[اعداد و شمار] پہلی اننگز میں 100 سے کم رنز، پاکستان کے لیے شکست کا پروانہ

انگلستان کے خلاف سیریز میں 2-0 سے فتح حاصل کرنے کے بعد پاکستان کی نظریں تاریخی کلین سویپ پر مرکوز ہیں۔ پاکستان نے نہ صرف یہ کہ کبھی انگلستان کے خلاف کسی سیریز کے تمام میچز نہیں جیتے بلکہ اپنے ملک کے علاوہ کبھی کسی سرزمین پر 3-0 سے سیریز اپنے نام نہیں کی۔ اس لیے اپنے پسندیدہ گراؤنڈ دبئی میں پاکستان کے پاس یہ سنہرا موقع ہے کہ وہ مقابلہ جیت کر پاکستان کی تاریخ کی منفرد ترین ٹیم بن جائے۔ خصوصا مصباح الحق وہ کارنامہ کرنا چاہتے ہیں جو کبھی عمران خان جیسے عظیم کپتان بھی نہ کر پائے۔

پاکستان کے بلے باز یکے بعد دیگرے پویلین لوٹتے رہے اور 99 پر پوری ٹیم ڈھیر ہو گئی (تصویر: AFP)

پاکستان کے بلے باز یکے بعد دیگرے پویلین لوٹتے رہے اور 99 پر پوری ٹیم ڈھیر ہو گئی (تصویر: AFP)

لیکن بدقسمتی دبئی میں پاکستان اک ایسے ’تاریخی چکر‘ میں پھنس گیا ہے، جس کے باعث وہ ہمیشہ ہی شکست سے دوچار ہوا ہے یعنی کہ پہلی اننگز میں 100 سے کم رنز بنانا۔ پاکستان نے جب بھی پہلے بلے بازی کرتے ہوئے 100 سے کم رنز بنائے ہیں شکست ہمیشہ اس کا مقدر ٹھہری ہے۔

بظاہر بلے بازوں کے لیے سازگار ایک وکٹ پر پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا اور انگلستان کے تیز گیند بازوں کے بچھائے گئے جال میں پھنس گیا، جنہیں دبئی کے بجائے اولڈ ٹریفرڈ، مانچسٹر کا ماحول ملا۔ جمی اینڈرسن اور اسٹورٹ براڈ کی تباہ کن باؤلنگ کے سامنے پاکستان کی پہلی اننگز محض 99 رنز پر تمام ہوئی، جس میں سے 45 رنز نوجوان بلے باز اسد شفیق کے تھے۔ اینڈرسن نے 3 اور اسٹورٹ براڈ نے 4 وکٹیں حاصل کیں جبکہ 2 وکٹیں اسپنر مونٹی پنیسر کو ملیں۔ یوں حیران کن طور پر ایک ایسی سیریز میں جس میں اب تک اسپنرز کا پلہ بھاری رہا ہے، تیز باؤلرز بلے بازوں پر غالب آئے۔

یہ تاریخ میں پانچواں موقع ہے کہ جب پاکستان کسی ٹیسٹ میں پہلے بلے بازی کرتے ہوئے 100 رنز سے قبل ہی آل آؤٹ ہو گیا ہو اور بدقسمتی سے پاکستان تقریباً ہر ایسے مقابلے میں شکست سے دوچار ہوا ہے جہاں اس کا پہلی اننگز کا اسکور تہرے ہندسے میں داخل نہ ہوا ہو۔

