[آج کا دن] ایڈیلیڈ کا تاریخی ٹیسٹ، ایک رن کی جیت

مختصر طرز کی کرکٹ میں تو سنسنی خیز مقابلے معمول کی بات ہے، ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی کی تاریخ تو ایسے کئی معرکوں کی شاہد رہی ہے جب معاملہ ’آخری بندوق اور آخری سپاہی‘ تک پہنچ جاتا ہے لیکن طویل طرز کی کرکٹ جسے کرکٹ کا ’سست ترین فارمیٹ‘ کہا جاتا ہے میں ایسے اعصاب شکن لمحات شاذ و نادر ہی آتے ہیں۔ البتہ ایڈیلیڈ کے اسی میدان پر، جہاں آج آسٹریلیا اور بھارت کے درمیان چوتھا ٹیسٹ جاری ہے، آج سے ٹھیک 19 سال قبل یعنی 1993ء میں ویسٹ انڈیز اور آسٹریلیا کے درمیان میچ کے چوتھے و آخری روز کورٹنی واش کی زبردست گیند بازی نے ویسٹ انڈیز کو محض ایک رن کی تاریخی فتح سے ہمکنار کیا، جو کم ترین مارجن سے حاصل کردہ فتوحات میں سرفہرست ہے۔

اک تاریخی فتح کے بعد کورٹنی واش کی دیوانہ وار دوڑ اور، خوشی سے سرشار ٹیم ان کے پیچھے (تصویر: Getty Images)

اک تاریخی فتح کے بعد کورٹنی واش کی دیوانہ وار دوڑ اور، خوشی سے سرشار ٹیم ان کے پیچھے (تصویر: Getty Images)

اس فتح کی تاریخی اہمیت اس لحاظ سے بھی تھی کہ اس جیت کی بدولت ویسٹ انڈیز نے 13 سال تک کسی بھی ٹیسٹ سیریز میں ناقابل شکست رہنے کے ریکارڈ کو برقرار رکھا۔ یہ ویسٹ انڈیز کی دنیائے کرکٹ پر حکمرانی کے آخری ایام تھے، وہ دن جب ’کالی آندھی‘ دنیا کی کسی بھی ٹیم کو اسی کی سرزمین پر شکست دینے کی اہلیت رکھتی تھی۔

آئیے سب سے پہلے دیکھتے ہیں کہ یہ مقابلہ اتنے سنسنی خیز مرحلے تک پہنچے کس طرح؟ عجیب و غریب مونچھوں والے مرو ہیوز کی تباہ کن گیند بازی کی بدولت ویسٹ انڈیز کا ٹاس جیت کر بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کچھ زیادہ موزوں ثابت نہیں ہوا کیونکہ اس کی پہلی اننگز 252 رنز پر ہی تمام ہوئی۔ لیکن جواب میں طویل قامت کرٹلی ایمبروز کے ’نہلے پہ دہلے‘ نے آسٹریلیا کو صرف 213 رنز پر محدود کر دیا اور یوں ویسٹ انڈیز کو پہلی اننگز میں 39 رنز کی برتری حاصل ہوئی۔

دوسری اننگز میں سوائے کپتان رچی رچرڈسن کے 72 رنز کے کوئی ویسٹ انڈین کھلاڑی قابل ذکر بلے بازی کا مظاہرہ نہ کر سکا اور ٹم مے کی اسپن اور کریگ میکڈرمٹ کی تیز گیند بازی کے سامنے 146 رنز پر ویسٹ انڈیز کی دوسری اننگز تمام ہوئی اور ایسا لگتا تھا کہ ’یوم آسٹریلیا‘ پر یعنی میچ کے چوتھے روز فتح میزبان ٹیم کے قدم چومے گی جسے جیت کے لیے صرف 186 رنز کا ہدف درکار تھا۔ ٹم مے نے تقریبا 7 اوورز کرائے اور صرف 9 رنز دے کر 5 بلے بازوں کو ٹھکانے لگایا۔

