نیوزی لینڈ پاکستان ٹیسٹ سیریز، دو زخمی شیروں کا آمنا سامنا

پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا پہلا مقابلہ 7 جنوری کو سیڈن پارک، ہملٹن میں شروع ہو رہا ہے۔

جب آخری مرتبہ 2009ء کے اختتامی ایام میں پاکستان اور نیوزی لینڈ آمنے سامنے ہوئے تھے تو کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا تھا کہ 2010ء دراصل دونوں ٹیموں کے زوال کا سال ہوگا۔ محمد یوسف، جنہیں کمزور کپتان سمجھا جاتا ہے، کی زیر قیادت پاکستان ڈنیڈن میں ایک آسان ٹیسٹ میچ ہارنے کے بعد سیریز نہ جیت سکا اور پھر دورۂ آسٹریلیا میں تمام میچز (ٹیسٹ، ون ڈے، ٹی ٹوئنٹی) میں ہزیمت آمیز شکست کے بعد جو کسر رہ گئی تھی وہ دورۂ انگلینڈ میں میچ فکسنگ تنازع نے پوری کر دی۔ پے در پے شکستوں کے باعث پاکستان اب عالمی درجہ بندی میں محض ویسٹ انڈیز، بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ ہی سے آگے ہے۔ دوسری جانب نیوزی لینڈ پاکستان کے خلاف سیریز برابر کرنے کے بعد آسٹریلیا سے ہارا۔ بھارت کے خلاف اسے ٹیسٹ سیریز میں شکست ہوئی، گو کہ وہ عالمی نمبر ون کے خلاف اس کے ہوم گراؤنڈ پر دو میچز ڈرا کرنے میں کامیاب رہا۔ سال میں ان کی واحد فتح بنگلہ دیش کے خلاف تھی تاہم بھارت کے خلاف فائٹنگ اسپرٹ بلیک کیپس کا ایک مثبت پہلو ہے جس سے توقع ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف سیریز میں شاندار کارکردگی دکھائے گا۔

دونوں ٹیموں کے درمیان اب تک جتنے ٹیسٹ مقابلے ہوئے ہیں ان میں پاکستان کا پلہ واضح طور پر بھاری ہے۔ 48 مقابلوں میں سے 22 میں فتح نے پاکستان کے قدم چومے ہیں جبکہ نیوزی لینڈ کو محض 7 میں جیت نصیب ہوئی ہے۔ نیوزی لینڈ کی سرزمین پر ہونے والے 27 مقابلوں میں 9 میں فتح گرین شرٹس کے نام رہی جبکہ 5 میں میزبان ٹیم کامیاب رہی۔

پاکستان تمام تر تنازعات اور مسائل کے باوجود ٹیسٹ میں نسبتا بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتا آ رہا ہے۔ آسٹریلیا کے خلاف سیریز 1-1 سے برابر کرنے کے بعد انگلستان کے خلاف سیریز میں تنازعات کے شکار ہونے کے بعد 2-1 سے شکست اور عالمی نمبر 2 جنوبی افریقہ کے خلاف 1-1 سے سیریز برابر کرنا اس کی بہتر کارکردگی کو ظاہر کرتا ہے۔ جنوبی افریقہ کے خلاف حالیہ سیریز میں عرصے کے بعد پاکستان بیٹسمینوں کی وجہ سے میچ میں واپس آیا جو ایک خوش آئند امر ہے۔

دوسری جانب بنگلہ دیش اور بھارت میں شکستوں کے باعث نیوزی لینڈ اب نئے کوچ کے ساتھ میدان میں اترا ہے اور حال ہی میں پاکستان کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز میں فتح سے اس کے حوصلے ضرور بلند ہوئےہوں گے۔ ٹیسٹ میں اس سے عالمی نمبر ایک بھارت کے خلاف اسی کی سرزمین پر دو ٹیسٹ میچز ڈرا کیے ہیں جو مسلسل شکست سے دوچار ہونے والی ٹیم کے لیے ایک بڑے اعزاز کی بات ہے۔

