پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی؛ آئی سی سی آڑے آ گیا

کرک نامہ نے آج سے پانچ ماہ قبل اُس وقت پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو ’سعی لاحاصل‘ قرار دیا تھا جب پاکستان کے دورۂ بنگلہ دیش کی محض تجویز ہی گردش میں تھی اور کہا جا رہا تھا کہ اس دورے کے جواب میں بنگلہ دیش پاکستان کا دورہ کرنے کی حامی بھرے گا۔ کرک نامہ کے الفاظ میں ”اگر پاکستان اور بنگلہ دیش کے کرکٹ بورڈز کے مابین کوئی درونِ خانہ یقین دہانی والا معاملہ ہوتا بھی ہے تو اس کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی، کیونکہ پاکستان میں سیکورٹی کے معاملات کو دیکھ کر ٹیم کو کھیلنے کی اجازت دینا اب بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے بھی ہاتھ میں ہے جس کی پاکستان ٹاسک ٹیم کسی بھی ٹیم کو اجازت دینے سے قبل سیکورٹی کا جائزہ لے گی۔ اس لیے معاملہ صرف درونِ خانہ نہیں چلے گا، اسے بہرحال بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے سامنے لانا پڑے گا اور اگر اس کی ٹیم پاکستان میں سیکورٹی کی صورتحال سے مطمئن نہ ہوئی تو خدشہ یہی ہے کہ وہ بنگلہ دیش کی خواہش کے باوجود اسے دورۂ پاکستان نہ کرنے دے۔ “

آئی سی سی چیف ایگزیکٹو ہارون لورگاٹ اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کر رہے ہیں (تصویر: ICC)

آئی سی سی چیف ایگزیکٹو ہارون لورگاٹ اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کر رہے ہیں (تصویر: ICC)

لیکن اس کے باوجود پاکستانی کرکٹ کے کرتا دھرتا اور ذرائع ابلاغ بہ یک زبان ’دورۂ منتظر‘ کی خوشی سے سرشار نظر آ رہے تھے۔ حیرت ہے انہیں اس معاملے کا یہ واضح پہلو نظر نہیں آ رہا تھا۔ لیکن آج بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے بورڈ کے اجلاس کے بعد چیف ایگزیکٹو ہارون لورگاٹ کے بیان سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ 5 ماہ قبل کرک نامہ کا خدشہ بالکل درست تھا کہ پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی کے لیے صرف دو ممالک کا رضامند ہونا کافی نہیں ہوگا بلکہ دونوں کے کسی حتمی فیصلے کے بعد بھی بین الاقوامی کرکٹ کونسل اپنی سطح پر بھی پاکستان میں امن و امان اور حفاظتی انتظامات کا جائزہ لے گی اور پھر اس کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا پاکستان کے حالات بین الاقوامی کرکٹ کھیلنے کے لیے موزوں بھی ہیں یا نہیں۔

مارچ 2009ء میں لاہور میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد آئی سی سی ایگزیکٹو بورڈ نے ایک سیکورٹی ٹاسک فورس تشکیل دی تھی جس کا مقصد بین الاقوامی کے انعقاد کے لیے حفاظتی انتظامات کا جائزہ لینا اور ایک محفوظ ماحول تشکیل دینے کے لیے آئی سی سی بورڈ کے سامنے سفارشات پیش کرنا ہے۔ مذکورہ حملے میں سری لنکن کرکٹ ٹیم کے چند اراکین سمیت متعدد افراد زخمی جبکہ کھلاڑیوں کی حفاظت پر مامور کئی پولیس اہلکار جاں بحق ہوئے تھے۔

حملے کے نتیجے میں پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ فوری طور پر موقوف ہو گئی۔ ستمبر 2001ء میں امریکہ میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد خطے کے حالات کے باعث پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ مکمل طور پر آج تک بحال نہیں ہو سکی۔ 2005ء میں انگلستان، 2006ء میں بھارتی ٹیم کا کا دورۂ پاکستان اور 2008ء میں ایشیا کپ ضرور اہم مواقع رہے لیکن 2008ء میں ممبئی میں دہشت گرد حملہ ’مرے ہوئے پر 100 درّے‘ ثابت ہوا جس نے پاکستان سے بین الاقوامی کرکٹ کا تقریباً خاتمہ کر دیا۔ سری لنکا نے، جس کے پاکستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات ہیں، اس صورتحال میں پاکستان کی مدد کی کوشش کی لیکن اسے یہ کوشش بہت مہنگی پڑ گئی۔ بہرحال، فی الوقت تو مستقبل قریب میں پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔

بین الاقوامی کرکٹ کونسل کی جانب سے کرک نامہ کو موصول ہونے والے اعلامیہ کے مطابق آئی سی سی بورڈ میٹنگ، جو سال 2012ء میں بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے پہلا باضابطہ اجلاس تھا، 31 جنوری و یکم فروری کو دبئی میں منعقد ہوئی۔ جس میں دنیائے کرکٹ کے مختلف معاملات پر غور کیا گیا جن میں آئی سی سی کی صدارت و نائب صدارت کا معاملہ بھی شامل تھا۔

