بالآخر جنوبی افریقہ ہوم سیریز جیت گیا، کیلس کی ڈبل سنچری

جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز کو برابر کرنے کے بعد فیصلہ کن معرکے میں سری لنکا ایک مرتبہ پھر ناقص کارکردگی کا شکار بن گیا اور میزبان نے گیند بازی کے ساتھ ساتھ بلے بازی میں بھی اپنی مہارت کا بھرپور ثبوت دیتے ہوئے تیسرا ٹیسٹ 10 وکٹوں سے جیت کر تین سال کے بعد ہوم گراؤنڈ پر پہلی سیریز جیت لی۔

سری لنکا کا ٹاس جیت کر فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ انتہائی ناقص ثابت ہوا کیونکہ جنوبی افریقہ نے 56 رنز پر دو وکٹیں گنوانے کے باوجود اپنا 150 واں ٹیسٹ کھیلنے والے ژاک کیلس اور ان کے ساتھی ابراہم ڈی ولیئرز کی شاندار بلے بازی کی بدولت 580 رنز کا اتنا بڑا مجموعہ حاصل کر لیا کہ مشکلات سے دوچار سری لنکا کے خلاف اس دباؤ کو برداشت کرنا مشکل ہو گیا۔ اگر دوسری اننگز میں تھیلان سماراویرا سنچری نہ داغتے تو سری لنکا کو یقینی طور پر اننگز سے شکست ہوتی تاہم سماراویرا کے 115 اور اینجلو میتھیوز کے 63 رنز اور آخری وکٹ پر 15 رنز کی شراکت نے اننگز کی ہزیمت سے بچا لیا اور جنوبی افریقہ کو میچ اور سیریز جیتنے کے لیے صرف 2 رنز کا ہدف ملا۔

ژاک کیلس نے کیریئر کی دوسری ڈبل سنچری بنائی (تصویر: Getty Images)

ژاک کیلس نے کیریئر کی دوسری ڈبل سنچری بنائی (تصویر: Getty Images)

سماراویرا نے سنچری کے علاوہ کیپ ٹاؤن ٹیسٹ میں ایک اور سنگ میل عبور کیا یعنی 5 ہزار ٹیسٹ رنز۔ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے سری لنکا کے ساتویں کھلاڑی ہیں۔ سماراویرا کا اوسط یعنی 53.42 ان سات کھلاڑیوں میں دوسرے نمبر پر ہے۔

اس یادگار فتح کے ساتھ بطور کپتان گریم اسمتھ کی فتوحات کی تعداد 41 ہو گئی ہے، اور وہ سب سے زیادہ ٹیسٹ میچ جیتنے والے قائدین کی فہرست میں آسٹریلیا کے اسٹیو واہ کے ساتھ دوسرے نمبر پر آ گئے ہیں ۔ سب سے زیادہ فتوحات حاصل کرنے والے کپتان آسٹریلیا کے رکی پونٹنگ تھے جن کی زیر قیادت آسٹریلیا نے 2004ء سے 2010ء کے دوران 48 ٹیسٹ میچز جیتے۔

یوں جنوبی افریقہ میں سیریز جیتنے کا سری لنکا کا خواب بدستور خواب ہی رہا۔ گو کہ اس سیریز میں اس نے جنوبی افریقہ کے خلاف پہلی ٹیسٹ فتح کا ذائقہ ضرور چکھا لیکن سیریز کے بقیہ دونوں مقابلوں میں اس کی کارکردگی بہت مایوس کن رہی اس لیے مجموعی طور پر یہ سیریز بھی سری لنکا کی ناکامیوں کے تسلسل کا ایک حصہ ہی کہلائے گی۔

دوسری جانب جنوبی افریقہ کے لیے یہ سیریز بہت حوصلہ کن رہی، سوائے دوسرے ٹیسٹ کے جہاں اسے بہت ہی مایوس کن شکست ہوئی۔ یہ 2008ء میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ہوم سیریز جیتنے کے بعد اپنے میدانوں پر جنوبی افریقہ کی پہلی سیریز جیت ہے۔ درمیان میں وہ آسٹریلیا سے شکست سے دوچار ہوا جبکہ انگلستان، بھارت اور آسٹریلیا کے خلاف کھیلی گئی سیریز برابر ٹھیریں۔

