نیشنل اسٹیڈیم، کراچی

لاہور کے قذافی اسٹیڈیم کے بعد پاکستان کا دوسرا بڑا کرکٹ میدان نیشنل اسٹیڈیم، کراچی ہے۔ کراچی کے ڈومیسٹک مقابلوں کا مرکز نیشنل اسٹیڈیم 34 ہزار سے زائد تماشائیوں کی گنجائش رکھتا ہے۔ کراچی کی آبادی کے پیشِ نظر نیشنل اسٹیڈیم کا رقبہ زیادہ نہیں اور اسی باعث پاکستان کرکٹ بورڈ نے کئی مواقع پر میدان کو 50ہزار تماشائیوں کی گنجائش کے قابل بنانے کا عندیہ ظاہر کیا ہے تاہم کوئی عملی منصوبہ تاحال شروع نہیں ہوسکا۔

برقی قمقموں کی روشنی سے جگمگاتا کراچی کا نیشنل اسٹیڈیم، جو پاکستان کا دوسرا سب سے بڑا کرکٹ میدان ہے (تصویر: Getty Images)

نیشنل اسٹیڈیم کی تعمیر 1955ء کے اوائل میں مکمل ہوئی۔ یہ میدان پاکستان کرکٹ بورڈ کی ملکیت ہے اورکراچی سٹی کرکٹ ایسوسی ایشن اس کا نظام سنبھالتی ہے جب کہ کراچی اور پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی کرکٹ ٹیموں نے اسے کرایے پر حاصل کیا ہوا ہے۔ نیشنل اسٹیڈیم کے دو کنارے پویلین اینڈ اور یونی ورسٹی اینڈ کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ اس میدان پر پاکستانی ٹیم کی کارکردگی شان دار رہی ہے۔ پچاس سالوں میں پاکستانی کرکٹ ٹیم نے چالیس ٹیسٹ مقابلوں میں صرف 2 مقابلے (2000ء میں انگلستان اور 2008ء میں جنوبی افریقہ کے خلاف) ہارے جب کہ 21 مقابلوں میں فتح حاصل کی۔

نیشنل اسٹیڈیم پر پہلا ٹیسٹ مقابلہ پاکستان اور بھارت کی کرکٹ ٹیموں کے مابین 26 فروری تا یکم مارچ 1955ء کھیلا گیا جو ہار جیت کے فیصلے کے بغیر ختم ہوگیا تھا، جب کہ دوسرا ٹیسٹ مقابلہ 13 تا 17 اکتوبر 1955ء پاکستان اورنیوزی لینڈ کے درمیان کھیلا گیا جس میں پاکستان نے ایک اننگز اور ایک رن سے کام یابی حاصل کی۔ اس میدان پر کھیلے جانے والے پہلے ایک روزہ مقابلے میں 21نومبر 1980ء کو پاکستان نے غرب الہند (ویسٹ انڈیز) کے خلاف پہلے بلّے بازی کرتے ہوئے 9 وکٹوں کے نقصان پر 127 رنز بنائے۔ جواب میں سنسنی خیز مقابلے کے بعد مخالف ٹیم نے آخری گیند پر مقررہ ہدف حاصل کرکے چار وکٹوں سے فتح سمیٹی۔ نیشنل اسٹیڈیم پر پہلا ٹی ٹوئنٹی میچ پاکستان اور بنگلہ دیش کی ٹیموں کے درمیان 20اپریل 2008ء کو کھیلا گیا جس میں پاکستان نے پہلے بلّے بازی کرتے ہوئے یونس خان کے 47 اور مصباح الحق کے 5چھکوں پر مشتمل 87 رنز کے باعث پانچ وکٹوں پر 203 رنز جیسا مجموعہ کھڑا کردیا۔ جواب میں بنگلہ دیش کے ابتدائی تین بلّے بازوں کے بعد کوئی بھی کھلاڑی دہرے عدد میں داخل نہ ہوسکا اور پوری ٹیم 101 رنز بناکر 102رنز کی شکست کے ساتھ پویلین لوٹ گئی۔پاکستانی گیند بازی کی خاص بات اپنا پہلا عالمی ٹی ٹوئنٹی کھیلنے والے گیند باز منصور امجد کی کارکردگی تھی جنھیں 15 اوورز بعد گیند تھمائی گئی جب بنگلہ دیش کی تین وکٹیں باقی تھیں اور اُنھوں نے اپنے پہلے ہی اوور میں تین رنز دے کر تینوں کھلاڑی آؤٹ کرکے بنگلہ دیشی بساط سمیٹ دی تھی۔

