مصباح الحق (پاکستان)

پاکستانی قومی کرکٹ ٹیم کے بلّے باز مصباح الحق خان نیازی 28 مئی 1974ء کو میانوالی (پنجاب، پاکستان) میں پیدا ہوئے ۔ مصباح مڈل آرڈر میں سیدھے ہاتھ سے بلّے بازی کرنے والے کھلاڑی ہیں اور اپنے مخصوص جارحانہ چھکوں سے پہچانے جاتے ہیں۔ مقامی کرکٹ میں مصباح سرگودھا، خان ریسرچ لیباریٹریز، سوئی نادرن گیس، فیصل آباد اور پنجاب کی ٹیموں کی طرف سے کھیلتے رہے ہیں جبکہ 2008ء سے بلوچستان کی ٹیم کا حصہ ہیں۔

قومی کرکٹ ٹیم میں شمولیت

مصباح الحق 2001ء میں 27 سال کی عمر میں پہلی بار قومی کرکٹ ٹیم کا حصہ بنے۔ مصباح نے 8 مارچ 2001ء کو اپنا پہلا ٹیسٹ میچ اور 27 اپریل 2002ء کو پہلا ایک روزہ میچ کھیلا۔ تاہم وہ ابتدائی کئی مقابلوں میں متاثر کن کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے۔ اُن کی کارکردگی کا اندازہ ان اعداد و شمار سے لگایا جاسکتا ہے کہ 2001ء سے 2004ء تک انہوں نے پانچ ٹیسٹ مقابلوں میں ایک بھی نصف سنچری نہ بنائی اور پانچ مقابلوں کی دس اننگز میں اُن کے مجموعی رنز صرف 120 رنز تھا جبکہ 12 ایک روزہ مقابلوں میں مجموعی طور پر 305رنز اسکور کیے جس میں کینیا کے خلاف صرف ایک نصف سنچری شامل تھی۔ نتیجتاً انہیں قومی ٹیم سے خارج کردیا گیا۔

قومی ٹیم میں واپسی
2007ء میں انضمام الحق کی ایک روزہ کرکٹ مقابلوں سے ریٹائرمنٹ کے بعد اُن کے خلا کو پر کرنے کے لیے ایک بار پھر مصباح الحق کا نام زیرِ غور آیا جو مقامی کرکٹ میں باقاعدگی سے متاثر کُن کارکردگی کا مظاہرہ کررہے تھے۔ 33 سال کی عمر میں مصباح ایک بار پھر جنوبی افریقہ میں ہونے والے پہلے آئی سی سی ورلڈ ٹی20 کے لیے پاکستانی کرکٹ ٹیم کا حصہ بنے جہاں انہوں نے بھارت کے خلاف 35 گیندوں پر 53 اور سُپر8 مرحلے میں آسٹریلیا کے خلاف ناقابلِ شکست رہتے ہوئے صرف 42 گیندوں پر 66 رنز بنائے اور مردِ میدان قرار پائے۔ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2007ء کے سنسنی خیز فائنل مقابلے میں پاکستان کو فتح کے لیے بھارت کے خلاف چار گیندوں پر چھ رنز کی ضرورت تھی لیکن مصباح الحق گیند کو شارٹ فائن لیگ کی طرف شاٹ کھیلنے کی کوشش میں سری سانتھ کے ہاتھ میں کیچ تھما بیٹھے اور یوں پاکستان کو فتح کے انتہائی نزدیک پہنچا کر بھی مقابلہ نہ جتوا سکے۔ یہی وہ موقع تھا کہ جب ناقدین نے مصباح الحق کی ناقابل شکست اننگز اور شاندار کارکردگیوں کو پس پشت ڈال کر ان پر کڑی تنقید کا آغاز کردیا۔

