیتے ہوئے اینڈریو اسٹراس کا کہنا تھا کہ اپنے ساتھی کرکٹرز کو قید خانے میں دیکھنا مایوس کن ضرور ہے لیکن ان سزاؤں نے سختی کے ساتھ دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ کرکٹ کے کھیل میں اس طرح کی حرکتوں کی کوئی جگہ نہیں ہے۔

انگلستان نے آخری مرتبہ 11 سال قبل آخری مرتبہ برصغیر میں ناصر حسین کی زیر قیادت ٹیسٹ سیریز جیتی تھیں جب اس نے کراچی کے مشہور ٹیسٹ میں پاکستان کو شکست دی اور پھر سری لنکا کو بھی اسی کی سرزمین پر زیر کیا۔ اس کے بعد سے انگلستان برصغیر میں سیریز فتح سے محروم رہا ہے۔ آخری مرتبہ یعنی 2005ء میں جب انگلستان کھیلنے کے لیے پاکستان آیا تو اسے انضمام الحق کی زیر قیادت پاکستان کے ہاتھوں ٹیسٹ اور ایک روزہ دونوں طرز کے مقابلوں میں بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

17 جنوری کو دبئی میں پہلے ٹیسٹ سے قبل انگلستان دو ٹور میچز کھیلے گا جن میں سے پہلا مقابلہ 7 جنوری سے ایسوسی ایٹس اینڈ ایفی لیٹس الیون کے خلاف ہوگا جبکہ دوسرا مقابلہ 11 جنوری سے پی سی الیون کے خلاف کھیلا جائے گا۔

Facebook Comments