1982ء اور 1983ء کے دوران بھارت 6 ٹیسٹ مقابلوں کی طویل سیریز کھیلنے کے لیے پاکستان آیا جس کے دو معرکے کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے گئے۔ 23 تا 27 دسمبر 1982ء کو کھیلے جانے والے ٹیسٹ میچ میں پاکستان کے خلاف بھارت پہلی اننگز میں صرف 169 رنز بناکر آؤٹ ہوگیا۔ پاکستان نے جواب میں 452 رنز بنا ڈالے۔ بھارت کی بلّے بازی دوسری اننگ میں بھی ناکام رہی اور وہ صرف 197 رنز بناسکا۔ یوں پاکستان ایک اننگز اور 86 رنز سے فتح یاب ہو گیا۔ اس میچ کی خاص بات عمران خان کی عمدہ گیند بازی تھی۔ بھارت کے خلاف دوسری اننگز میں عمران خان نے اس میدان پر سب سے بہترین گیند بازی کرتے ہوئے 8 وکٹیں حاصل کیں۔

بھارت کے دورۂ پاکستان کا چھٹا ٹیسٹ بھی کراچی ہی میں کھیلا گیا جس کے دوران وہ ناخوشگوار واقعہ پیش آیا، جو کراچی کی بدنامی کا باعث بنا۔ میچ کے چوتھے روز کھانے کے وقفے کے بعد احتجاج کرنے والے چند طلبہ نے میدان پر دھاوا بول دیا اور پچ کھودنے تک کی کوشش کی جس کی وجہ سے دن کا باقی کھیل ضایع ہو گیا۔ مذکورہ مقابلے میں بھارت کے پہلے اننگز کے 393 رنزکے جواب میں پاکستان نے مدثر نذر کے 152 رنز کی بدولت 420 رنز بنائے۔ دوسری اننگز میں بھارت نے 224 رنز بنائے تو میچ کے ایام مکمل ہو گئے اور مقابلہ بغیر کسی نتیجے تک پہنچے ختم ہو گیا۔ لیکن چوتھے روز کا کھیل ضایع ہونے کے باعث کراچی کے حصے میں جو بدنامی آئی، اسی کی وجہ سے بعد ازاں نیشنل اسٹیڈیم میں تماشائیوں اور میدان کے درمیان جنگلہ لگانے کا فیصلہ کیا گیا۔

1994ء میں پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان اسی میدان پر ایک یادگار مقابلہ کھیلا گیا جس میں پاکستان نے انتہائی سنسنی خیز معرکہ آرائی کے بعد ایک وکٹ سے فتح حاصل کی۔ انضمام الحق اور مشتاق احمد کے درمیان آخری وکٹ پر 57 رنز کی یادگار شراکت داری اور این ہیلی کی شین وارن کی گیند پکڑنے اور انضمام الحق کو اسٹمپ کرنے کی کوشش میں ناکامی نے پاکستان کی مقابلے اور سیریز میں فتح کو یقینی بنایا۔

ایک افسوسناک منظر: 1983ء میں پاک بھارت ٹیسٹ کے دوران چوتھے روز تماشائی میدان میں گھس گئے اور پچ کو کھودنے کی کوشش کی (تصویر: Wisden Cricket Monthly)

ایک افسوسناک منظر: 1983ء میں پاک بھارت ٹیسٹ کے دوران چوتھے روز تماشائی میدان میں گھس گئے اور پچ کو کھودنے کی کوشش کی (تصویر: Wisden Cricket Monthly)