پہلے روز سری لنکا نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا جو ابتدائی دو وکٹیں کھونے کے باوجود بحیثیت مجموعی جنوبی افریقہ کے فائدے میں ہی رہا جس نے پہلے الویرو پیٹرسن اور جیک کیلس کے درمیان 205 رنز کی اور پھر کیلس اور ابراہم ڈی ولیئرز کے درمیان 192 رنز کی شراکت کی بدولت اسکور بورڈ پر 580 رنز جوڑے اور صرف چار وکٹیں گنوائیں۔ ژاک کیلس نے اپنی ڈبل سنچری اس وقت مکمل کی جب ہزاروں کلومیٹر دور سری لنکا کے پڑوسی بھارت کی باؤلنگ بھی سری لنکا کی طرح مائیکل کلارک کے رنز کے بوجھ تلے دبی جا رہی تھی۔ کیلس اور کلارک کی اننگز نے ایک مشابہت یہ بھی تھی کہ دونوں بلے بازوں نے یہ یادگار اننگز اپنے ہوم کراؤڈ کے سامنے کھیلیں۔ کیلس کے طویل ٹیسٹ کیریئر کی یہ دوسری ڈبل سنچری تھی۔ انہوں نے پہلی ڈبل سنچری بھارت کے خلاف آخری ہوم سیریز میں بنائی تھی جبکہ سری لنکا کے خلاف یہ ڈبل سنچری اس لحاظ سے بھی یادگار رہی کہ یہ ان کا 150 واں ٹیسٹ میچ تھا۔

بہرحال، جنوبی افریقہ کی اننگز جیسے جیسے آگے بڑھتی رہی رنز بنانے کی رفتار میں تیزی آتی گئی حتی کہ اننگز ڈکلیئر کرنے سے قبل آخری 10 اوورز میں تو ابراہم ڈی ولیئرز اور ژاک روڈلف نے 87 رنز لوٹے اور بالآخر گریم اسمتھ نے اپنی توپوں کو خاموش ہونے کا حکم دیا اور اپنے تازہ دم گیند بازوں کو سری لنکن بلے بازوں پر حملے کا فرمان جاری کردیا۔

جنوبی افریقی اننگز میں کیلس نے 31 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 325 گیندوں پر 224 رنز بنائے۔ حیران کن طور پر وہ ڈربن میں کھیلے گئے گزشتہ میچ میں پیئر یعنی دونوں اننگز میں صفر پر آؤٹ ہونے کی ہزیمت کا شکار ہوئے تھے لیکن انہوں نے اگلے ہی مقابلے میں ڈبل سنچری داغ کر اپنی اہلیت ثابت کردی۔ اننگز میں جنوبی افریقہ کے دوسرے اہم بلے باز ڈی ولیئرز رہے جنہوں نے 19 چوکوں اور 2 چھکوں کی مدد سے 205 گیندوں پر 160 رنز بنائے۔ الویرو پیٹرسن ایک چھکے اور 13 چوکوں کی مدد سے 188 گیندوں پر 109 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے جبکہ ژاک روڈلف 71 گیندوں پر 51 رنز بنا کر ناقابل شکست رہے۔ ان کی اننگز میں 6 چوکے شامل تھے۔

جنوبی افریقہ کے کپتان گریم اسمتھ (دائیں) سیریز ٹرافی جبکہ ابراہم ڈی ولیئرز (درمیان) سیریز کے  اور ژاک کیلس (بائیں) میچ کے بہترین کھلاڑی کے اعزاز کے ساتھ (تصویر: Getty Images)

جنوبی افریقہ کے کپتان گریم اسمتھ (دائیں) سیریز ٹرافی جبکہ ابراہم ڈی ولیئرز (درمیان) سیریز کے اور ژاک کیلس (بائیں) میچ کے بہترین کھلاڑی کے اعزاز کے ساتھ (تصویر: Getty Images)

