[اعداد و شمار] انگلستان و پاکستان، 300 اور زائد رنز کے ہدف کی تاریخ

پاکستان اور انگلستان کے درمیان متحدہ عرب امارات میں جاری ایک یادگار سیریز کا تیسرا و حتمی ٹیسٹ فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں عالمی نمبر ایک انگلستان کو میچ جیتنے، اپنی عزت بچانے، کے لیے 324 رنز درکار ہیں جبکہ اس کی تمام وکٹیں اور دو دن کا کھیل باقی ہے۔

انگلستان کا بیڑہ پار کرنے کی بنیادی ذمہ داری اوپنرز ایلسٹر کک اور اینڈریو اسٹراس پر عائد ہوگی، دیکھنا یہ ہے کہ وہ کس حد تک اس سے عہدہ برآ ہوتے ہیں (فائل فوٹو)

انگلستان کا بیڑہ پار کرنے کی بنیادی ذمہ داری اوپنرز ایلسٹر کک اور اینڈریو اسٹراس پر عائد ہوگی، دیکھنا یہ ہے کہ وہ کس حد تک اس سے عہدہ برآ ہوتے ہیں (فائل فوٹو)

پہلی اننگز میں محض 99 رنز پر ڈھیر ہو جانے کے بعد پاکستان کو مضبوط تر پوزیشن پر لانے کا سہرا اظہر علی کی 157 رنز کی یادگار اننگز اور ’مرد آہن‘ یونس خان کے 127 رنز کے سر ہے، جس کی بدولت پاکستان نے دوسری اننگز میں 365 رنز بنائے اور انگلستان کو ایک ایسا ہدف دیا ہے جو پاکستان کے خلاف انگلستان نے آج تک حاصل نہیں کیا۔ جی ہاں! تاریخ ثابت کرتی ہے کہ انگلستان پاکستان کے خلاف کبھی 300 رنز سے زائد کا ہدف حاصل نہیں کر پایا۔ اس لیے انگلش بلے بازوں کو ریکارڈ ساز کارکردگی دکھانا ہوگی، تب کہیں جا کر وہ کسی حد تک اپنی عزت بحال کر پائے گا کیونکہ سیریز میں تو وہ پہلے ہی 2-0 سے شکست کھا چکا ہے اور اگر پاکستان آخری ٹیسٹ بھی جیتنے میں کامیاب ہو گیا تو اسے کلین سویپ کی ذلت سہنا پڑے گی۔ اگر انگلستان شکست سے بچنے میں کامیاب نہ ہوا تو 2006-07ء کی ایشیز سیریز کے بعد یہ پہلا موقع ہوگا کہ انگلستان کسی بھی سیریز کے تمام مقابلے ہار جائے۔

پاکستان کے خلاف انگلستان کا حاصل کردہ سب سے بڑا ہدف 219 رنز ہے جو اس نے اگست 1982ء میں لیڈز ٹیسٹ میں بنایا تھا اور اس تک پہنچنے میں بھی انگلستان نے 7 وکٹیں گنوائی تھیں۔ درحقیقت پاکستان یہ مقابلہ دوسری اننگز میں بلے بازوں کی ناقص کارکردگی اور پھر گریم فاؤلر کی 86 رنز کی شاندار اننگز کی وجہ سے ہارا۔

اس ٹیسٹ کے علاوہ صرف ایک موقع ایسا آیا ہے جب انگلستان پاکستان کے خلاف ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے 200 کے ہندسے کو عبور کر پایا ہو۔ اکتوبر 1961ء میں لاہور ٹیسٹ میں انگلستان نے 209 رنز بنا کر مقابلہ اپنے نام کیا تھا۔ اس میچ کی کہانی بھی تقریباً مذکورہ بالا ٹیسٹ جیسی ہی ہے جہاں پاکستانی بلے باز دوسری اننگز میں اچھی کارکردگی نہ دکھاپائے اور انگلستان نے ٹیڈ ڈیکسٹر کی 66 رنز کی ناقابل شکست اننگز کی بدولت فتح پا لی۔ اس مقابلے کی خاص بات انگلش بلے بازوں کی تیز رفتاری تھی جنہوں نے وکٹیں گرنے کے باوجود ہدف کے تعاقب میں ہمت نہ ہاری اور بالآخر 59 ویں اوور میں ہدف کو جا لیا۔

