سست روی سے باؤلنگ، دھونی پر ایک میچ کی پابندی عائد

’مرے ہوئے کو 100 درّے‘ کے مصداق بھارت آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز ہارنے کے بعد ایک نئی مصیبت سے دوچار ہو گیا ہے کیونکہ سست روی سے اوورز پھینکنے کی پاداش میں اس کے کپتان مہندر سنگھ دھونی پر ایک ٹیسٹ کی پابندی عائد کر دی گئی ہے یعنی وہ 24 جنوری سے ایڈیلیڈ میں شروع ہونے والے بارڈر-گواسکر ٹرافی کے چوتھے ٹیسٹ میں شرکت نہیں کر پائیں گے۔

دھونی کے لیے دورۂ آسٹریلیا اب تک بہت مایوس کن رہا ہے (تصویر: Getty Images)

دھونی کے لیے دورۂ آسٹریلیا اب تک بہت مایوس کن رہا ہے (تصویر: Getty Images)

ایسا لگتا ہے کہ بھارت کو پرتھ ٹیسٹ کی سبز پچ دیکھ کر 4 تیز گیند باز کھلانے کا فیصلہ بہت مہنگا پڑ گیا، کیونکہ تیز گیند بازی کے لیے نسبتاً زیادہ وقت درکار ہوتا ہے۔ یہ 1985ء کے بعد پہلا موقع تھا کہ بھارت کسی میچ میں 4 تیز گیند بازوں کے ساتھ میدان میں اترا ہو۔ لیکن پرتھ میں اننگز سے ہونے والی بدترین شکست اور پھر کپتان پر ایک میچ کی پابندی نے اس فیصلے سے منسلک کچھ خوشگوار یادیں نہیں چھوڑیں۔

بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے نئے قوانین کے تحت اگر ایک سال کے دوران کوئی ٹیم دو مرتبہ 'سلو-اوور ریٹ ' کی مرتکب قرار پاتی ہے تو اس کے کپتان پر ایک ٹیسٹ میچ کی پابندی عائد کر دی جائے گی۔ اس سے قبل تین میچز میں سست روی سے اوورز پھینکنے پر پابندی عائد کی جاتی تھی لیکن گزشتہ جون میں آئی سی سی نے صرف دو میچز کو کافی قرار دیا۔

اب مہندر سنگھ کی عدم موجودگی میں نائب کپتان وریندر سہواگ ایڈیلیڈ میں بھارت کو کلین سویپ کی ہزیمت سے بچانے کی کوشش کریں گے جبکہ وکٹوں کے پیچھے وریدھمن ساہا ذمہ داریاں نبھائیں گے۔

دھونی گزشتہ سال کے وسط میں دورۂ ویسٹ انڈیز کے بارباڈوس ٹیسٹ میں سلو-اوور ریٹ کے باعث تنبیہ کا شکار ہوئے تھے اور اب محض چھ ماہ بعد وہ دوبارہ اس کے مرتکب ٹھیرے ہیں جس کے نتیجے میں ان پر 40 فیصد میچ فیس کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔ بھارتی ٹیم کے دیگر اراکین میچ فیس کا 20 فیصد بطور جرمانہ ادا کریں گے۔

Facebook Comments