[ریکارڈز] ٹیسٹ کرکٹ کی تیز ترین سنچریاں

آسٹریلیا کے شعلہ فشاں بلے باز ڈیوڈ وارنر، جنہیں عرصہ دراز سے محض ٹی ٹوئنٹی طرز کی کرکٹ کا کھلاڑی مانا جاتا تھا، کو کچھ عرصہ قبل ہی ٹیسٹ کرکٹ میں ملک کی نمائندگی کا موقع ملا ہے۔ انہوں نے حال ہی میں نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلے گئے کیریئر کے دوسرے ٹیسٹ میں ہی سنچری داغ کر طویل طرز کی کرکٹ میں اپنی اہلیت ثابت کر دی لیکن ہوبارٹ ٹیسٹ میں آسٹریلیا کی شکست نے ان کی سنچری کا مزا کرکرا کر دیا۔

اب آسٹریلیا اور بھارت کے درمیان جاری سیریز کے اولین دونوں مقابلوں میں ناکامی کے بعد پرتھ میں جاری تیسرے ٹیسٹ میں ڈیوڈ وارنر نے ایک شاندار کارنامہ انجام دے کر اپنا نام ویوین رچرڈز، ایڈم گلکرسٹ اور جیک گریگری جیسے عظیم بلے بازوں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔ جی ہاں! ڈیوڈ وارنر نے بھارت کے بدنام زمانہ 'کمزور' باؤلنگ اٹیک کو آڑے ہاتھوں سے لیتے ہوئے اس کے خلاف محض 69 گیندوں پر سنچری بنا ڈالی ہے۔ جو ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کی چوتھی تیز ترین سنچری ہے۔

'سووووپر مین' ڈیوڈ وارنر (تصویر: Getty Images)

'سووووپر مین' ڈیوڈ وارنر (تصویر: Getty Images)

انتہائی مشہور بلے بازوں پر مشتمل بھارتی بیٹنگ لائن اپ کے محض 161 رنز پر ڈھیر ہو جانے کے بعد آسٹریلیا نے پہلے روز کے اختتام پر ڈیوڈ وارنر کی اسی اننگز کی بدولت بغیر کسی وکٹ کے نقصان کے صرف 23 اوورز میں 149 رنز بنا لیے ہیں ۔ ڈیوڈ وارنر کی 69 گیندوں پر بنائی گئی سنچری اننگز میں 13 چوکے اور تین بلند و بالا چھکے شامل تھے۔ پرتھ ٹیسٹ میں پہلے روز کے اختتام پر ڈیوڈ وارنر 80 گیندوں پر 104 رنز کے ساتھ ناقابل شکست ہیں۔

اس وقت تیز ترین ٹیسٹ سنچری کا اعزاز ویسٹ انڈیز کے عظیم بلے باز ویوین رچرڈز کو حاصل ہے جنہوں نے اپریل 1986ء میں سینٹ جانز، اینٹی گا میں انگلستان کے خلاف سیریز کے پانچویں ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں محض 56 گیندوں پر سنچری اسکور کی تھی۔ رچرڈز نے مجموعی طور پر 58 گیندوں پر 110 رنز بنائے اور ناقابل شکست رہے۔ بعد ازاں ویسٹ انڈیز نے مذکورہ ٹیسٹ جیت کر ڈیوڈ گاور کی زیر قیادت انگلش ٹیم کو 5-0 کی ذلت آمیز شکست سے دوچار کیا تھا، جسے 'بلیک واش' کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا!

اس فہرست میں دوسرا نام آسٹریلیا کے جارح مزاج وکٹ کیپر بیٹسمین ایڈم گلکرسٹ کا ہے جنہوں نے اسی میدان یعنی پرتھ میں دسمبر 2006ء کو انگلستان کے خلاف ایشیز کے تیسرے ٹیسٹ میں محض 57 گیندوں پر سنچری اسکور کی۔ گلکرسٹ نے 2005ء میں انگلستان کی تاریخی ایشیز فتح کے گن گن کے بدلے لیے اور میٹ ہوگارڈ، اینڈی فلنٹوف، اسٹیو ہارمیسن اور دیگر انگلش گیند بازوں پر مشتمل اسی باؤلنگ اٹیک کو دن میں تارے دکھا دیے۔ 'گلی ' نے مجموعی طور پر 59 گیندوں پر 4 چھکوں اور 12 چوکوں کی مدد سے 102 رنز بنائے جس کے فوراً بعد آسٹریلیا نے 527 رنز پر اننگز ڈکلیئر کر دی اور انگلستان کو فتح کے لیے 557 رنز کا ریکارڈ ہدف دیا جسے حاصل کرنے وہ ناکام رہا اور 350 رنز پر ڈھیر ہو گیا۔ یوں آسٹریلیا نے 5 ٹیسٹ مقابلوں کی سیریز کے ابتدائی تینوں مقابلے جیت کر ایشیز اپنے نام کر لیا۔ بعد ازاں آسٹریلیا نے اگلے دونوں مقابلے بھی جیتے اور انگلستان کو ہزیمت آمیز شکست دے کر طویل عرصے بعد ملنے والے ایشیز اعزاز سے محروم کر دیا۔

