سابق پاکستانی کھلاڑی محسن خان کو برقرار رکھنے کے حامی

پاکستان کرکٹ ٹیم کی مسلسل کامیابیوں کے باوجود پاکستان کرکٹ بورڈ انگلستان کے خلاف سیریز کے بعد کوچ محسن خان کو ہٹا کر غیر ملکی کوچ ڈیوڈ واٹمور کو نیا کوچ بنانے کا اصولی فیصلہ کرچکا ہے،تاہم سابق ٹیسٹ کرکٹرز نے کوچ محسن خان کو برقرار رکھنے کی حمایت کی ہے۔

عالمی نمبرایک ٹیسٹ ٹیم انگلینڈ کے خلاف شاندار کارکردگی کے باوجود کوچ محسن خان کا مستقبل تاریک نظر آرہا ہے۔ کرکٹ بورڈ محسن خان کی جگہ ڈیوواٹمور سے معالات طے کررہا ہے۔لٹل ماسٹر حنیف محمد اور سابق کپتان راشد لطیف کا کہنا ہے کہ محسن خان اور مصباح الحق کا وننگ کمبی نیشن برقرار رکھا جائے۔

عارضی کوچ محسن خان کی نگرانی میں پاکستان مستقل چار سیریز جیت چکا ہے (تصویر: AFP)

عارضی کوچ محسن خان کی نگرانی میں پاکستان مستقل چار سیریز جیت چکا ہے (تصویر: AFP)

کرک نامہ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے حنیف محمد نے کہا کہ ”غیر ملکی کوچ کو کھلاڑیوں کے ساتھ ایڈجسٹ ہونے میں مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔سب سے بڑا مسئلہ زبان کا ہوتا ہے، عارضی کوچ محسن خان خود بھی بہترین بلے باز رہے ہیں اور انہوں نے اپنے دور میں اچھی کرکٹ کھیلی ہے، اس لیے بورڈ کو ان کے کام کی بھی قدر کرنی چاہیے۔“ حنیف محمد نے کہا کہ ”پاکستان نے دنیا کی بہترین ٹیم کو تین اور چار روز کے اندر جس انداز میں شکستیں دی وہ انتہائی قابل تعریف ہیں، جس کا کریڈٹ کھلاڑیوں اور کپتان کے ساتھ ساتھ کوچ کو بھی جاتا ہے۔“

ایک اور سابق کپتان راشد لطیف نے کہا ہے کہ ”مسلسل کامیابیوں کے بعد محسن خان کی جگہ کسی اور کو کوچ مقرر کرنا درست فیصلہ نہیں ہوگا۔“ کرک نامہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ”انگلش ٹیم ہرگز کمزور نہیں ہے، انہیں اسپن وکٹوں پر پاکستان نے جس انداز میں شکست دی وہ ٹیم کے متحد ہونے کی واضح علامت ہے۔“ سابق وکٹ کیپر نے کہا کہ ”جب ٹیم ایک یونٹ کی طرح کھیلے اور وننگ کمبی نیشن بن جائے تو پھر مخالف ٹیم کے لیے غیر موافق کنڈیشنز میں سنبھلنا مشکل ہوجاتا ہے۔“ انہوں نے کہا کہ ”تیسرے ٹیسٹ میں بھی سعید اجمل اور خصوصاً عبدالرحمٰن انگلش ٹیم کے لیے بے شدید مشکلات پیدا کریں گے۔ تاہم حالیہ کامیابیوں کے بعد پاکستان کو مستقبل کے پیش نظر ون ڈے یا ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں نئے کپتان کو گروم کرنا چاہیے تاکہ مستقبل میں مشکل پیش نہ آئے۔“

سابق چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) خالد محمود بھی کوچنگ کے لئے مقامی کوچ کے حامی نظر آتے ہیں۔ خالد محمود نے کہا کہ ”اگر وہ چیئرمین پی سی بی ہوتے تو وہ موجودہ حالات میں کبھی بھی ڈیو واٹمور کو محسن خان پر ترجیح نہ دیتے۔“انہوں نے کہا کہ ”بھاری معاوضے پر غیر ملکی کوچ کو ایسے وقت میں بلایا جانا انتہائی غیر ضروری اقدام ہوگا، جب ٹیم فتوحات کی شاہراہ پر گامزن ہے۔ اس لیے میری رائے میں بورڈ کو یہ قدم اٹھانے سے اجتناب کرنا چاہیے۔“ خالد محمود نے کہا کہ ”محسن خان میرے دور میں بھی نوجوان بلے بازوں کو گروم کرچکے ہیں،اور میرے خیال میں اگر کوچ بلے باز ہو تو زیادہ بہتر ہے۔“

پاکستان ٹیم کا مستقل کوچ کسے مقرر کیا جائے؟


Loading ... Loading ...

پاکستان کے معروف آل راؤنڈر اور ایک روزہ ٹیم کے اہم رکن شاہد آفریدی نے کہا ہے کہ ”محسن خان کیسی کارکردگی دکھا رہے ہیں، اس کا جواب سری لنکا اور انگلستان کے خلاف حاصل کی گئی حالیہ کامیابیاں ہیں۔ ٹیم ایک یونٹ کی طرح کھیل رہی ہے، تاہم کھلاڑیوں کا کام پرفارم کرنا ہے، ڈیوواٹمور یا کسی اور کوچ کو مقرر کرنا بورڈ کا کام ہے۔“ شاہد آفریدی نے محتاط رویہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ”میں سمجھتا ہوں کہ بورڈ جو فیصلہ کرے گا وہ بہتر ہوگا۔ “

وقاریونس کے استعفے کے بعد عارضی طور پر کوچ کی ذمہ داریاں سنبھالنے والے محسن خان کی کامیابیوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے حکام کو غیر ملکی کوچ کے تقرر کے لئے جواز سے محروم کردیا ہے، لیکن اب بھی بورڈ کا واضح جھکاؤ غیر ملکی کوچ کی جانب دکھائی دے رہا ہے۔

Facebook Comments