پاکستان کے لیے سب سے پریشان کن بات اس کا بالنگ اٹیک ہوگا جو میچ فکسنگ تنازع میں گھرنے سے قبل دنیا کے بہترین پیس اٹیک میں شمار ہوتا تھا۔ محمد آصف اور محمد عامر کی غیر موجودگی میں اب تمام تر ذمہ داری عمر گل کے کاندھوں پر آ گئی ہے جو نو آموز گیند بازوں کے ساتھ اب جیسی رائیڈر، برینڈن میک کولم اور دیگر خطرناک بلے بازوں کا سامنا کریں گے۔ کنڈیشنز ضرور ان کا ساتھ دیں گی لیکن ہملٹن کی پچ روایتی طور پر نیوزی لینڈ میں بلے بازی کے لیے بہترین پچ شمار کی جاتی ہے۔

ان فارم مصباح الحق، ٹؤر میچ کے دوران بھی ان کی کارکردگی مثالی رہی (گیٹی امیجز)

بلے بازی کی سائیڈ پر پاکستان ان فارم اظہر علی، جنوبی افریقہ کے خلاف حالیہ سیریز میں قائدانہ کردار ادا کرنے والے مصباح الحق اور ایک مرتبہ پھر ٹیم میں واپس آنے والے یونس خان پر بھروسہ کرے گا۔
پاکستان کے مرکزی اسپنر سعید اجمل اپنے والد کے انتقال کے باعث وطن واپس لوٹ چکے ہیں اور غالب امکان یہی ہے کہ عبد الرحمن ان کی جگہ لیں گے۔ تیز گیند بازی میں تنویر احمد اور سہیل تنویر میں سے کسی ایک کو منتخب کیا جانا ممکن ہے۔ سہیل تنویر کو ٹیسٹ سیریز کے لیے خصوصی طور پر طلب کیا گیا تھا تاہم تنویر احمد جنوبی افریقہ کے خلاف حالیہ سیریز میں اچھی کارکردگی کے باعث ترجیحی امیدوار ہوں گے۔مڈل آرڈر میں عمر اکمل کو غیر ذمہ دارانہ بلے بازی کی وجہ سے باہر کیا جا سکتا ہے اور اسد شفیق کوان پر ترجیح دی جا سکتی ہے۔ تاہم عمر اکمل کو باہر کرنے کی صورت میں ٹیم میں عدنان اکمل کی شمولیت کی راہ ہموار ہو جائے گی۔

دوسری جانب بلے بازوں کے لیے موزوں پچ کے باعث نیوزی لینڈ اپنی بیٹنگ لائن کو مضبوط کرنے کی کوشش کرے گا جو اس کےلیے حالیہ چند ماہ میں سب سے پریشان کن امر رہی ہے۔ نئے وکٹ کیپر ریس ینگ بھی اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز کریں گے۔

ڈینیل ویٹوری دنیا کے بہترین اسپنر شمار کیے جاتے ہیں جبکہ تیز گیند باز کرس مارٹن کی حالیہ فارم پاکستان کے خلاف اہم کردار ادا کرے گی۔ پاکستانی بلے باز عام طور پر اسپنرز کے خلاف اچھے کھلاڑی نہیں سمجھے جاتے اس لیے ویٹوری کا کردار بہت زیادہ اہم ہوگا۔

آسٹریلیا اور انگلینڈ کے درمیان یادگار ایشز سیریز اور عالمی نمبر ایک بھارت اور عالمی نمبر دو جنوبی افریقہ کے درمیان ٹیسٹ سیریز کے غیر فیصلہ کن اختتام کے بعد اب دنیائے کرکٹ کی نظریں دو زخمی شیروں پر مرکوز ہوں گی جو 7 سے 19 جنوری تک دو ٹیسٹ مقابلوں میں آمنے سامنے ہوں گے۔

Facebook Comments