اجلاس سے ایک مرتبہ پھر ثابت ہوا ہے کہ ان ممالک میں جہاں حکومتیں کرکٹ بورڈز کے معاملات میں براہ راست مداخلت کرتی ہیں، اُن کے لیے بین الاقوامی سطح پر کرکٹ کے عہدے قبول کرنا اب آسان نہیں رہے گا اور اس کا اندازہ گزشتہ سال ہونے والی چند اہم پیشرفتوں کے ذریعے ہو گیا تھا، خصوصاً پاکستان کے حوالے سے آئی سی سی کی قائم کردہ پاکستان ٹاسک ٹیم کی سفارشات سے۔ پھر آئی سی سی کی صدارت کے لیے باری کے طریقے (روٹیشن پالیسی) کے تحت پاکستان و بنگلہ دیش کی باری آنے پر بین الاقوامی کرکٹ کے کرتا دھرتا جتنے چیں بہ چیں ہوئے، اس سے اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ سیاسی مداخلت کے حامل بورڈز کو اب با آسانی آگے نہیں بڑھنے دیں گے۔ وہ تو بھلا ہو کہ جنوبی افریقہ کے قیمتی ووٹ کی بدولت روٹیشن پالیسی کا قانون ختم ہونے سے بچ گیا ورنہ پاکستان و بنگلہ دیش کو جو موہوم سی امید ملی تھی وہ بھی ختم ہو جاتی۔ لیکن اب بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے نئی راہ اختیار کر لی ہے۔ انہوں نے فوری طور پر نہ صرف آئی سی سی صدارت کا معاملہ مؤخر کر دیا ہے بلکہ ساتھ ساتھ صدر کے کردار کو گھٹانے پر بھی غور شروع کر دیا ہے۔ اس مقصد کے لیے چیئرمین کا نیا عہدہ تشکیل کیا جائے گا اور صدر کا کردار محض سفیر کی حیثیت سے ہوگا اور وہ بھی محض ایک سال کے عرصے کے لیے۔ اس رسمی سے عہدے کی ضرورت اب کسے رہے گی؟ شاید بنگلہ و پاکستان کو بھی نہیں۔

بہرحال، فی الحال تو یہ سفارشات ہی ہیں جن پر آئی سی سی بورڈ کے آئندہ اجلاس میں بھی غور کیا جائے گا اور بعد ازاں جون میں آئی سی سی کی سالانہ کانفرنس میں منظوری کے لیے پیش کی جائیں گی۔ علاوہ ازیں رواں سال جون میں اپنے عہدے کی میعاد مکمل کرنے والے ہارون لورگاٹ کی جگہ نئے چیف ایگزیکٹو کی تلاش بھی شروع کر دی گئی ہے۔

بورڈ اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ ٹیسٹ کرکٹ کے فروغ کے لیے ہر سال عالمی درجہ بندی کی چار سرفہرست ٹیموں کو مجموعی طور پر 3.8 ملین امریکی ڈالرز کی خطیر رقم انعام میں دی جائے گی۔ یہ انعام 2013ء، 2014ء اور 2015ء میں یکم اپریل کی تاریخ کو عالمی درجہ بندی میں پہلے، دوسرے، تیسرے اور چوتھے نمبر پر موجود ٹیموں کو دیا جائے گا۔

ہارون لورگاٹ نے کہا کہ ہم ٹیسٹ کرکٹ میں دلچسپی میں حالیہ میں اضافے پر بہت خوش ہیں اور درجہ بندی میں سرفہرست چار ٹیموں کے لیے انعامی رقوم میں یہ اضافہ 2017ء میں ٹیسٹ چیمپئن شپ کے آغاز سے قبل طویل طرز کی کرکٹ کے فروغ کے لیے اٹھایا جانے والا اہم قدم ہوگا۔

پہلے صرف سرفہرست ٹیم کو ایک لاکھ 75 ہزار امریکی ڈالرز دیے جاتے تھے لیکن مستقبل میں ٹاپ ٹیم ساڑھے چار لاکھ روپے حاصل کرے گی جو 2015ء میں 5 لاکھ ڈالرز ہو جائیں گے۔ 2016ء سے ان انعامی رقوم میں مزید اضافہ ہوگا۔ تمام رقوم امریکی ڈالرز میں ہیں۔

درجہ بندی میں مقام 2013ء 2014ء 2015ء
پہلی 4 لاکھ 50 ہزار 4 لاکھ 75 ہزار 5 لاکھ
دوسری 3 لاکھ 50 ہزار 3 لاکھ 70 ہزار 3 لاکھ 90 ہزار
تیسری 2 لاکھ 50 ہزار 2 لاکھ 65 ہزار 2 لاکھ 80 ہزار
چوتھی 1 لاکھ 50 ہزار 1 لاکھ 60 ہزار 1 لاکھ 70 ہزار

علاوہ ازیں اجلاس میں آئی سی سی کے اینٹی کرپشن اینڈ سیکورٹی یونٹ (ACSU) کے چیئرمین سر رونی فلینگن نے ہانگ کانگ کے سابق قانونی مشیر، بدعنوانی کے خلاف آزاد کمیشن کے کمشنر اور بدعنوانی کے حوالے سے یورپ کے کثير الشعبہ جاتی گروپ کے مشیر برتریند دے اسپیویلے کی بنائی گئی آزاد رپورٹ پیش کی۔ 27 سفارشات پر مبنی اس رپورٹ میں سے بورڈ نے 7 سفارشات کو کرکٹ کے لیے غیر موزوں قرار دیا جبکہ بقیہ 20 میں سے 13 سفارشات کو منظور کیا جبکہ سات پہلے ہی اے سی ایس یو کی پالیسی کا حصہ ہیں یا ان پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔ مکمل سفارشات اس دستاویز میں ملاحظہ کی جا سکتی ہیں

اجلاس میں کرکٹ کے کھیل کے عالمی سطح پر فروغ، انتظامی بہتری، آئی سی سی کے کردار، رکنیت، بورڈ ڈھانچوں اور کمیٹیوں کے حوالے سے سفارشات پر بھی غور کیا گیا۔ لارڈ وولف اور پرائس واٹرہاؤس کوپرز کی مرتب کردہ یہ سفارشات یہاں دیکھی جا سکتی ہیں۔

Facebook Comments