سری لنکا کی جانب سے دھمیکا پرساد نے 2 جبکہ چناکا ویلیگیدرا اور رنگانا ہیراتھ نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔ تمام ہی گیند باز بہت مہنگے ثابت ہوئے۔ تھیسارا پیریرا نے صرف 22 اوورز میں 131 اور دھمیکا پرساد نے 30 اوورز میں 154 رنز دیے۔

جواب میں سری لنکا نے گو کہ 70 رنز کا ابتدائی آغاز پایا لیکن کپتان تلکارتنے دلشان کی 78 رنز کی اننگز کے اختتام کے ساتھ ہی وقفے وقفے سے وکٹیں گرنا شروع ہو گئیں اور بالآخر پوری ٹیم 239 رنز پر پویلین لوٹ گئی۔ ان کے علاوہ کمار سنگاکارا اور دنیش چندیمال کے 35، 35رنز ہی قابل ذکر رہے۔

جنوبی افریقہ کی جانب سے ڈیل اسٹین اور ویرنن فلینڈر نے 3،3 جبکہ مورنے مورکل اور عمران طاہر نے 2،2 وکٹیں حاصل کیں۔

فالو آن کا شکار ہونے کے بعد ضروری تھا کہ سری لنکن بلے باز سنبھل کر کھیلتے لیکن جنوبی افریقہ کی تباہ کن گیند بازی کے سامنے ان کے لیے یہ ممکن نہیں تھا۔ 98 رنز پر ابتدائی چار بلے باز گنوانے کے بعد میچ میں واپس آنے کی تمام تر امیدیں ختم ہو چکی تھیں اور اس امر پر مہر تصدیق ثبت ہو چکی تھی کہ یہ میچ اور سیریز جنوبی افریقہ جیتے گا، بس صرف یہ بات باقی تھی کہ کتنے مارجن سے؟

درمیان میں تھیلان سماراویرا اور اینجلو میتھیوز کی پانچویں وکٹ پر 142 رنز کی شراکت داری نہ ہوتی تو سری لنکا کو بہت بھاری شکست اٹھانا پڑتی لیکن ان پہلے ان دونوں کی ذمہ دارانہ اننگز اور پھر آخر میں ٹیل اینڈرز کی مزاحمت نے اننگز کی شکست کا معاملہ تو ٹال دیا لیکن جنوبی افریقہ کو فتح کے لیے صرف 2 رنز کا ہدف ہی دے پائے۔

جنوبی افریقہ کی جانب سے ویرنن فلینڈر، عمران طاہر اور ژاک کیلس نے 3،3 جبکہ مورنے مورکل نے ایک وکٹ حاصل کی۔

2 رنز کے تعاقب میں پہلی ہی گیند، جو نو بال تھی، پر ایک رن ہی کافی ٹھیرا اور جنوبی افریقہ بغیر کوئی 'باضابطہ گیند' کھیلے میچ 10 وکٹوں سے جیت گیا۔ یہ زمبابوے اور بنگلہ دیش کے علاوہ دیگر ٹیموں کے خلاف 10 وکٹوں سے حاصل کردہ جنوبی افریقہ کی چھٹی فتح تھی، جس میں اسی میدان پر 1995-96ء میں انگلستان کے خلاف 10 وکٹوں کی تاریخی فتح بھی شامل ہے۔

ژاک کیلس کو ڈبل سنچری اننگز اور تین وکٹیں حاصل کرنے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔ ابراہم ڈی ولیئرز کو سیریز میں عمدہ بلے بازی پر سیریز کے بہترین کھلاڑی کے اعزاز سے نوازا گیا۔

جنوبی افریقہ بمقابلہ سری لنکا، تیسرا ٹیسٹ

3 تا 6 جنوری 2012ء

بمقام: نیولینڈز، کیپ ٹاؤن، جنوبی افریقہ

نتیجہ: جنوبی افریقہ 10 وکٹوں سے فتحیاب

میچ کے بہترین کھلاڑی:ژاک کیلس

سیریز کے بہترین کھلاڑی: ابراہم ڈی ولیئرز

جنوبی افریقہپہلی اننگز رنز گیندیں چوکے چھکے
گریم اسمتھ ب پرساد 16 15 3 0
الویرو پیٹرسن ک دلشان ب ویلیگیدرا 109 188 13 1
ہاشم آملہ ایل بی ڈبلیو ب پرساد 16 32 3 0
ژاک کیلس ک میتھیوز ب ہیراتھ 224 325 31 1
ابراہم ڈی ولیئرز ناٹ آؤٹ 160 205 19 2
ژاک روڈلف ناٹ آؤٹ 51 71 6 0
فاضل رنز ل ب 1، و 1، ن ب 2 4
مجموعہ 139 اوورز میں 4 وکٹوں کے نقصان پر 580