میچ کے چوتھے روز، یعنی 26 جنوری جو آسٹریلیا میں یوم تعطیل ہوتا ہے، ریکارڈ لوگ میدان میں مقابلہ دیکھنے کے لیے آئے لیکن انہیں سخت مایوسی کا سامنا کرنا پڑا جب محض 16 رنز پر آسٹریلیا اپنے دونوں اوپنرز ڈیوڈ بون اور مارک ٹیلر سے محروم ہو گیا۔ اس موقع پر جسٹن لینگر اور مارک وا نے مقابلہ بچانے کی پوری کوششیں کیں لیکن کرٹلی ایمبروز، کورٹنی واش، این بشپ اور کینی بنجمن پر مشتمل برق رفتار اٹیک کو سہنا اُن کے بس کی بات ہی نہ تھی اور جب 144 کے مجموعی اسکور پر آخری اُمید یعنی لینگر کی وکٹ گری تو گویا میزبان کے لیے میچ کا خاتمہ ہو گیا۔ لینگر، جن کا یہ پہلا ٹیسٹ میچ تھا، سب سے زیادہ یعنی 54 رنز بنا کر این بشپ کی گیند پر وکٹوں کے پیچھے کیچ تھما بیٹھے اور یوں آسٹریلیا کی امیدوں کے چراغ کو بھی تقریباً گل کر گئے۔

اب کریز پر وہ دونوں کھلاڑی بلا تھامے موجود تھے، جنہوں نے دوسری اننگز میں ویسٹ انڈین بیٹنگ لائن اپ کو اپنی باؤلنگ کے ذریعے ناکوں چنے چبوائے تھے، یعنی کریگ میک ڈرمٹ اور ٹم مے۔

ٹم مے کو چار سال بعد قومی ٹیم میں کھیلنے کا موقع ملا تھا اور وہ بھی آبائی شہر ایڈیلیڈ میں اور اپنی سالگرہ کے دن۔ اس لیے اُن کے لیے یہ تو مقابلہ یادگار تھا ہی لیکن تصور کیجیے کہ اگر وہ اُس روز بلے کے ذریعے اپنا جادو دکھا کر قوم کو ’یوم آسٹریلیا‘ کا تحفہ دیتے تو کیسا رہتا؟۔ بس یہی خیال ذہن میں بسائے انہوں نے ’آخری سپاہی‘ کا کردار ادا کیا اور ویسٹ انڈیز کے شہرۂ آفاق اٹیک کے سامنے سینہ سپر ہو گئے۔

اس وقت آسٹریلیا کو جیت کے لیے 42 رنز کی ضرورت تھی اور بقول ٹم مے کہ ”انہوں نے اسکور بورڈ کی طرف دیکھنا ہی چھوڑ دیا اور تمام تر توجہ اس بات پر مرکوز رکھی کہ اگلی گیند کیسے کھیلنی ہے۔“

دونوں کھلاڑی آہستہ آہستہ اننگز کو آگے بڑھاتے رہے، قسمت بھی ا’ن کا ساتھ دیتی رہی۔ ان کے بلوں سے نکلنے والے غلط شاٹ فیلڈرز سے تھوڑے تھوڑے فاصلے پر گرتے رہے اور ہر رن کے ساتھ میدان میں موجود ہزاروں تماشائیوں کی داد ان کے حوصلوں کو مہمیز دیتی رہی اور بالآخر آسٹریلیا کو منزل سے دو قدم کے فاصلے پر لے آئے۔

لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔اس موقع پر کورٹنی واش نے کریگ میکڈرمٹ کو ایک خوبصورت باؤنسر کرایا، جس کی زد میں وہ براہ راست آنے لگے اور اچانک انہوں نے گیند کو چھوڑ دینے کی ٹھانی اور اِسی کشمکش میں گیند ا’ن کے دستانوں اور چہرے کے درمیان سے گزری، ایک آواز ابھری، واش اور پوری ویسٹ انڈین ٹیم نے اپیل کی اور امپائر کی انگلی جیسے ہی فضا میں بلند ہوئی، کورٹنی واش اور تمام ویسٹ انڈین کھلاڑی دیوانہ وار میدان میں دوڑنے لگے جبکہ کریز پر دونوں بلے بازوں اور اسٹیڈیم میں موجود ہزاروں تماشائیوں پر سکوت چھا گیا۔