ان دو مواقع کے علاوہ انگلستان پاکستان کے خلاف 300 تو کجا 200 رنز کا ہدف بھی حاصل نہیں کر پایا۔ اگر اس تاریخی حقیقت اور انگلستان کے بلے بازوں کی سیریز میں حالیہ کارکردگی کو ذہن میں رکھا جائے تو میچ میں اس کی واپسی کے امکانات کم نظر آتے ہیں لیکن پھر بھی کرکٹ ایسا کھیل ہے جس میں آخری گیند تک کچھ نہیں کہا جا سکتا اور انگلستان کی لائن اپ، جو اس سیریز سے قبل بلاشبہ خود کو دنیا کی بہترین بیٹنگ لائن اپ تسلیم کروا چکی ہے، سے کچھ بعید نہیں کہ وہ دبئی میں پاکستان کی ناقابل شکست رہنے کی روایت کا خاتمہ کر دے۔

پاکستان کے علاوہ دیگر ٹیموں کے خلاف بھی انگلستان نے 300 رنز سے زائد کا ہدف شاذ و نادر ہی حاصل کیا ہے۔ سب سے بڑا ہدف جو انگلستان نے چوتھی اننگز میں حاصل کیا ہے وہ 332 رنز کا ہے جو دسمبر 1928ء میں آسٹریلیا کے خلاف ملبورن ٹیسٹ میں بنایا گیا تھا۔

300 رنز سے زائد کا ہدف حاصل کرنے کا دوسرا موقع فروری 1997ء میں نیوزی لینڈ کے خلاف کرائسٹ چرچ ٹیسٹ میں پیش آیا۔ یہ مقابلہ اس لحاظ سے یادگار تھا کہ اس میں مائیکل ایتھرٹن کی سنچری اننگز کے ساتھ ساتھ لوئر آرڈر نے بھی بہت عمدہ کارکردگی دکھائی۔ جان کرالی اور ڈومینک کارک نے 6 وکٹیں گر جانے کے باوجود ہدف کی جانب پیشقدمی بھرپور انداز میں جاری رکھیں اور ساتویں وکٹ پر 76 رنز کا اضافہ کیا اور 305 رنز کا ہدف حاصل کر کے انگلستان کو سیریز بھی جتوا دی۔

173 رنز کی ناقابل شکست اور فتح گر اننگز: مارک بچر ضرور رکی پونٹنگ کے ناپسندیدہ ترین کھلاڑی ہوں گے (تصویر: Paul McGregor)

173 رنز کی ناقابل شکست اور فتح گر اننگز: مارک بچر ضرور رکی پونٹنگ کے ناپسندیدہ ترین کھلاڑی ہوں گے (تصویر: Paul McGregor)

آخری مرتبہ انگلش سائیڈ نے ایشیز 2001ء کے چوتھے و آخری ٹیسٹ میں آسٹریلیا کے خلاف لیڈز ٹیسٹ میں 315 رنز کا ہدف حاصل کیا تھا۔ یہ مقابلہ آسٹریلیا کے لیے ایک بھیانک خواب تھا کیونکہ سیریز کے اولین تینوں مقابلے جیتنے کے بعد ان کا اعتماد آسمان پر تھااور یہی حد سے زیادہ خود اعتمادی انہیں لے ڈوبی۔ پہلی اننگز میں انگلستان پر 138 رنز کی برتری حاصل کرنے کے بعد آسٹریلیا نے دوسری اننگز میں 4 وکٹوں کے نقصان پر 176 رنز بنانا ہی کافی سمجھا اور انگلستان کو 315 رنز کا ہدف دے کر ڈھیلے پڑ گئے کہ وہ اتنے رنز بنا ہی نہیں پائے گا۔ لیکن مارک بچر نے کیریئر کی سب سے بہترین اور بلاشبہ یادگار ترین اننگز کھیلی اور 173 رنز پر ناقابل شکست رہے اور محض چار وکٹوں کے نقصان پر انگلستان نے اسکور پورا کر کے پونٹنگ کو سبق سکھا دیا کہ حد سے زیادہ خود اعتمادی کتنی بڑی ندامت کا باعث بن سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  پاک-آسٹریلیا ایک روزہ سیریز برابر، 10 دلچسپ اعداد و شمار

