گواسکر پھٹ پڑے، بھارتی ٹیم کے کھلاڑیوں پر شدید تنقید

بیرون ملک ٹیسٹ مقابلوں میں مسلسل چھٹی شکست کھانے کے بعد ماضی کے عظیم عظیم بلے باز سنیل گواسکر بھارتی ٹیم پر پھٹ پڑے ہیں اور کہا ہے کہ ٹیم کے کھلاڑی آسٹریلیا کرکٹ کھیلنے گئے ہیں، سیر سپاٹے کرنے نہیں۔

بجائے پریکٹس سیشنز میں حصہ لینے کے آسٹریلیا میں تعطیلات کے ایام کے دوران سیر و تفریح سے لطف اندوز ہونے والے بھارتی کھلاڑی اولین دونوں ٹیسٹ مقابلوں میں بدترین شکست کے بعد سیریز میں فتح سے تو محروم ہو ہی چکے ہیں اور اگلے دونوں مقابلوں میں کوئی معجزانہ کارکردگی بھی انہیں سیریز نہیں جتوا سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ بھارتی تجزیہ کار کرکٹ بورڈ، سلیکشن کمیٹی اور انتظامیہ کے ساتھ ساتھ اب کھلاڑیوں کو بھی ہدف تنقید بنا رہے ہیں۔

ملبورن میں جاری پہلے ٹیسٹ کے تیسرے روز، جب بھارت شکست کے دہانے پر تھا،کھیل کے اختتام پر کپتان مہندر سنگھ دھونی اپنی اہلیہ اور ٹیم کے دیگر اراکین کے ساتھ سیر سپاٹوں میں مصروف تھے (تصویر: PTI)

ملبورن میں جاری پہلے ٹیسٹ کے تیسرے روز، جب بھارت شکست کے دہانے پر تھا،کھیل کے اختتام پر کپتان مہندر سنگھ دھونی اپنی اہلیہ اور ٹیم کے دیگر اراکین کے ساتھ سیر سپاٹوں میں مصروف تھے (تصویر: PTI)

سنیل گواسکر کا کہنا ہے کہ پریکٹس میں حصہ نہ لینا ہی اولین دونوں مقابلوں میں بھارت کی بدترین شکست کا باعث ہے۔ پہلے ٹیسٹ کے چوتھے روز اختتام کے بعد انہوں نے پانچویں روز سیر سپاٹے کیے لیکن اس کے بعد پریکٹس میں حصہ کیوں نہیں لیا، یہ بات میری سمجھ سے باہر ہے۔ میں سمجھ نہیں پا رہا کہ کھلاڑیوں کا رویہ کس قسم کا ہے۔ حریف کا مقابلہ کرنے کے لیے آپ کو ہمہ وقت مشق سے گزرتے رہنا چاہیے لیکن اس رویے کے باوجود کوئی بھی ان سے پوچھ نہیں رہا کہ ایسا کیوں کیا جا رہا ہے۔

بارڈر-گواسکر ٹرافی پہلے ٹیسٹ میں 122 رنز کے مارجن سے شکست کھانے کے بعد بھارت کو سڈنی میں ایک اننگز اور 68 رنز کی ذلت آمیز ہار سہنا پڑی۔

سنیل گواسکر نے ویسٹ انڈیز کے خلاف ہوم گراؤنڈ پر کھیلی گئی سیریز کے بارے میں کہا کہ اس کے شیڈول پر توجہ دینے کی ضرورت تھی۔ پہلے ایک روزہ مقابلے رکھے جاتے اور اس کے بعد ٹیسٹ تاکہ کھلاڑی طویل طرز کی کرکٹ کو ذہن میں رکھ کر آسٹریلیا جاتے۔ گواسکر نے محدود اوورز کی کرکٹ کے زیادہ انعقاد کو بھارت کی ٹیسٹ کرکٹ میں شکست کا سبب گردانا۔ انہوں نے کہا کہ ہم محدود طرز کی کرکٹ بہت زیادہ کھیل رہے ہیں اور وہ بھی سست اور دھیمی وکٹوں پر، جبکہ آسٹریلیا میں وکٹیں بہت سخت ہیں۔

زخمی ہونے کے باعث دورۂ آسٹریلیا سے محروم ہو جانے والے پروین کمار کے حوالے سے سنیل گواسکر نے کہا کہ اگر وہ اس وقت فٹ ہو چکے ہیں کہ انہیں لازماً آسٹریلیا بھیجا جائے۔ گو کہ وہ آسٹریلیا کے بین ہلفنیاس سے کم رفتار کے حامل ہیں لیکن بہرحال گیند کو سوئنگ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

سنیل گواسکر نے ذرائع ابلاغ کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جن کی تمام تر توجہ اس وقت سچن ٹنڈولکر کی 100 بین الاقوامی سنچری پر مرکوز ہیں اور کہا کہ سچن کو ویسٹ انڈیز کے خلاف ایک روزہ سیریز میں کھلایا جانا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا پچھلے 9 ماہ سے سچن کی 100 ویں سنچری کا راگ الاپ رہا ہے اور اگر وہ اتنا شور نہ مچاتا تو شاید سچن اس سنگ میل کو عبور بھی کر چکے ہوتے۔

بھارت اور آسٹریلیا کا تیسرا ٹیسٹ 13 جنوری سے پرتھ میں کھیلا جائے گا جہاں بھارت کو سیریز میں شکست سے بچنے کے لیے لازماً فتح حاصل کرنا ہوگی۔ اگر تیسرا ٹیسٹ ڈرا بھی ہو گیا تو بارڈر-گواسکر ٹرافی آسٹریلیا جیت لے گا۔

Facebook Comments