کرکٹ کیریئر کی حیاتِ نَو
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ مصباح الحق کے کیریئر کو 2007ء میں حیاتِ نَو نصیب ہوئی۔ انہیں ہر طرز کی کرکٹ ٹیم کا حصہ بنایا گیا۔ مصباح نے بھی اپنے انتخاب کو درست ثابت کرنے کے لیے کئی فتح گر اننگز کھیلیں۔ 2007ء کے اواخر میں پاکستانی ٹیم نے بھارت کا دورہ کیا جہاں مصباح نے پانچ ایک روزہ مقابلوں میں بالترتیب 27، 49، 38، 40 اور 22 رنز بنائے اور پاکستان کو پانچ ایک روزہ میچوں کی سیریز میں 3-2 سے شکست ہوئی ہوئی۔ مصباح نے سیریز کے پہلے ہی ٹیسٹ میچ کی پہلی اننگز میں 82 اور دوسری اننگز میں 45 رنز بنائے تاہم پاکستان کو 6 وکٹوں سے شکست ہوئی۔ اس شکست کے جواب میں مصباح نے دوسرے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں اپنی اولین سنچری اسکور کرتے ہوئے 161 رنز بنائے اور دوسرے کنارے سے تمام وکٹیں گرجانے کے باعث ناقابلِ شکست لوٹے۔ تیسرے ٹیسٹ میں بھی مصباح ایک کنارے سے رنز سمیٹتے رہے اور دوسری طرف سے تمام کھلاڑی پویلین لوٹ جانے کے باعث 133 رنز بناکر ناقابلِ شکست رہے ۔ بھارت کے خلاف آخری دونوں ٹیسٹ بغیر کسی فیصلے کے ختم ہوجانے کے باعث میزبان ٹیم کو ٹیسٹ سیریز میں ایک صفر سے کام یابی حاصل ہوئی۔ لیکن اس دورۂ بھارت میں مصباح الحق کی مجموعی کارکردگی نے اُن کی ساکھ بہتر بنانے میں مدد دی۔

2008ء کے تحفے
یوں تو سال 2007ء میں مصباح کی ایک روزہ میچوں میں کارکردگی درمیانے درجے ہی کی تھی کہ انہوں نے دس میچوں میں 30.22 کی اوسط سے 272 رنز بنائے اور اُن کا سب سے زیادہ اسکور 49 تھا لیکن ٹیسٹ مقابلوں میں پانچ میچوں کی 9 اننگز میں 78.71 کی بہترین اوسط سے کھیلتے ہوئے 551 رنز بنائے جس میں ناقابلِ شکست 161 رنز سمیت دو سنچریاں شامل تھیں۔ اس سال میں مصباح الحق کی کاکردگی دیکھتے ہوئے 2008ء میں انہیں دو تحفے ملے۔ انہیں نائب کپتان کے عہدے پر فائز کردیا گیا اور بورڈ نے کھلاڑیوں کے مرکزی معاہدے میں انہیں ’’A‘‘ زمرے میں شامل کرلیا۔ مصباح نے 2008ء میں کھیلے گئے 21 مقابلوں کی 17 اننگز میں 53.83 کی اوسط اور 98.92 کے بہتر اسٹرائک ریٹ سے کُل 646 رنز بنائے جس میں پانچ نصف سنچریاں شامل تھیں۔ اُن کا سب سے زیادہ اسکور ویسٹ انڈیز کے خلاف ناقابلِ شکست 79 رنز رہے جب کہ ایشیا کپ میں سری لنکا کے خلاف 76 اور بھارت کے خلاف ناقابلِ شکست رہتے ہوئے 70 رنز بھی بنائے۔ یہ اعداد و شمار بلاشبہ اُن کی کارکردگی میں مسلسل بہتری کا واضح اشارہ تھے۔

کارکردگی میں تنزلی اور ٹیم سے ایک بار پھر باہر
2009ء میں مصباح کوئی بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے۔ 8 ٹیسٹ مقابلوں میں اُن کی اوسط صرف 27.16رہی اور سب سے بہتر اننگز ناقابلِ شکست65رنز جب کہ 13 ایک روزہ مقابلوں میں 33.33 کی اوسط سے کُل 300رنز جس میں صرف دو نصف سنچریاں شامل تھیں۔ 2010ء کا آغاز بھی کچھ بہتر نہ رہا۔ آئی سی سی ورلڈٹی ٹوئنٹی2010ء کے سیمی فائنل میں 14مئی2010ء کو آسٹریلیا کے خلاف پاکستانی ٹیم کی شکست کے بعد ایک بار پھر مصباح کو قومی ٹیم سے باہر کردیا گیا۔ مصباح کے لیے یہ صورتِ حال خاصی مایوس کُن تھی، یہاں تک کہ انہوں نے فیصلہ کیا کہ اگر انہیں یوں ہی نظر انداز کیا جاتا رہا تو وہ اگلے سال عالمی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے لیں گے ۔

