زمبابوے کی بدترین بیٹنگ، نیوزی لینڈ کی ریکارڈ فتح

ٹیسٹ اکھاڑے میں واپسی کے بعد بیرون ملک پہلا ٹیسٹ زمبابوے کے لیے ڈراؤنا خواب ثابت ہوا کیونکہ نیوزی لینڈ نے پہلا ٹیسٹ ایک اننگز اور 301 رنز کے ریکارڈ مارجن سے جیت لیا ہے۔ یہ نہ صرف نیوزی لینڈ کی تاریخ کی سب سے بڑی فتح ہے بلکہ زمبابوے کی بدترین شکست بھی ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ زمبابوے کو بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی کے لیے ابھی کتنی بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ زمبابوے نیوزی لینڈ کے 495 رنز کے جواب میں ایک ہی دن میں دو مرتبہ آل آؤٹ ہو گیا، وہ بھی پہلی اننگز میں اپنے تاریخ کے کم ترین اسکور یعنی 51 پر۔ دوسری اننگز میں بھی بلے باز کوئی معجزہ نہ دکھا سکے اور محض 143 رنز پر ڈھیر ہو گئے۔

اس سے قبل زمبابوے کا کم ترین اسکور 54 رنز تھا جو اس نے مارچ 2005ء میں جنوبی افریقہ کے خلاف کیپ ٹاؤن ٹیسٹ میں بنائے تھے۔

نیوزی لینڈ کی فاتح ٹیم ٹرافی کے ہمراہ (تصویر: Getty Images)

نیوزی لینڈ کی فاتح ٹیم ٹرافی کے ہمراہ (تصویر: Getty Images)

ایسی ہی مستقل ناقص کارکردگی کے بعد زمبابوے نے رضاکارانہ طور پر ٹیسٹ کرکٹ چھوڑنے کا اعلان کیا تھا اور واپسی کے بعد سے اب تک زمبابوے کو اتنی ذلت نہیں اٹھانا پڑی جتنی آج انہیں نیپئر کے میدان میں ہوئی ہے۔ اس شکست کے ساتھ ہی زمبابوے آگے بڑھنے کے بجائے مزید پیچھے لوٹ گیا ہے کیونکہ بیرون ملک اس کی کارکردگی کی قلعی کھل چکی ہے۔ ایک جانب جہاں باؤلرز مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئے وہیں بلے بازوں نے بھی قوم کو مایوس کرنے میں کسر نہیں چھوڑی۔ دوسرے روز کا تقریباً پورا کھیل بارش کی نذر ہو جانے کے باوجود نیوزی لینڈ-زمبابوے واحد ٹیسٹ محض تین دن میں اپنے اختتام کو پہنچا۔ یوں یہ مقابلہ بلاوایو میں دونوں ملکوں کے درمیان کھیلے گئے آخری ٹیسٹ سے بالکل مختلف ثابت ہوا جہاں انتہائی سنسنی خیز مقابلہ دیکھا گیا اور بالآخر نیوزی لینڈ نے 34 رنز سے فتح پائی تھی۔

میک لین پارک، نیپئر میں زمبابوے نے ٹاس جیت کر نیوزی لینڈ کو بلے بازی کی دعوت دی، جس نے پہلے برینڈن میک کولم کے 83 اور بعد ازاں کپتان روز ٹیلر اور بریڈلے-جان واٹلنگ کی سنچریوں کی بدولت 495 رنز بنا ڈالے۔ میچ میں نیوزی لینڈ کے واحد مایوس کن خبر کپتان روز ٹیلر کا زخمی ہونا ہے جو سنچری کے بعد زخمی ہوئے اور اب چار سے چھ ہفتے کے لیے کرکٹ کھیلنے سے محروم ہو چکے ہیں۔ یعنی سیریز کے بقیہ مقابلوں میں نہیں کھیل پائیں گے۔ اپنی سنچری اننگز کے دوران ایک رن دوڑنے کے دوران وہ پنڈلی کی تکلیف کا شکار ہو گئے اور بعد ازاں اسکین سے ثابت ہوا کہ انجری کچھ شدید نوعیت کی ہے جس کی وجہ سے چند ہفتے نہیں کھیل پائیں گے۔ ان کی عدم موجودگی میں آنے والے مقابلوں میں برینڈن میک کولم نیوزی لینڈ کی قیادت کریں گے۔

روز ٹیلر کے 122 رنز کے علاوہ جنوبی افریقی نژاد بریڈلے-جان واٹلنگ نے بھی کیریئر کی پہلی سنچری بنائی، انہوں نے 149 گیندوں پر 12 چوکوں کی مدد سے 102 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی۔ ان کی سنچری مکمل ہوتے ہی نیوزی لینڈ نے 495 رنز پر اننگز ڈکلیئر کرنے کا اعلان کیا۔

نیوزی لینڈ کے تقریباً تمام ہی باؤلر جارحانہ موڈ میں نظر آئے جنہوں نے ایک لمحے کے لیے حریف بلے بازوں کو چین کا سانس نہ لینے دیا۔ پہلی اننگز میں صرف میلکم والر 23 رنز کے ساتھ واحد کھلاڑی رہے جن کی اننگز دہرے ہندسے میں داخل ہوئی۔ دیگر تمام بلے بازوں کو تو یہ توفیق بھی نصیب نہ ہوئی۔ پوری ٹیم 29 ویں اوور میں 51 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہو گئی۔

کرس مارٹن، ٹرینٹ بولٹ، ڈوگ بریسویل اور ٹم ساؤتھی نے 2،2 جبکہ واحد اسپنر ڈینیل ویٹوری نے ایک وکٹ حاصل کی۔

فالو آن کا شکار ہونے کے بعد دوسری اننگز بھی کچھ پہلی اننگز ہی کا ری پلے ظاہر ہو رہی تھی، بلکہ اس سے بھی بدتر کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کیونکہ صرف 12 کے مجموعی اسکور پر زمبابوے کی آدھی ٹیم یعنی پانچ کھلاڑی پویلین لوٹ چکے تھے۔ اگر ریگس چکابوا 63 اور گریم کریمر 26 رنز نہ بناتے تو زمبابوے کی اننگز تہرے ہندسے میں بھی داخل نہ ہوتی۔ تاہم اس مزاحمت لاحاصل کے خاتمے کے ساتھ ہی پوری ٹیم 143 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔

دوسری اننگز میں نیوزی لینڈ کی جانب سے اہم باؤلر کرس مارٹن رہے جنہوں نے صرف 26 رنز دے کر 6 وکٹیں حاصل کیں۔ تین وکٹیں ڈوگ بریسویل کو ملیں جبکہ ایک وکٹ کین ولیم سن کو حاصل ہوئی۔

کرس مارٹن کو 8 وکٹیں حاصل کرنے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

اب دونوں ٹیمیں تین ایک روزہ بین الاقوامی مقابلوں میں آمنے سامنے ہوں گی جس کا پہلا معرکہ 3 فروری کو ڈنیڈن میں ہوگا۔

اسکور کارڈ کچھ دیر میں ملاحظہ کریں

Facebook Comments