[ریکارڈز] انگلستان کی تاریخ کے کم ترین مجموعے

پاکستان اور انگلستان کے درمیان ابوظہبی میں کھیلا گیا میچ امر ہو چکا، پاکستان نے سنسنی خیز معرکہ آرائی کے بعد مقابلہ 72 رنز کے مارجن سے جیت لیا اور توقعات کے بالکل برعکس اولین دونوں مقابلوں میں ہی سیریز اپنے نام کر لی۔ میچ کی سب سے عمدہ بات دوسری اننگز میں پاکستانی اسپنرز کی زبردست گیند بازی رہی جنہوں نے عالمی نمبر ایک انگلستان کو محض 72 رنز پر ڈھیر کر دیا۔ یہ انگلستان کا پاکستان کے خلاف تاریخ کا کمترین اسکور تھا۔

انگلش کپتان اینڈریو اسٹراس نے ابوظہبی ٹیسٹ کی شکست کو کیریئر کی تکلیف دہ ترین ہار قرار دیا ہے (تصویر: AFP)

انگلش کپتان اینڈریو اسٹراس نے ابوظہبی ٹیسٹ کی شکست کو کیریئر کی تکلیف دہ ترین ہار قرار دیا ہے (تصویر: AFP)

اس سے قبل انگلستان کا پاکستان کے خلاف کم ترین اسکور 1954ء میں اوول میں کھیلے گئے تاریخی ٹیسٹ میں تھا، جب انگلستان محض 130 رنز پر آل آؤٹ ہو گیا تھا، جب فضل محمود کی شاندار باؤلنگ کی بدولت پاکستان نے انگلش سرزمین پر پہلی فتح سمیٹی تھی۔ یہ فتح چونکہ اولین تھی، اس لیے یادگار تو تھی ہی لیکن اس کے نتیجے میں پاکستان نے انگلش سرزمین پر پہلے دورے ہی میں سیریز برابر کر کے دنیا کو پیغام دیا کہ دنیائے کرکٹ کے نقشے پر اک نئی طاقت ابھرنے والی ہے۔ اوول ٹیسٹ بھی ابوظہبی ٹیسٹ کی طرح انتہائی سنسنی خیز مرحلے کے بعد ختم ہوا تھا جب انگلستان کو فتح کے لیے محض 168 رنز کی ضرورت تھی اور اس میں بھی باؤلرز خصوصاً فضل محمود نے یادگار کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔ فضل نے میچ میں مجموعی طور پر 99 رنز دے کر 12 وکٹیں حاصل کیں اور میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔

علاوہ ازیں نومبر 1987ء میں لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں بھی انگلش سائیڈ 130 کے مجموعے پر ڈھیر ہو گئی تھی۔ جی ہاں! یہ اسی سیریز کا پہلا معرکہ تھا جس کے دوسرے معرکے میں انگلش کپتان مائیک گیٹنگ اور امپائر شکور رانا کے درمیان وہ واقعہ پیش آیا تھا جس نے دنیائے کرکٹ کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ خود لاہور ٹیسٹ میں اچھی خاص بدمزگی پیدا ہو گئی تھی کیونکہ انگلش کھلاڑیوں کا اصرار تھا کہ مقامی امپائروں نے انگلستان کے خلاف بہت سارے فیصلے دیے ہیں اور یہ تک الزام دھرا کہ انہیں حکومت پاکستان کی جانب سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پاکستانی کھلاڑیوں کی مدد کریں۔ گو کہ امپائرنگ کا معیار بہت ناقص تھا، لیکن اس طرح کے الزامات لگانا مضحکہ خیز امر تھا۔ اس کے بعد جو تھوڑی بہت کسر رہ گئی تھی وہ فیصل آباد میں کھیلے جانے والے دوسرے ٹیسٹ میں پوری ہو گئی جہاں انگلش کپتان اور امپائر کے درمیان تلخ کلامی اتنی بڑھی کہ امپائر نے معافی مانگنے تک کھیل دوبارہ شروع نہ کرنے کا اعلان کر دیا اور یوں میچ کا پورا ایک روز اسی ہنگامے کی نذر ہو گیا۔ یہاں سے پاک-انگلستان تنازعات کے اس طویل سلسلے کا آغاز ہوا جس کو معراج 2010ء میں اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں حاصل ہوئی۔