قیادت کے منصب پر
پاکستانی کرکٹ ٹیم نے 2010ء میں مصباح کے بغیر انگلستان کا دورہ کیا اور اگست 2010ء میں اپنی تاریخ کے بدترین بحران یعنی ’’اسپاٹ فکسنگ تنازعہ‘‘ میں گھر گئی۔ اکتوبر 2010ء میں جب متحدہ عرب امارات میں جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز کا وقت آیا تو پرانے اور تجربہ کار بلّے بازوں کی ضرورت محسوس کی گئی، لہٰذا پاکستان کرکٹ بورڈ کی طرف سے یو۔اے ۔ای دورے کے لیے منتخب کردہ اسکواڈ میں مصباح الحق کی ایک بار پھر واپسی ہوگئی۔ لیکن اس سے بھی زیادہ حیران کُن فیصلہ ٹیم کے اعلان کے اگلے دن سامنے آیا جب مصباح کو جنوبی افریقہ کے خلاف دو ٹیسٹ مقابلوں کی سیریز کے لیے کپتان کا عہدہ سونپ دیا گیا۔ اس فیصلے پر بہت لے دے ہوئی۔ یہاں تک کہ پاکستان کے سابق کپتان اور مایہ ناز تیز گیند باز وسیم اکرم نے بھی اس فیصلے پر کڑی تنقید کی۔ مصباح پر یہ تنقید نئی نہیں تھی۔ اس سے پہلے بھی انہیں کرکٹ حلقوں کی جانب سے اکثر اس تنقید کا سامنا رہا جس کی اہم ترین وجہ اُن کی زیادہ عمر ہے ۔ ماہرینِ کرکٹ کے خیال میں پاکستان کرکٹ بورڈ کو ایک نوجوان کپتان منتخب کرنا چاہیے بجائے ایک 37سالہ شخص کے جس میں گنتی کے چند سال کی کرکٹ باقی ہو۔ پاکستان کے سابق کوچ جیف لاسن نے مصباح کی حمایت کرتے ہوئے انہیں کپتان بنانے کے فیصلے کو درست قرار دیا۔ اکتوبر2010ء میں جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز کے ابتدائی دو ٹی20 میچوں میں شاہد خان آفریدی کی زیرِ قیادت مصباح صرف 27 اور 33 رنز بناسکے اور دونوں میں پاکستان کو شکست ہوئی۔ 2 ایک روزہ میچوں میں بھی اُن کا اسکور بالترتیب 14 اور 17 رنز رہا۔ پہلے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں وہ 38 گیندوں پر 9رنز بناکر آؤٹ ہوگئے ، تاہم دوسری اننگز میں مصباح نے ناقابلِ شکست رہتے ہوئے 76رنز اسکور کیے اور یونس خان کے ساتھ 168رنز کی شراکت داری کی مدد سے پاکستان کو شکست سے بچاتے ہوئے میچ برابر کرنے میں کام یاب ہوئے ۔ دوسرے ٹیسٹ میں بھی پہلی اننگز میں 77 اور دوسری اننگز میں ناقابلِ شکست 58رنز بناکر مصباح نے میچ برابر کرنے میں مدد دی۔