اس طرح ویسٹ انڈیز نے نہ صرف تاریخی فتح حاصل کی بلکہ سیریز میں بھی شکست سے بچ گیا جو 1-1 سے برابر قرار پائی۔

امپائر ڈیرل ہیئر کی جانب سے میکڈرمٹ کو آؤٹ قرار دینے پر بہت تنازع کھڑا ہوا تھا کیونکہ کئی ری پلے سے ظاہر تھا کہ گیند اُن کے دستانے یا بلے کے بجائے ہیلمٹ کے باہری حصے کو چھوتے ہوئے گزری تھی، تاہم اس پر سب کا اتفاق ہے کہ آواز واضح طور پر ابھری تھی جس کو کافی جانتے ہوئے امپائر نے انگلی فضا میں بلند کر دی اور آسٹریلیا کو تاریخ کی کم ترین مارجن کی ملنے والی شکست سہنا پڑی۔

یوں ۔۔۔ ٹم مے دوسرے اینڈ پر اپنی سالگرہ اور ’یوم آسٹریلیا‘ کا تحفہ پانے کا انتظار ہی کرتے رہ گئے اور 42 رنز پرناقابل شکست رہے۔

اس تاریخی مقابلے کے آخری لمحات یوٹیوب پر محفوظ ہیں، آئیے ان کا لطف اٹھائیں۔ اس وڈیو میں خاص طور پر میچ جیتنے پر ویسٹ انڈین کھلاڑیوں کی مسرت دیدنی ہے۔

اگر آپ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کے سنسنی خیز ترین مقابلوں کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تو کرک نامہ نے گزشتہ ماہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے درمیان ایک یادگار ٹیسٹ کے اختتام پر ایک خصوصی تحریر پیش کی تھی جس میں کم ترین مارجن سے حاصل کردہ فتوحات کو یکجا کیا گیا تھا۔ امید ہے کہ یہ تحریر بھی قارئین پسند کریں گے۔

تاریخی مقابلے کا مکمل اسکور کارڈ

آسٹریلیا بمقابلہ ویسٹ انڈیز، چوتھا ٹیسٹ

23 تا 26 جنوری 2012ء

بمقام: ایڈیلیڈ اوول، ایڈیلیڈ، آسٹریلیا

نتیجہ: ویسٹ انڈیز ایک رن سے فتحیاب

میچ کے بہترین کھلاڑی: کرٹلی ایمبروز

ویسٹ انڈیزپہلی اننگز رنز گیندیں چوکے چھکے
ڈیسمنڈ ہینز اسٹمپ ہیلی ب مے 45 95 6 0
فل سیمنز کو ہیوز ب اسٹیو واہ 46 90 8 0
رچی رچرڈسن ایل بی ڈبلیو ب ہیوز 2 15 0 0
برائن لارا ک ہیلی ب میکڈرمٹ 52 76 6 0
کیتھ آرتھرٹن ک اسٹیو واہ ب مے 0 4 0 0
کارل ہوپر ک ہیلی ب ہیوز 2 9 0 0
جونیئر مرے ناٹ آؤٹ 49 80 7 0
این بشپ ک مارک واہ ب ہیوز 13 19 2 0
کرٹلی ایمبروز ک ہیلی ب ہیوز 0 2 0 0
کینی بنجمن ب مارک واہ 15 23 2 0
کورٹنی واش ایل بی ڈبلیو ب ہیوز 5 5 0 0
فاضل رنز ل ب 11، ن ب 12 23
مجموعہ 67.3 اوورز میں تمام وکٹوں کے نقصان پر 252

 

آسٹریلیا (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
کريگ میکڈرمٹ 16 1 85 1
مرو ہیوز 21.3 3 64 5
اسٹیو واہ 13 4 37 1
ٹم مے 14 1 41 2
شین وارن 2 0 11 0
مارک واہ 1 0 3 0

 