نیشنل اسٹیڈیم کو طویل عرصے تک 'پاکستان کا مضبوط قلعہ' قرار دیا جاتا تھا کیونکہ پاکستان نے کبھی یہاں کوئی میچ نہیں ہارا تھا لیکن بالآخر دسمبر 2000ء میں پاکستان اس اعزاز سے محروم ہو گیا جب انگلستان نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا، جب اسے آخری روز بچےہوئے 44اوورز میں 176 رنز کا ہدف ملا جسے اس نے انتہائی برق رفتاری سے پورا کرنے کی کوشش کی لیکن معین خان کی زیر قیادت پاکستان کی ٹیم کی منفی حکمت عملیوں اور وقت ضایع کرنے کی کوششوں کے باعث مغرب کا وقت ہو چلا لیکن انگلش بلے بازوں نے میدان سے باہر جانے سے انکار کر دیا کیونکہ دن کے اوورز ابھی باقی تھے۔ بالآخر اننگز کے 42 ویں اوور میں انگلستان نے فتح کو جا لیا اور نہ صرف کراچی میں پاکستان کے ناقابل شکست رہنے کے ریکارڈ کا خاتمہ کر دیا بلکہ ایک یادگار سیریز فتح بھی حاصل کی۔ (اس میچ کے بارے میں کرک نامہ کی خصوصی تحریر یہاں ملاحظہ کریں)

کراچی میں آخری ٹیسٹ مقابلہ 21 تا 25 فروری 2009ء کو کھیلا گیا جس میں پاکستان اور سری لنکا مدمقابل تھے۔ پاکستان میں امن و امان کی ناقص صورتحال کے باعث طویل عرصے سے بین الاقوامی کرکٹ بند تھی لیکن سری لنکا نے پاکستان سے برادرانہ تعلقات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی ٹیم یہاں بھیجی لیکن بعد ازاں لاہور میں مہمان ٹیم پر ہونے والے دہشت گرد حملے نے پاکستان سے بین الاقوامی کرکٹ کا خاتمہ کر دیا۔

”جھک جائیے مہاراج!“ نیشنل اسٹیڈیم کی یادگار ترین تصاویر میں سے ایک۔ 2006ء میں پاک-بھارت ٹیسٹ کے دوران محمد آصف کے ہاتھوں سچن ٹنڈولکر کے بولڈ ہونے کا منظر (تصویر: AFP)

”جھک جائیے مہاراج!“ نیشنل اسٹیڈیم کی یادگار ترین تصاویر میں سے ایک۔ 2006ء میں پاک-بھارت ٹیسٹ کے دوران محمد آصف کے ہاتھوں سچن ٹنڈولکر کے بولڈ ہونے کا منظر (تصویر: AFP)

بہرحال، اس ٹیسٹ میں سری لنکا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 7 وکٹوں پر 644 رنز بناکر اننگ ڈکلیئر کردی جس میں مہیلا جے وردھنے کے 240، تھلان سمارا ویرا کے 231 اور کمار سنگاکارا کے 70 رنز شامل تھے۔ سری لنکا کا یہ اسکور اس میدان پر ٹیسٹ مقابلوں کا دوسرا بڑا مجموعہ ہے۔ تو پہلا مجموعہ کس کا اور کتنا ہوسکتا ہے؟ ہوایوں کہ جب سری لنکا نے 644 رنز بنائے تو اس میدان پر سب سے زیادہ مجموعہ کھڑا کرنے کا اعزاز اپنے نام کیا لیکن جب جواب میں پاکستان نے اپنی اننگ شروع کی تو کپتان یونس خان کے 313 ، کامران اکمل کے 158 رنز اورمزید تین کھلاڑیوں کی نصف سنچریوں کی بہ دولت 6 وکٹوں پر 765 رنز بناکر اپنی اننگ ڈکلیئر کی اور سری لنکا کا ریکارڈ فوراً ہی توڑ دیا۔ تاہم اس مقابلے کا نتیجہ نہیں نکل سکا تھا۔ یونس خان کے 313رنز نیشنل اسٹیڈیم پر ٹیسٹ میچوں میں سب سے زیادہ انفرادی مجموعہ ہے۔

