عالمی کپ 2011ء کون جیتے گا؟ (تیسرا / آخری حصہ)

کرکٹ کا 10واں عالمی میلہ شروع ہونے میں اب صرف 3 دن باقی ہیں۔ ہم نے اس عالمی کپ کے لیے فیورٹ قرار دی جانے والی ٹیموں آسٹریلیا اور بھارت کے علاوہ جنوبی افریقہ اور سری لنکا کے عالمی چیمپئن بننے کے امکانات کا بھی جائزہ لیا۔ اس سلسلے کے آخری حصہ میں ہم بات کریں گے انگلستان اور گرین شرٹس پاکستان کی۔

بابائے کرکٹ : انگلستان

اب ذکر کرتے ہیں اس ٹیم کا جو 2010ء میں ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ جیتنے کے بعد سے فتوحات کے جھنڈے گاڑتی آ رہی ہے یعنی انگلستان۔ اسے اس کی بدقسمتی کہیں یا کچھ اور کہ عالمی کپ میں شاندار ریکارڈ رکھنے والا انگلستان اب تک اعزاز کے حصول سے محروم رہا ہے۔

پہلے عالمی کپ میں سیمی فائنل اسے آسٹریلیا سے شکست ہوئی تو دوسرے عالمی کپ کے فائنل میں اسے ویسٹ انڈیز سے زیر کیا۔ تیسرے عالمی کپ میں اسے سیمی فائنل میں بھارت سے شکست کھانا پڑی تو چوتھے عالمی کپ کے فائنل میں اسے آسٹریلیا نے ایک بار پھر اسے زیر کر لیا۔ 1992ء کے عالمی کپ میں بھی انگلستان فائنل تک پہنچا جہاں ایک مرتبہ پھر شکست اس کا مقدر تھی۔ اس مرتبہ چمپیئن پاکستان بنا۔

1996ء میں اس کی پیش قدمی کوارٹر فائنل میں سری لنکا کے ہاتھوں تھم گئی جو بعد ازاں عالمی چمپیئن بنا۔ 1999ء میں ہوم گراؤنڈ اور کراؤڈ کا دباؤ برداشت نہ کر سکا اور سپر سکس مرحلے تک بھی رسائی نہ ملی۔ 2003ء کے عالمی کپ میں پہلے زمبابوے کے ہاتھوں شکست اور پھر بھارت اور آسٹریلیا کے ہاتھوں پے در پے ہار نے اسے عالمی کپ کی دوڑ سے باہر کر دیا۔ 2007ء میں اسے تمام اہم میچز میں شکست ہوئی اور وہ محض بے بی ٹیموں کے خلاف میچ جیت پایا اور سپر 8 مرحلے سے آگے رسائی حاصل نہ کر سکا۔

انگلستان کی حالیہ فارم بھی بہت شاندار نہیں ہے۔ اس نے بنگلہ دیش جیسے کمزور حریف اور پھر آسٹریلیا کو ہوم گراؤنڈ پر زیر کرنے کے بعد اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل سے بے حال پاکستان کے خلاف بھی سیریز بمشکل ہی جیتی۔ بعدازاں آسٹریلوی سرزمین پر میزبان ٹیم کے ہاتھوں اسے 6-1 کی سخت ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔ اس فارم کے ساتھ انگلستان کا عالمی کپ میں اچھی کارکردگی پیش کرنا مشکل ہے۔ خصوصاً آسٹریلیا کے خلاف حالیہ بدترین شکست نے اس کے حوصلوں کو کمزور کر دیا ہے اس پر طرہ اہم کھلاڑیوں کا زخمی ہونا ہے۔ اس لیے فیورٹ ٹیموں میں انگلستان کے امکانات سب سے کم دکھائی دیتے ہیں۔ اس کے باوجود کرکٹ کے پنڈتوں میں جیفری بائیکاٹ اور ڈنکن فلیچر نے دیگر ٹیموں کے ساتھ انگلستان کے جیتنے کے امکانات کو بھی روشن قرار دیا ہے۔

پاکستان : The Unpredictable

دوسری جانب پاکستان ہے جسے دنیائے کرکٹ کی سب سے unpredictable ٹیم کہا جاتا ہے۔ 2007ء میں عالمی کپ میں بدترین شکست اور بعد ازاں انضمام الحق کی ریٹائرمنٹ کے بعد ٹیم کا شیرازہ بکھر چکا ہے اور چار سالوں سے ٹیم اچھی کارکردگی دکھانے کو ترس رہی ہے۔

