[آج کا دن] کرکٹ تاریخ کے شرمناک ترین لمحات میں سے ایک

آج کرکٹ کی تاریخ وہ شرمناک دن، جب آسٹریلین کھلاڑیوں کی حرکت نے کرکٹ کے کھیل کو گہنا دیا۔’انڈر آرم‘ باؤلنگ۔ واقعے نے آسٹریلیا اور چیپل برادران کی ساکھ کو دنیا بھر میں متاثر کیا اور معاملہ دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کی جانب سے بیانات تک جا پہنچا۔

1981ء میں آج ہی کے روز کھیلے گئے ورلڈ سیریز کے تیسرے فائنل میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے درمیان سخت معرکہ آرائی ہوئی جس کے بعد نیوزی لینڈ کو آخری گیند پر میچ برابر کرنے کے لیے بھی چھ رنز کی ضرورت تھی اور سامنے ایک ایسابلے باز موجود تھا جس سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی تھی کہ ملبورن کے بڑے میدان میں گیند کو تماشائیوں میں پھینکے گا۔ صورتحال کی ’نزاکت‘ کا احساس کرتے ہوئے آسٹریلیا کے کپتان گریگ چیپل نے اپنے بھائی ٹریور چیپل، جو آخری گیند پھینکنے جا رہے تھے، کو ہدایت کی کہ وہ نیچے سے ہاتھ گھما کر یعنی ’انڈر آرم ڈلیوری‘ پھینکیں تاکہ چھکا لگنے کا امکان ختم ہو جائے۔

اُس زمانے میں انڈر آرم گیند پھینکنے کی اجازت تھی اور ٹریور نے گیند پھینکنے سے قبل امپائر کو مطلع کیا کہ وہ اپنا ایکشن تبدیل کر رہے ہیں اور آخری گیند نیچے سے ہاتھ گھما کر پھینکیں گے۔ اس پر پورا میدان سناٹے میں اور نیوزی لینڈ کے بلے باز برائن میک کینی طیش میں آ گئے لیکن چیپل برادران کے ماتھے پر شرم کے مارے شکن تک نہ آئی۔ لیکن گیند پھینکی گئی، جس پر چھکا تو کیا 100 میٹر کی باؤنڈری کے حامل ایم سی جی میں چوکا لگنے کا سوال بھی پیدا نہ ہوتا۔ نیل نے گیند کو روکا اور جتنی دور گیند گئی اس سے کہیں دور اپنے بلے کو پھینکا اور غصے کے عالم میں میدان سے باہر آ گئے۔ معروف کمنٹیٹر رچی بینیوڈ نے اسے کرکٹ تاریخ کے شرمناک ترین لمحات میں سے ایک قرار دیا۔

آسٹریلیا مقابلہ تو جیت گیا، لیکن جو بدنامی اس کے حصے میں آئی، وہ اس فتح سے کہیں زیادہ تھی۔ چیپل برادران خصوصاً گریگ اور ٹریور چیپل آج تک اس پشیمانی سے نہیں نکل پائے۔ میچ کے بعد گریگ نے کہا کہ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ یہ معاملہ اتنی گھناؤنی صورت اختیار کر لے گا لیکن جب میں میدان سےباہر آنے لگا تو ایک بچی نے میری آستین پکڑی اور بولی ”بے ایمانی کرتے ہو؟“ اس وقت میرا ماتھا ٹھنکا کہ میرے اندازے سے کہیں زیادہ ہنگامہ کھڑا ہونے جا رہا ہے۔ گو کہ گریگ اور ٹریور چیپل کی حرکت قانونی دائرے میں تھی لیکن اسپورٹ مین اسپرٹ کا تقاضا کچھ اور تھا اور اس سے روگردانی کر کے انہوں نے آسٹریلیا کو اخلاقی جواز و برتری سے محروم کر دیا۔ کہا جاتا ہے کہ آخری گیند پھینکے جانے سے قبل آسٹریلیا کے دستے کے تمام اراکین ’انڈر آرم ڈلیوری‘ پر متفق تھے، سوائے وکٹ کیپر روڈنی مارش کے۔ اور اس واقعے کی تاریخی وڈیو بھی اس بات کی شہادت دیتی ہے کہ روڈنی مارش ایسی گیند پھینکنے کی حمایت میں نہیں تھے۔

اس واقعے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے تنازع کی گونج دونوں ملکوں کے ایوانوں تک جا پہنچی اور آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے وزرائے اعظم تک نے اس واقعے پر بیانات جاری کیے۔ نیوزی لینڈ کے اُس وقت کے وزیر اعظم رابرٹ ملڈون نے انڈر آرم گیند کو ’بزدلانہ اقدام‘ قرار دیا۔ جبکہ آسٹریلیا کے وزیر اعظم میلکم فریزر نے اسے ’کھیل کی روایات کے منافی قدم‘ گردانا۔

آسٹریلین کرکٹ بورڈ نے ٹریور اور گریگ چیپل کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی نہیں کی، اور کہا کہ انہوں نے کوئی غیر قانونی قدم نہیں اٹھایا۔ کرکٹ قوانین انہیں جس چیز کی اجازت دیتے تھے انہوں نے وہی کیا۔ بہرحال بین الاقوامی کرکٹ میں فوری طور پر انڈر آرم گیند پھینکنے پر پابندی لگا دی گئی۔

گریگ چیپل کو نہ صرف اس میچ کے بعد تماشائیوں کی جانب سے ذلت سہنا پڑی بلکہ ورلڈ سیریز کپ کے چوتھے فائنل کے لیے جب وہ میدان میں اترے تو بھی تماشائیوں نے ان کا استقبال آوازے کس کر کیا۔

یہ لمحات کیمرے کی آنکھ نے ہمیشہ کے لیے محفوظ کیے، آپ بھی ملاحظہ کیجیے۔ ایسا منظر آپ کو دوبارہ کبھی دیکھنے کو نہیں ملے گا۔

Facebook Comments