یوں تو اس میدان پر پاکستان نے بھارت کو جنوری 2006ء میں 341 رنز سے شکست کی مزا بھی چکھایا ہے لیکن اگر اس میدان پر سب سے بُری شکست کا ذکر ہو تو وہ 15 تا 20 ستمبر 1988ء کو کھیلا جانے والا پاکستان اور آسٹریلیا کا ٹیسٹ میچ تھا۔ پاکستان نے پہلے بلّے بازی کرتے ہوئے جاوید میاں داد کے 211 اور شعیب محمد کے 94 رنز کے باعث 469 رنز بنائے، جواب میں آسٹریلیا کی ٹیم پہلی اننگ میں صرف 165 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی، نتیجتاً اُسے فالو آن کا سامنا کرنا پڑا لیکن دوسری اننگ میں وہ صرف 116 رنز بناسکی اور یوں پاکستان کو ایک اننگ اور 188 رنز سے فتح نصیب ہوئی۔ پاکستانی گیند باز اقبال قاسم نے پہلی اننگ میں پانچ اور دوسری اننگ میں چار وکٹیں حاصل کیں لیکن مردِ میدان کا اعزاز بہ ہر حال جاوید میاں داد کے حصے میں آیا۔

لیکن اتنی بڑی فتح کے باوجود جو شہرت 2006ء کے پاک-بھارت ٹیسٹ کو ملی وہ کراچی میں کھیلے گئے کسی اور مقابلے کو حاصل نہیں ہوئی۔ عرفان پٹھان کی تباہ کن باؤلنگ کے باعث پاکستان پہلی اننگز میں محض 39 رنز پر اپنے 6 بلے باز گنوا بیٹھا لیکن اس کے بعد وکٹ کیپر کامران اکمل نے کیریئر کی یادگار ترین سنچری اننگز کھیل کر پاکستان کو مکمل تباہی سے بچایا۔ عرفان پٹھان تین مسلسل گیندوں پر سلمان بٹ، یونس خان اور محمد یوسف کو صفر پر ٹھکانے لگا کر دنیا کے پہلے گیند باز بن گئے جس نے میچ کی پہلی تینوں گیندوں پر حریف بلے بازوں کو آؤٹ کر کے ہیٹ ٹرک کی۔ لیکن کامران اکمل، عبد الرزاق اور شعیب اختر نے بھارت کے تمام تر ارادوں پر پانی پھیر دیا۔ کامران اکمل نے 148 گیندوں پر 113 رنزکی یادگار اننگز کھیلی جبکہ عبد الرزاق اور شعیب اختر نے 45، 45 رنزبنا کر ان کا بھرپور ساتھ دیا اور پاکستان پہلی اننگز میں 245 رنز بنانے میں کامیاب ہو گیا۔

بعد ازاں محمد آصف اور دیگر گیند بازوں کی تباہ کن گیند بازی کی بدولت پاکستان نے بھارت کو 238 رنز پر ہی تمام کر دیا اور پہلی اننگز میں 7رنز کی برتری حاصل کر لی۔ پہلی اننگز میں ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے تمام بلے باز بھرپور انداز میں واپس آئے اور تمام ہی نے کم از کم نصف سنچری ضرور بنائی۔ سلمان بٹ نے 53، عمران فرحت نے 57، یونس خان نے 77، محمد یوسف نے 97، فیصل اقبال نے 139، شاہد آفریدی نے 60 اور عبد الرزاق نے 90 رنز بنائے اور 599 رنز پر پاکستان نے اپنی اننگز ڈکلیئر کرنے کا اعلان کیا اور بھارت کو فتح کے لیے 607 رنز کا ہدف دیا جس کے جواب میں بھارت عبد الرزاق اور محمد آصف کی گیند بازی کا مقابلہ نہ کر سکا اور 265 رنز پر ڈھیرہو گیا۔ یوں پاکستان نے اپنی تاریخ کی سب سے بڑی فتوحات میں سے ایک حاصل کی۔ کامران اکمل کو میچ بچاؤ اننگز کھیلنے پر بہترین کھلاڑی کا اعزاز دیا گیا۔