 

سری لنکا (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
چناکا ویلیگیدرا 29 7 107 1
تھیسارا پیریرا 22 1 131 0
دھمیکا پرساد 30 2 154 2
اینجلو میتھیوز 12 0 47 0
رنگانا ہیراتھ 42 4 108 1
تلکارتنے دلشان 4 0 32 0

 

سری لنکاپہلی اننگز رنز گیندیں چوکے چھکے
لاہیرو تھریمانے ب مورکل 23 52 4 0
تلکارتنے دلشان ک اسمتھ ب عمران طاہر 78 79 12 0
کمار سنگاکارا ک آملہ ب اسٹین 35 75 6 0
مہیلا جے وردھنے ک کیلس ب اسٹین 30 81 3 0
تھیلان سماراویرا ک کیلس ب فلینڈر 11 61 0 0
اینجلو میتھیوز ک باؤچر ب اسٹین 1 18 0 0
دنیش چندیمال ک باؤچر ب مورکل 35 45 4 0
تھیسارا پیریرا ب عمران طاہر 5 10 1 0
رنگانا ہیراتھ ایل بی ڈبلیو ب فلینڈر 1 7 0 0
دھمیکا پرساد ک پیٹرسن ب فلینڈر 9 16 0 1
چناکا ویلیگیدرا ناٹ آؤٹ 0 1 0 0
فاضل رنز ب 6، ل ب 3، ن ب 2 11
مجموعہ 73.5 اوورز میں تمام وکٹوں کے نقصان پر 239

 

جنوبی افریقہ (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
ڈیل اسٹین 20 5 56 3
ویرنن فلینڈر 19 7 46 3
مورنے مورکل 13.5 2 74 2
عمران طاہر 21 1 54 2

 

سری لنکادوسری اننگز (فالو آن) رنز گیندیں چوکے چھکے
لاہیرو تھریمانے ک آملہ ب کیلس 30 100 2 0
تلکارتنے دلشان ک باؤچر ب فلینڈر 5 7 1 0
کمار سنگاکارا ک کیلس ب عمران طاہر 34 89 4 0
مہیلا جے وردھنے ک کیلس ب مورکل 12 21 0 1
تھیلان سماراویرا ناٹ آؤٹ 115 215 14 0
اینجلو میتھیوز ایل بی ڈبلیو ب فلینڈر 63 124 7 0
دنیش چندیمال ک کیلس ب فلینڈر 1 13 0 0
تھیسارا پیریرا ک مورکل ب عمران طاہر 30 45 4 0
رنگانا ہیراتھ ک و ب کیلس 0 5 0 0
دھمیکا پرساد اسٹمپ باؤچر ب عمران طاہر 16 22 3 0
چناکا ویلیگیدرا ب کیلس 14 6 2 1
فاضل رنز ب 1، ل ب 15، و 6 22
مجموعہ 107.5 اوورز میں تمام وکٹوں کے نقصان پر 342

 

جنوبی افریقہ (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
ڈیل اسٹین 18.2 4 46 2
ویرنن فلینڈر 20 3 73 5
مورنے مورکل 13 2 45 1
عمران طاہر 11 1 43 0
ژاک کیلس 16 1 64 2
گریم اسمتھ 2 0 7 0

 

جنوبی افریقہدوسری اننگز، ہدف 2 رنز رنز گیندیں چوکے چھکے
الویرو پیٹرسن ناٹ آؤٹ 1 1 0 0
گریم اسمتھ ناٹ آؤٹ 0 0 0 0
فاضل رنز ن ب 1 1
مجموعہ بغیر کسی گیند کے اور بغیر کسی وکٹ کے نقصان پر 2

 

سری لنکا (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
دھمیکا پرساد 0 0 2 0

Facebook Comments