آسٹریلیاپہلی اننگز رنز گیندیں چوکے چھکے
مارک ٹیلر ک ہوپر ب بشپ 1 4 0 0
ڈیوڈ بون ناٹ آؤٹ 39 136 4 0
جسٹن لینگر ک مرے ب بنجمن 20 79 2 0
مارک واہ ک سیمنز ب ایمبروز 0 2 0 0
اسٹیو واہ ک مرے ب ایمبروز 42 78 5 0
ایلن بارڈر ک ہوپر ب ایمبروز 19 52 2 0
این ہیلی ک ہوپر ب ایمبروز 0 3 0 0
مرو ہیوز ک مرے ب ہوپر 43 66 3 1
شین وارن ایل بی ڈبلیو ب ہوپر 0 3 0 0
ٹم مے ک مرے ب ایمبروز 6 33 0 0
کریگ میکڈرمٹ ب ایمبروز 14 18 1 0
فاضل رنز ب 7، ل ب 3، ن ب 19 29
مجموعہ75.2 اوورز میں تمام وکٹوں کے نقصان پر 213

 

ویسٹ انڈیز (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
کرٹلی ایمبروز 28.2 6 74 6
این بشپ 18 3 48 1
کینی بنجمن 6 0 22 1
کورٹنی واش 10 3 34 0
کارل ہوپر 13 4 25 2

 

ویسٹ انڈیزدوسری اننگز رنز گیندیں چوکے چھکے
ڈیسمنڈ ہینز ک ہیلی ب میکڈرمٹ 11 14 2 0
فل سیمنز ب میکڈرمٹ 10 20 0 0
رچی رچرڈسن ک ہیلی ب وارن 72 106 6 2
برائن لارا ک اسٹیو واہ ب ہیوز 7 11 1 0
کینتھ آرتھرٹن ک ہیلی ب میکڈرمٹ 0 8 0 0
کارل ہوپر ک ہیوز ب مے 25 63 2 0
جونیئر مرے ک مارک واہ ب مے 0 10 0 0
این بشپ ک مارک واہ ب مے 6 21 0 0
کرٹلی ایمبروز اسٹمپ ہیلی ب مے 1 4 0 0
کینی بنجمن ک وارن ب مے 0 6 0 0
کورٹنی واش ناٹ آؤٹ 0 0 0 0
فاضل رنز ل ب 2، ن ب 12 14
مجموعہ 57.5 اوورز میں تمام وکٹوں کے نقصان پر 146

 

آسٹریلیا (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
کریگ میکڈرمٹ 11 0 66 3
مرو ہیوز 13 1 43 1
اسٹیو واہ 5 1 8 0
ٹم مے 6.5 3 9 5
شین وارن 6 2 18 1

 

آسٹریلیادوسری اننگز، ہدف 186 رنز رنز گیندیں چوکے چھکے
ڈیوڈ بون ایل بی ڈبلیو ب ایمبروز 0 17 0 0
مارک ٹیلر ک مرے ب بنجمن 7 42 0 0
جسٹن لینگر ک مرے ب بشپ 54 146 4 0
مارک واہ ک ہوپر ب واش 26 38 4 0
اسٹیو واہ ک آرتھرٹن ب ایمبروز 4 11 0 0
ایلن بارڈر ک ہینز ب ایمبروز 1 17 0 0
این ہیلی ب واش 0 1 0 0
مرو ہیوز ایل بی ڈبلیو ب ایمبروز 1 3 0 0
شین وارن ایل بی ڈبلیو ب بشپ 9 60 0 0
ٹم مے ناٹ آؤٹ 42 99 4 0
کریگ میکڈرمٹ ک مرے ب واش 18 57 0 0
فاضل رنز  ب 1، ل ب 8، ن ب 13 22
مجموعہ 79 اوورز میں تمام وکٹوں کے نقصان پر 184

 

ویسٹ انڈیز (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
کرٹلی ایمبروز 26 5 46 4
این بشپ 17 3 41 2
کینی بنجمن 12 2 32 1
کورٹنی واش 19 4 44 3
کارل ہوپر 5 1 12 0

Facebook Comments