اس میدان پر آسٹریلیا کے حصے میں صرف سب سے بُری اور بڑی شکست ہی نہیں آئی بلکہ سب سے کم مجموعہ بنانے کا سہرا بھی آسٹریلیا ہی کے سر بندھا ہے۔ 11 تا 17 اکتوبر 1956ء کھیلے جانے والے ٹیسٹ مقابلے میں آسٹریلیا کی ٹیم پہلی اننگ میں صرف 80 رنز بناکر پویلین لوٹ گئی تھی۔ وہ مقابلہ پاکستان نے 9وکٹوں سے جیت لیا تھا۔

ایک روزہ مقابلوں کی بات ہو تو اس میدان پر سب سے زیادہ مجموعہ بھارت کے چار وکٹوں پر 374رنز ہیں جو اُس نے پاکستان کے خلاف نہیں بلکہ 25جون 2008ء کو ایشیاکپ میں ہانگ کانگ کے خلاف بنائے تھے اور مقابلہ 256رنز سے جیت لیا تھا۔ یہ اس میدان پر ایک روزہ میچوں میں حاصل ہونے والی سب سے بڑی فتح تھی۔ نیشنل اسٹیڈیم پر پاکستان کا سب سے زیادہ اسکور 353رنز ہے جو اُس نے انگلستان کے خلاف 15دسمبر 2005ء کو ایک مقابلے میں بنائے تھے اور انگلستان کو 188رنز پر آؤٹ کردیا تھا۔

ورلڈ کپ 1987ء میں 13 اکتوبر کو کالی آندھی (ویسٹ انڈیز) اور سری لنکا کے درمیان گروپ میچ کھیلا گیا۔ سری لنکا نے ٹاس جیت کر پہلے گیندبازی کا فیصلہ کیا کیا، اپنی شکست کو دعوت دے دی۔ ایک طرف تو غرب الہند کے اوپنر بلّے باز ڈیسمنڈ ہینز نے 105 رنز کی اننگ کھیلی، تو ساتھ ہی سر ویوین رچرڈز نے 125 گیندوں پر 7چھکوں اور 16 چوکوں کی مدد سے 181رنز کی اننگ کھیل کر سری لنکا کی نیّا ڈبودی۔ 361رنز کے تعاقب میں سری لنکا پورے 50 اوورز کھیل کر بھی چار وکٹوں کے نقصان پر صرف 169رنز بناسکا اور اُسے 191رنز سے شکست کی ہزیمت اُٹھانی پڑی۔ سر رچرڈز کا یہ اسکور اس میدان پر ایک روزہ میچوں کا سب سے زیادہ انفرادی مجموعہ ہے۔

اس میدان پر مجموعی طور پر مذکورہ عالمی کپ کے تین مقابلے بھی کھیلے گئے تھے جن میں دو مقابلوں میں پاکستان نے انگلستان اور ویسٹ انڈیز کا سامنا کیا۔ قومی ٹیم انگلستان کو تو زیر کرنے میں کامیاب ہو گئی لیکن ویسٹ انڈیز کے خلاف میچ میں اسے 28 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ میدان راول پنڈی ایکسپریس شعیب اختر کے لیے بھی یادگار رہے گا۔ 21 اپریل 2002ء کو نیوزی لینڈ کے خلاف میچ میں شعیب نے اپنے کیریئر کی بہترین گیند بازی کرتے ہوئے 9 اوورز میں 16 رنز دے کر 6 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی تھی۔

فی الحال نیشنل اسٹیڈیم قومی سطح کے مقابلوں کے لیے استعمال ہو رہا ہے اور ملک بھر کے میدانوں کی طرح یہاں بھی تقریباً تین سال سے کوئی بین الاقوامی کرکٹ نہیں کھیلی گئی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ نئے چیئرمین کی زیر قیادت پاکستان اور کراچی کے میدانوں کی رونقیں کب بحال ہوتی ہیں کیونکہ ذکا اشرف کا کہنا ہے کہ میری اولین ترجیح پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی ہے۔

Article Tags

Facebook Comments