البتہ جون 1954ء کو لارڈز میں کھیلا گیا پہلا پاک- انگلستان ٹیسٹ اس لحاظ سے منفرد تھا کہ اس میں پہلی اننگز میں 87 پر ڈھیر ہونے کے باوجود پاکستان کو شکست نہیں ہوئی اور اس میں پاکستانی کھلاڑیوں کے بجائے اہم کردار بارش کا تھا جس نے ٹیسٹ کے پہلے تین دن کا کھیل متاثر کیا۔ ان دنوں تین روز کے کھیل کے بعد چوتھا دن آرام کا ہوا کرتا تھا، اس کے بعد ٹیمیں مزید دو دن کھیلا کرتی تھیں۔ آرام کے دن سے قبل تینوں روز مکمل طور پر بارش کی نذر ہوئے اور آرام کے بعد والے یوم یعنی میچ کے چوتھے روز جب انگلستان نے ٹاس جیت پاکستان کو بلے بازی کی دعوت دی تو پاکستانی ٹیم محض 87 رنزپر ڈھیر ہو گئی۔ گو کہ فضل محمود اور خان محمد کی عمدہ کارکردگی کی بدولت پاکستان نے ’عظیم‘ انگلستان کو محض 117 پر ڈھیر کیااور ’نہلے کا جواب دہلے‘ سے دیا لیکن کیونکہ میچ کا بہت بڑا حصہ بارش کی نذر ہو چکا تھا اس لیے نتیجہ نکلنا کسی صورت ممکن نہ تھا۔ پاکستانی بلے بازوں نے دوسری اننگز میں ذمہ دارانہ بلے بازی کا مظاہرہ کیا اور میچ کے اختتام تک 3 وکٹوں پر 121 رنز بنائے اور یوں پہلا پاک-انگلستان مقابلہ بغیر کسی نتیجے پر پہنچے ختم ہوا۔ ویسے یہ وہی سیریز تھی جس میں پاکستان نے اوول کے میدان میں تاریخی فتح حاصل کر کے سیریز برابر کی تھی۔

2002ء میں شارجہ میں کھیلے گئے دونوں ٹیسٹ کی بدترین کارکردگی پاکستان اور کپتان وقار یونس کے لیے بدترین لمحات تھے (تصویر:Reuters)

2002ء میں شارجہ میں کھیلے گئے دونوں ٹیسٹ کی بدترین کارکردگی پاکستان اور کپتان وقار یونس کے لیے بدترین لمحات تھے (تصویر:Reuters)

بہرحال، اس واحد موقع کے علاوہ جب بھی پاکستان پہلی اننگز میں 100 سے کم رنز پر آؤٹ ہوا، شکست ہی کا حقدار ٹھیرا۔ قومی ٹیم کے پہلی اننگز میں تہرے ہندسے میں داخل ہونے سے پہلے ہی دھر لیے جانے کے یہ تمام واقعات اکیسویں صدی کی پہلی دہائی میں پیش آئے۔ پہلی بار پاکستان آسٹریلیا کے خلاف اکتوبر 2002ء میں متحدہ عرب امارات ہی کی سرزمین پر شارجہ میں کھیلے گئے مقابلے میں ڈھیر ہوا۔ اس مقابلے میں پاکستان پہلی اننگز میں 59 پر تمام ہوا جبکہ دوسری اننگز میں بھی پاکستانی بلے بازوں کو شرم نہ آئی اور دوسری اننگز اس سے بھی کم یعنی محض 53 رنز پر تمام ہوئی اور پاکستان یہ مقابلہ بدترین انداز سے ہارا۔ بلاشبہ یہ پاکستان کی ٹیسٹ تاریخ کے بدترین مقابلوں میں سے ایک تھا۔ بحیثیت مجموعی یہ سیریز ہی پاکستان کے لیے ایک ڈراؤنا خواب تھی کیونکہ اس میں پاکستان کو آسٹریلیا کے ہاتھوں وائٹ واش سہنا پڑا تھا۔

اس کے بعد پاکستان جولائی 2009ء میں سری لنکا کے خلاف کولمبو ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں 90 رنز پر آل آؤٹ ہوا اور بعد ازاں سری لنکا سے شکست کھا گیا۔ گو کہ پاکستان نے دوسری اننگز میں فواد عالم کی 168 رنز کی اننگز کی بدولت 320 رنز اکٹھے کیے لیکن یونس خان کے علاوہ دیگر بلے بازوں نے ان کا بالکل ساتھ نہیں دیا اور سری لنکاکے لیے 171 رنز کا ہدف بالکل آسان ثابت ہوا جو اس نے 3 وکٹوں کے نقصان پر پورا کر لیا۔