تیسری تیز ترین سنچری آسٹریلیا کے جیک گریگری کی تھی جنہوں نے یہ اعزاز 67 گیندوں پر حاصل کیا۔ یہ اننگز اس لحاظ سے زیادہ اہم ہے کہ یہ اس زمانے میں کھیلی گئی جب کرکٹ میں برق رفتاری سے بلے بازی کرنے کا تصور تک نہ تھا یعنی 1921ء میں جوہانسبرگ کے قدیم وینڈررز اسٹیڈیم میں۔ گریگری نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے والے آسٹریلیا کی جانب سے 2 چھکوں اور 19 چوکوں کی مدد سے 85 گیندوں پر 119 رنز بنائے۔ یہ اننگز اس لحاظ سے بھی سب سے منفرد ہے کہ اس میں گریگری نے محض 70 منٹ میں سنچری اسکور کی جو کرکٹ کی تاریخ کی سب سے کم وقت میں بنائی گئی سنچری ہے اور آج 90 سال گزرنے کے باوجود یہ ریکارڈ جوں کا توں موجود ہے۔ بہرحال، اس ریکارڈ ساز اننگز کی بدولت آسٹریلیا نے پہلی اننگز میں 450 رنز بنا ڈالے۔ تاہم یہ مقابلہ جنوبی افریقہ کے فالو آن کا شکار ہونے کے بعد زبردست فائٹ بیک کے باعث بھی یاد کیا جاتا ہے جب اتنے بڑے مجموعے کے تعاقب میں جنوبی افریقہ پہلے 243 پر آؤٹ ہو گیا اور پھر فالو آن کرتے ہوئے چارلی اور ڈیوڈ نورس کی سنچری اننگز کی بدولت 472 رنز بنانے اور میچ کو ڈرا کرنے میں کامیاب ہوگیا۔

گو کہ دنیا بھر میں پرتھ کی شہرت اس کی تیز پچ کی وجہ سے ہے لیکن حیران کن طور پر ٹیسٹ کرکٹ کی 10 برق رفتار سنچریوں میں سے 4 اسی میدان پر بنائی گئیں جن میں مذکورہ بالا گلکرسٹ اور وارنر کی سنچریوں کے کرس گیل اور رائے فریڈرکس کی تہرے ہندسے کی اننگز بھی شامل ہیں۔

تیز ترین سنچری بنانے والے بلے بازوں میں پاکستان کے 'جنٹل مین' ماجد خان بھی شامل ہیں جنہوں نے نومبر 1976ء میں نیوزی لینڈ کے خلاف کراچی ٹیسٹ میں مہمان باؤلرز کو خوب دھویا اور صرف 74 گیندوں پر اپنی سنچری مکمل کی۔ مذکورہ مقابلہ جاوید میانداد کی ڈبل سنچری کے باعث بھی مشہور ہے، جس کی بدولت میانداد کرکٹ کی تاریخ کے کم عمر ترین ڈبل سنچورین بنے تھے۔ اس وقت جاوید کی عمر 19 سال 141 دن تھی۔ بہرحال، نیوزی لینڈ کے زبردست فائٹ بیک کے باعث یہ مقابلہ بغیر کسی نتیجے تک پہنچے ختم ہو گیا تھا۔

ویسے اگر انفرادی اننگز کے کسی بھی مرحلے میں کم ترین گیندوں پر 100 رنز بنانے کی بات کی جائے تو نیوزی لینڈ کے ناتھن آسٹل بلاشبہ سب سے آگے ہیں، جنہوں نے مارچ 2002ء میں انگلستان کے خلاف کرائسٹ چرچ ٹیسٹ میں ڈبل سنچری اننگز کے دوران 101 سے 200 رنز تک پہنچنے کے لیے صرف اور صرف 39 گیندیں استعمال کیں۔ حیران کن طور پر اس معجزاتی کارکردگی کے باوجود وہ نیوزی لینڈ کو فتح سے ہمکنار نہ کر پائے اور 550 رنز کے تعاقب میں نیوزی لینڈ 451 رنز پر ہی ڈھیر ہو گیا اور میچ انگلستان 98 رنز سے جیت گیا۔

آئیے ملاحظہ کرتے ہیں کہ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کی تیز ترین سنچری اننگز کون کون سی ہیں؟

کم ترین گیندوں پر سنچری بنانے والے بلے باز

نام ملک گیندیں بمقابلہ بمقام بتاریخ
ویوین رچرڈز ویسٹ انڈیز 56 انگلستان سینٹ جانز اپریل 1986ء
ایڈم گلکرسٹ آسٹریلیا 57 انگلستان پرتھ دسمبر 2006ء
جیک گریگری آسٹریلیا 67 جنوبی افریقہ جوہانسبرگ نومبر 1921ء
شیونرائن چندرپال ویسٹ انڈیز 69 آسٹریلیا جارج ٹاؤن اپریل 2003ء
ڈیوڈ وارنر آسٹریلیا 69 بھارت پرتھ جنوری 2012ء
کرس گیل ویسٹ انڈیز 70 آسٹریلیا پرتھ دسمبر 2009ء
رائے فریڈرکس ویسٹ انڈیز 71 آسٹریلیا پرتھ دسمبر 1975ء
ماجد خان پاکستان 74 نیوزی لینڈ کراچی نومبر 1976ء
کپل دیو بھارت 74 سری لنکا کانپور دسمبر 1986ء
محمد اظہر الدین بھارت 74 جنوبی افریقہ کولکتہ دسمبر 1996ء

Facebook Comments