یونس خان کی قیادت میں ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ جیتنے کے بعد محسوس ہوتا تھا کہ پاکستان پرانی فارم میں واپس آ جائے گا لیکن کرکٹ بورڈ اور کپتان کے درمیان اختیارات کے تنازعات اور ریشہ دوانیوں نے ایک مرتبہ پھر ٹیم کو شدید متاثر کیا۔ رہی سہی کسر گزشتہ سال دورۂ آسٹریلیا میں تمام میچز میں شکست اور دورۂ انگلستان میں اسپاٹ فکسنگ الزامات نے پوری کر دی۔ اس کے باوجود ایک روزہ مقابلوں میں پاکستان نے حالیہ چھ ماہ کے دوران قدرے بہتر کارکردگی پیش کی ہے۔ انگلستان اور جنوبی افریقہ جیسی مضبوط ٹیموں کے خلاف سیریز سخت مقابلے کے بعد ہاری اور نیوزی لینڈ کے خلاف حالیہ سیریز میں شاندار فتح اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ دنیائے کرکٹ پاکستان کی فتح کو خارج از امکان قرار نہ دے۔

پاکستان 1987ء کے عالمی کپ میں بھارت کے ساتھ میزبان بھی تھا اور فیورٹ بھی لیکن بھارت ہی کی طرح سیمی فائنل میں لڑکھڑا گیا، دونوں میزبان ٹیمیں منہ تکتی رہ گئیں اور عالمی کپ آسٹریلیا لے اڑا، جس کے چمپیئن بننے کا کوئی امکان نہ تھا۔ 1992ء میں قسمت کی مہربانیوں اور عمران خان کی ولولہ انگیز قیادت کے نتیجے میں ٹورنامنٹ سے باہر ہوتے ہوتے بچے اور سیمی فائنل اور فائنل میں شاندار آل راؤنڈ کارکردگی پیش کر کے پہلی بار عالمی کپ جیتا۔ 1996ء میں کوارٹر فائنل تک پہنچے اور روایتی حریف بھارت کے ہاتھوں ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئے۔

1999ء میں پاکستانی ٹیم سب سے زیادہ فیورٹ تھی۔ وسیم اکرم، سعید انور، ثقلین مشتاق، انضمام الحق، معین خان اور دیگر لیجنڈری کھلاڑی ٹیم کا حصہ تھے۔ سوائے بنگلہ دیش کے خلاف افسوسناک شکست کے بحیثیت مجموعی ٹیم نے بہت شاندار کارکردگی دکھائی اور فائنل تک رسائی حاصل کی۔ جہاں اسے عالمی کپ کی تاریخ کی شرمناک ترین شکست ہوئی۔ 2003ء اور 2007ء دونوں ورلڈ کپس میں پہلے مرحلے کے بعد ہی ٹیم واپسی کا ٹکٹ تھامے گھر پہنچ گئی۔ یوں اس کی ورلڈ کپ میں حالیہ فارم تو بہت بری ہے لیکن جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ پاکستان کے لیے کوئی پیش گوئی کرنا ممکن نہیں، اس لیے حالیہ کارکردگی کو دیکھا جائے تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ اگر قسمت اہم میچز میں ساتھ دے تو وہ عالمی کپ جیت سکتا ہے۔

نتیجہ

موجودہ صورتحال دیکھ کر ہمیں بھارت اور سری لنکا کے جیتنے کے امکانات سب سے زیادہ لگتے ہیں اور ان کا سب سے بڑا حریف آسٹریلیا ثابت ہوگا۔ یوں سیمی فائنل میں بھارت، سری لنکا، آسٹریلیا اور مذکورہ بالا ٹیموں میں سے کوئی ایک پہنچے گی۔ اگر حقیقتاً دنیائے کرکٹ کی مجموعی صورتحال دیکھی جائے تو اسٹیو واہ کا بیان سب سے مناسب لگتا ہے کہ اس وقت سات ٹیمیں عالمی کپ جیتنے کی اہل ہیں اور ان میں سے کوئی بھی یہ اعزاز حاصل کر سکتا ہے۔ دوسری طرف عمران خان نے بھی 6 ٹیموں میں سے کسی ایک کی بھی فتح کی پیش گوئی کی ہے۔ تاہم اپنے وقت کے دونوں عظیم کھلاڑیوں نے میزبان بھارت کے امکانات کو سب سے زیادہ قرار دیا ہے۔

Article Tags

Facebook Comments