سال2011ء میں پاکستانی فتوحات کا سلسلہ
سال 2011ء پاکستان کے لیے فتوحات کا سال ثابت ہوا۔ 2010ء میں اسپاٹ فکسنگ جیسے تنازعے کی بھنور سے نکلنے کے بعد مصباح الحق کی قیادت میں پاکستانی ٹیم نے ہر طرف فتوحات کے جھنڈے گاڑے جس کا آغاز جنوری 2011ء میں نیوزی لینڈ کے خلاف دونوں طرز کی کرکٹ میں فتح سے ہوا۔ نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز کے چوتھے ایک روزہ میچ میں مصباح نے ناقابلِ شکست رہتے ہوئے 93رنز کی فتح گر اننگز کھیلی۔ بعد ازاں کرکٹ ورلڈ کپ 2011ء میں شاہد خان آفریدی کی زیرِ قیادت بھی مصباح نے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 65، 83 اور 56 رنز کی اننگز کھیلیں۔ لیکن پاکستانی کرکٹ شائقین ورلڈکپ 2011ء کے سیمی فائنل میں مصباح الحق کی سست بلّے بازی کو شاید کبھی نہیں بھلا پائیں گے جس کے نتیجے میں بھارت کے خلاف ورلڈکپ مقابلوں میں پاکستان کی پہلی فتح بہت قریب آکر دور چلی گئی اور ایک سنسنی خیز مقابلے کا انجام بھارت کی فتح پر منتج ہوا۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے دورۂ ویسٹ انڈیز سے واپسی پر ایک روزہ دستے کے کپتان شاہد آفریدی نے انتظامیہ سے اختلافات کا کھل کر اظہار کیا جس کے نتیجے میں انہیں کپتانی سے ہاتھ دھونے پڑے ۔ مئی2011ء میں تینوں طرز کی کرکٹ میں پاکستانی دستے کی قیادت مصباح الحق کے سپرد کردی گئی۔ مصباح کی قیادت میں پاکستان نے پہلے آئرلینڈ، پھر زمبابوے کو زیر کیا، اُس کے بعد سری لنکا کی مضبوط ٹیم کا متحدہ عرب امارات میں سامنا کیا جہاں ٹیسٹ سیریز ایک صفر اور پانچ ایک روزہ مقابلوں میں 4۔1 سے کام یابی حاصل کی۔ بعدازاں بنگلہ دیش کو بھی اُس کی زمین پر شکست دی۔ گوکہ مصباح کی انفرادی اننگز بہت عمدہ نہیں تھیں لیکن بہ ہر حال قیادت کے میدان میں انہوں نے اپنا لوہا منوایا اور پاکستانی ٹیم کے دنیائے کرکٹ میں ایک بار اُبھرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

مصباح نے 2011ء میں 10 ٹیسٹ مقابلوں کی 16اننگز میں 69.54 کی اوسط سے 765رنز بنائے جن میں 7نصف سنچریاں اور ایک سنچری شامل تھی جب کہ 31ایک روزہ مقابلوں میں 53.55کی اوسط سے 964رنز بنائے جن میں 9نصف سنچریاں شامل تھیں۔

مجموعی جائزہ
مصباح الحق کے مجموعی کرکٹ کیریئر (2001ء تا 2012ء) کا جائزہ لیا جائے تو انہوں نے 33 ٹیسٹ میچوں میں 46.54 کی اوسط سے 2141رنز اسکور کیے جس میں 3 سنچریاں اور 16نصف سنچریاں شامل ہیں؛ 89ایک روزہ مقابلوں میں 42.67 کی اوسط اور 75.29 کے اسٹرائک ریٹ سے 2518رنز بنائے جس میں 18نصف سنچریاں شامل ہیں؛ جب کہ 36 ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں 37.94 کی اوسط سے 721رنز بنائے ۔ مصباح کا ٹیسٹ میں ناقابلِ شکست 161، ایک روزہ مقابلوں میں ناقابلِ شکست 93، اور ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں ناقابلِ شکست 87 رنز سب سے زیادہ اسکور ہے ۔

مصباح الحق کے دورِ قیادت (2010ء تا 2012ء) میں پاکستانی کرکٹ ٹیم نے 14 ٹیسٹ میچ کھیلے جن میں سے 8 میں فتح، ایک میں شکست اور 5 بلامقابلہ ختم ہوئے ؛ جب کہ 14 ایک روزہ میچوں میں سے 13 میں فتح اور ایک میں شکست ہوئی؛ یوں ہی پانچ ٹی ٹوئنٹی میچوں میں سے تمام میں فتح حاصل ہوئی۔ مصباح‎ کب تک کپتان رہتے ہیں اور کب تک کرکٹ کھیلتے ہیں، یہ تو وقت بتائے گا لیکن بہر حال مصباح الحق نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کی نیَّا کو منجدھار سے نکال کر ترقی کے سفر پر ضرور گامزن کردیا ہے ۔

Article Tags

Facebook Comments