بہرحال، تو ذکر ہو رہا تھا پاکستان کے خلاف انگلستان کے کم ترین اسکورز کا۔ مذکورہ بالا دونوں اسکورز کے علاوہ پاکستان نے متحدہ عرب امارات میں جاری حالیہ سیریز کے پہلے ٹیسٹ میں بھی انگلستان کو 160 رنز پر ڈھیر کیا تھا اور پہلا مقابلہ با آسانی 10 وکٹوں سے جیت کر سیریز میں برتری حاصل کی جسے ابوظہبی میں سنسنی خیز فتح نے ایک یادگار جیت میں بدل دیا۔

اگر مجموعی طور پر جائزہ لیا جائے تو انگلستان نے کم ترین اسکور کا ریکارڈ جنوری 1887ء میں سڈنی میں آسٹریلیا کے خلاف بنایا تھا جب اس کی ٹیم محض 45 رنز پر آل آؤٹ ہو گئی تھی۔ حیران کن امر یہ ہے کہ اس کے باوجود انگلستان یہ مقابلہ 13 رنز سے جیتنے میں کامیاب ہوا تھا۔ ویسے حسن اتفاق دیکھئے کہ 125 سال قبل جس روز انگلستان 45 رنز پر ڈھیر ہوا تھا وہ بھی 28 جنوری ہی کی تاریخ تھی۔ اس کے علاوہ انگلستان کے دیگر کم ترین اسکورز میں مارچ 1994ء کے پورٹ آف اسپین ٹیسٹ میں ویسٹ انڈیز کے خلاف 46 رنز پر ڈھیر ہو جانا اور فروری 2009ء میں اسی ویسٹ انڈیز کے خلاف کنگسٹن، جمیکا میں 51 رنز کی بدترین کارکردگی بھی شامل ہیں۔ اول الذکر کے علاوہ انگلستان کو دونوں مقابلوں میں شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔

ابوظہبی میں انگلستان کی شکست تاریخ میں چوتھا موقع ہے جب انگلستان 150 سے کم رنز کے ہدف کو عبور نہ کر پایا ہو۔ ایک مقابلہ ماضی قریب کا ہے اور بقیہ تمام مقابلوں کو 100 سے زائد سال گزر چکے ہیں۔ انگلستان آخری مرتبہ فروری 1978ء میں ایک کم ہدف کو حاصل نہ کر پایا تھا جب باب ولس کی تباہ کن گیند بازی کے باعث انگلستان کو چوتھی اننگز میں صرف 137 رنز کا ہدف ملا اور رچرڈ ہیڈلی اور رچرڈ کولنج کے سامنے پوری انگلش ٹیم محض 64 رنز پر ڈھیر ہوگئی تھی۔ ابوظہبی میں بھی ایسا لگتا تھا کہ 'ویلنگٹن کا بھوت' ایک مرتبہ پھر زندہ ہو گیا ہے۔

قارئین کی دلچسپی کے لیے ہم انگلستان کے ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کے کم ترین مجموعوں کی فہرست پیش کر رہے ہیں، امید ہے معلومات میں اضافے کا باعث بنے گی:

مجموعی اسکور بمقابلہ نتیجہ بمقام بتاریخ
انگلستان 45 آسٹریلیا فتح سڈنی 1887ء جنوری
انگلستان 46 ویسٹ انڈیز شکست پورٹ آف اسپین 1994ء مارچ
انگلستان 51 ویسٹ انڈیز شکست کنگسٹن 2009ء فروری
انگلستان 52 آسٹریلیا شکست اوول، لندن 1948ء اگست
انگلستان 53 آسٹریلیا شکست لارڈز 1888ء جولائی
انگلستان 61 آسٹریلیا شکست ملبورن 1902ء جنوری
انگلستان 61 آسٹریلیا شکست ملبورن 1904ء مارچ
انگلستان 62 آسٹریلیا شکست لارڈز 1888ء جولائی
انگلستان 64 نیوزی لینڈ شکست ویلنگٹن 1978ء فروری
انگلستان 65 آسٹریلیا شکست سڈنی 1895ء فروری

Facebook Comments