بہرحال، اگر پاکستان کے خلاف 300 سے زائد کے ہدف حاصل کرنے کے اعداد و شمار جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آج تک صرف تین ٹیمیں ہی یہ اعزاز حاصل کرنے کامیاب ہو پائی ہیں۔ پہلی بار مارچ 1958ء میں دورۂ ویسٹ انڈیز میں میزبان ٹیم نے جارج ٹاؤن ٹیسٹ میں 317 رنز کا ہدف حاصل کیا تھا۔ یہ پاکستان کا پہلا دورۂ ویسٹ انڈیز تھا جس میں پہلے ٹیسٹ میں حنیف محمد کی یادگار ٹرپل سنچری کے قومی کرکٹ ٹیم کوئی کارنامہ انجام نہیں دے پائی تھی اور باقی تمام مقابلوں میں شکست سے دوچار ہوئی۔

اس کے علاوہ نیوزی لینڈ نے 1994ء کے کرائسٹ چرچ ٹیسٹ میں 324 رنز کا ہدف محض 5 وکٹوں پر حاصل کیا تھا۔ سیریز کا یہ تیسرا ٹیسٹ تھا اور پاکستان پہلے ہی اولین دونوں مقابلے جیت چکا تھا لیکن یہاں سلیم ملک سے وہی حرکت سرزد ہوئی جو ایشیز 2001ء میں رکی پونٹنگ سے ہوئی۔ یعنی کہ پہلی اننگز میں 144 رنز کی برتری لینے کے بعد دوسری اننگز میں 179 رنز بنائے اور نیوزی لینڈ کو 324 رنز کا ہدف دیا جو اس نے برائن ینگ اور شین تھامسن کی 120، 120 رنز کی شاندار اننگز کی بدولت محض 5 وکٹوں پر حاصل کر لیا۔ یہ نوجوان تھامسن کے کیریئر کی اعلی و یادگار ترین اننگز تھی۔

پاکستان ہر گز یہ منظر نہيں دیکھنا چاہے گا۔ ایڈم گلکرسٹ اور جسٹن لینگر تاریخ ساز کارکردگی کے بعد پاکستان کے خلاف فتح پر مسرور (تصویر: Getty Images)

پاکستان ہر گز یہ منظر نہيں دیکھنا چاہے گا۔ ایڈم گلکرسٹ اور جسٹن لینگر تاریخ ساز کارکردگی کے بعد پاکستان کے خلاف فتح پر مسرور (تصویر: Getty Images)

آخری مرتبہ نومبر 1999ء میں آسٹریلیا نے ہوبارٹ ٹیسٹ میں 369 رنز کا ہدف حاصل کر کے پاکستان کو تاریخی شکست دی تھی۔ یہ مقابلہ آسٹریلیا نے وکٹ کیپر ایڈم گلکرسٹ کی بہترین بلے بازی کی بدولت جیتا جنہوں نے ایسے موقع پر، جب 369 رنز کے تعاقب میں 126 پر آسٹریلیا کی 5 وکٹیں گر چکی تھیں، جسٹن لینگر کے ساتھ مل کر فتح گر شراکت داری قائم کی۔ دونوں کھلاڑیوں نے چھٹی وکٹ پر 238 رنز جوڑے۔ وہ بھی ایسے باؤلنگ اٹیک کے خلاف جس میں وسیم اکرم، وقار یونس اور شعیب اختر کے علاوہ ثقلین مشتاق بھی شامل تھے۔ پاکستان کے لیے یہ میچ ایک ناخوشگوار ترین یادگار ہے۔ گلکرسٹ نے محض 163 گیندوں 13 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 149 رنز بنائے اور ناٹ آؤٹ رہے جبکہ جسٹن لینگر 127 رنز بنا کر اس وقت آؤٹ ہوئے جب آسٹریلیا فتح سے محض پانچ رنز کے فاصلے پر تھا۔

ان تمام تاریخی حوالوں کے بعد سب سے اہم بات، اگر پاکستان یہ میچ جیتنے میں کامیاب ہو گیا تو یہ ایک اور لحاظ سے بہت تاریخی موقع ہوگا کیونکہ گزشتہ 105 سالوں میں ایک مرتبہ بھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی ٹیم پہلی اننگز میں 100 رنز بنانے میں بھی کامیاب نہ ہوئی ہو لیکن میچ جیت گئی ہو۔ آخری مرتبہ 1907ء میں انگلستان نے جنوبی افریقہ کو ہرا کر یہ کارنامہ انجام دیا تھا۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ دبئی میں چوتھے روز میچ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ فی الحال پچ کی حالت اور انگلش بلے بازوں کی فارم کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ میچ میں پاکستان کا پلڑا بھاری ہے۔

Facebook Comments