پاکستان میں سب کچھ ہے، لیکن قدر نہیں!

میرے ملک کو دیکھئے۔ پاکستان کے پاس کیا کچھ نہیں ہے؟ کس چیز کی کمی ہے؟ ہمارا چاول بڑا ہے؛ اپنی فصلوں کو کاشت کرنے کے لیے ہمیں میٹھا پانی میسر ہے۔ ہماری پچھتر فیصد زمین زراعت کے قابل ہے اور ہمارے تمام لوگوں کے لیے خوراک کا بندوبست کر سکتی ہے۔ پاکستان صرف اپنا اعلیٰ معیار کا کوئلہ فروخت کر کے قرضوں سے آزاد ہو سکتا ہے ہمارے پاس تیل، کوئلہ، دریا، سمندر اور قدرتی بندرگاہیں ہیں۔ ہمارے کھانے لذیذ، ہمارے آم میٹھے اور ہمارے لوگ باصلاحیت ہیں۔ ہمیں اور کیا چاہیے؟ اگر مجھ سے پوچھیں تو میں کہوں گا کہ پاکستان کے پاس سب کچھ ہے سوائے قدر کے۔ اللہ نے ہمیں رحمتوں اور زحمتوں دونوں سے نوازا ہے، زحمت یہ کہ ہم کبھی بھی اپنی قدر نہ کریں، چاہے سیاست ہو یا کھیل۔ بے نظیر کو قتل کر دیا گیا - جو کوئی قوم کے لیے اچھا کرنا چاہتا ہے ختم کر دیا جاتا ہے۔ ہم نے اسکواش اور ہاکی میں غیر معمولی کھلاڑی پیدا کیے اور تواتر کے ساتھ کرکٹ کے بہترین کھلاڑی دنیا کو دیے۔ ہماری اسی فیصد آبادی، یعنی سڑک پر موجود عام آدمی، ہمیں دل کی گہرائیوں سے چاہتا ہے لیکن اختیار و طاقت رکھنے والے بیس فیصد افراد کو کوئی پروا نہیں ہے۔ میں نے ملکی تاریخ کے دس بہترین کرکٹرز کے بارے میں پڑھا اور معلوم ہوا کہ اُن میں سے کوئی بھی ایسا نہیں تھا جسے کسی نہ کسی تنازع میں نہ گھسیٹا گیا ہو۔ یونس خان نے 2009ء میں ہمیں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جتایا اور اس کا خمیازہ اُنہیں جبری مقدمات کو بھگتنے کی صورت میں ملا۔

حتیٰ کہ عمران خان بھی۔ ان کے پائے کی شخصیت کسی بھی ملک کے لیے ایک عظیم نعمت ہے۔ انہوں نے ایک جامعہ بنائی، شوکت خانم ہسپتال بنایا؛ انہوں نے پاکستان کے عوام کے لیے بہت کچھ کیا۔ اس کے جواب میں لوگوں نے دل کی گہرائیوں سے انہیں محبت دی، میں نے لوگوں کو دعائیں کرتے سنا ہے کہ 'اے اللہ، عمران پر رحمت برسا اور ان کے تمام گناہوں کو بخش دے، اگر ان سے کوئی غلطی ہوئی بھی ہے تو اسے معاف فرما، کیونکہ انہوں نے بہت اچھے کام بھی کیے ہیں۔' انہوں نے ایک ایجوکیشن سٹی بنایا اور کئی غریب افراد کو ملازمت اور صحت عامہ کی سہولیات اُنہی کی وجہ سے مل رہی ہے، لیکن اُن کے ساتھ لاپروا طبقے کی جانب سے کیا برتاؤ کیا گیا؟ 2007ء میں جامعہ پنجاب کے سیاسی بدمعاش عناصر نے انہیں مارا – بچوں کو اُنہیں مارنے پر اکسایا گیا۔ کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ ایسا کوئی واقعہ سرحد کے اُس پار پیش آئے، اُس مقام سے محض تیس منٹ کی ڈرائیو کے فاصلے پر جہاں عمران سے ایسا سنگ دلانہ برتاؤ کیاگیا؟ کیا کوئی تصور کر سکتا ہے کہ بھارت میں سچن ٹنڈولکر کے ساتھ ایسا کچھ ہو؟ کیا یہ ممکن ہے کہ سچن ٹنڈولکر یا راہول ڈریوڈ نے کبھی کوئی غلطی نہ کی ہو؟ لیکن اُن کی حفاظت کی جاتی ہے کیونکہ وہ قومی ورثہ ہیں جو ایسے ملک سے تعلق رکھتے ہیں جس کے لیے یہ کھلاڑی قومی فخر کا احساس ہیں۔ بھارت کا چہرہ ایشوریا رائے، سچن ٹنڈولکر، امیتابھ بچن ہیں۔ پاکستان کا چہرہ تنازعات ہیں۔ اس معاملے میں ہم انوکھے ہیں۔

(یہ اقتباس شعیب اختر کی سوانحِ عمری 'کنٹروورشلی یورز' سے ترجمہ کیا گیا ہے۔ اس کتاب کے دیگر ترجمہ شدہ اقتباسات یہاں سے پڑھے جا سکتے ہیں۔)

Facebook Comments