پھر 2010ء کا وہ منحوس دورۂ انگلستان آتا ہے جس میں پاکستان برمنگھم میں کھیلے گئے ٹیسٹ میں صرف 72 رنز پر آل آؤٹ ہوا تھا اور بالآخر میچ میں 9 وکٹوں سے میچ ہار گیا، اور انگلستان کو سیریز میں 2-0 کی ناقابل شکست برتری مل گئی۔ اس دورے کو زیادہ (بری) شہرت اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کی وجہ سے ملی اور انگلستان کی ’شاندار‘ فتوحات کی مثال ’دودھ میں مینگنی‘ جیسی ہو گئی۔

ویسے، پہلے بلے بازی کرتے ہوئے کسی بوسیدہ عمارت کی طرح دفعتاً ڈھے جانے کے علاوہ بھی کئی مواقع ایسے آئے ہيں جب پاکستان کے تمام بلے باز مل کر بھی اننگز کو تہرے ہندسے میں داخل نہ کر سکے ہوں اور یوں مقابلہ حریف کو طشتری میں رکھ کر پیش کر دیا ہو۔ بھلا نومبر 1981ء میں آسٹریلیا کے خلاف پرتھ ٹیسٹ کون بھول سکتا ہے؟ جی ہاں! وہی مقابلہ جس میں پاکستانی کپتان جاوید میانداد اور آسٹریلین باؤلر ڈینس للی کے درمیان جھگڑا ہوا تھا اور للی نے جاوید میانداد کو لات مارنے والی بچکانہ حرکت کی جس پر وہ میانداد کا بلا کھاتے کھاتے بچے۔ لیکن اس تنازع سے ہٹ کر زیادہ افسوسناک پہلو یہ تھا کہ آسٹریلیا کے 180 رنز کے جواب میں پاکستان کی پہلی اننگز محض 62 رنز پر تمام ہوئی تھی اور سوائے سرفراز نواز (26 رنز) کے کوئی بلے باز دہرے ہندسے میں بھی داخل نہیں ہوا تھا۔ اوپنرز مدثر نذر اور رضوان الزماں صفر پر، جاوید میانداد 6، ماجد خان 3 اور وسیم راجہ اور عمران خان 4، 4 رنز پر پویلین لوٹے۔ انہی بلے بازوں کو دوسری اننگز میں 543 رنز کا بھاری ہدف ملا جس کے جواب میں وہ 256 رنز پر ہی پہنچ کر دم توڑ گئے اور فتح 286 رنز سے آسٹریلیا کے ہاتھ رہی۔

علاوہ ازیں، دوسری اننگز میں پاکستان کی بدترین کارکردگیوں میں سے ایک اکتوبر 1997ء میں کا فیصل آباد ٹیسٹ ہے جہاں پاکستان کے باؤلرز نے عمدہ کارکردگی دکھاتے ہوئے دونوں اننگز میں جنوبی افریقہ کو 250 رنز سے قبل ہی آل آؤٹ کر دیا جبکہ پاکستانی بلے بازوں نے پہلی اننگز میں اچھی بلے بازی کی اور 308 رنز بنائے لیکن آخری اننگز میں محض 146 رنز کا تعاقب ان کے لیے بھیانک خواب ثابت ہوا اور پوری ٹیم 92 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ سعید انور اور اعجاز احمد جیسے بلے باز صفر کی ہزیمت لیے پویلین لوٹے۔ جنوبی افریقہ کے ہیرو شان پولاک تھے جنہوں نے 5 وکٹیں حاصل کیں۔

2010ء کے منحوس دورۂ انگلستان میں پاکستان نے اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کا داغ اپنے دامن پر لگایا وہیں اس سیریز میں ٹیم کی مجموعی کارکردگی بھی بہت اوسط درجے کی رہی۔ صرف اس بات سے اندازہ لگا لیں کہ کھیلے گئے چار ٹیسٹ مقابلوں میں پاکستانی ٹیم تین مرتبہ 100 سے کم اسکور پر آؤٹ ہوئی اور ہر مرتبہ شکست اس کا مقدر ٹھیری۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا پاکستان دبئی میں اس تاریخ کو بدل سکتا ہے؟ اک ایسے میدان پر جہاں وہ آج تک کوئی ٹیسٹ مقابلہ نہیں ہارا، کیا وہ یہ ریکارڈ برقرار رکھنے میں کامیاب ہوگا؟

Facebook Comments