فولادی اعصاب کے دھونی نے بھارت کو مقابلہ جتا دیا

آسٹریلیا گزشتہ میچ میں سری لنکا کے ہاتھوں کو شکست سے بال بال بچ گیا، لیکن اس مرتبہ مہندر سنگھ دھونی کے فولادی اعصاب کے سامنے اس کی ایک نہ چلی جنہوں نے آخری اوور میں درکار 13 رنز ابتدائی 4 گیندوں پر ہی حاصل کر کے بھارت کو سہ فریقی کامن ویلتھ بینک سیریز میں اہم فتح دلا دی۔ کلنٹ میک کے، جنہوں نے دن کا اہم ترین یعنی آخری اوور کرایا، نے پہلی دو گیندوں پر صرف ایک رن دیا اور بھارت خصوصاً دھونی کو مشکل میں ڈال دیا جن کو آخری چار گیندوں پر 12 رنز کی ضرورت تھی لیکن ٹھنڈے مزاج کے دھونی نے اگلی گیند کو وائیڈ لانگ آن باؤنڈری سے باہر پھینک دیا۔ یہ ایک بلند و بالا چھکا تھا، جو تماشائیوں کے درمیان جا گرا اور ساتھ ہی میک کے کے حوصلے کو ‎سخت دھچکا پہنچایا اور جنہوں نے اگلی گیند دھونی کی کمر سے بلند فل ٹاس کی صورت میں پھینکی جس کو حریف کپتان نے ہوا میں اٹھایا اور ڈیپ اسکوائر لیگ پر کیچ دے بیٹھے لیکن امپائر نے بلندی کے باعث اس گیند کو نو بال قرار دیا اور یوں بھارت کو دو مزید رنز مل گئے۔ دھونی نے اگلی ہی گیند پر درکار تین رنز مکمل کر کے بھارت کی نیّا پار لگا دی۔

گوتم گمبھیر کو 92 رنز کی عمدہ اننگز کھیلنے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا (تصویر: Getty Images)

گوتم گمبھیر کو 92 رنز کی عمدہ اننگز کھیلنے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا (تصویر: Getty Images)

اس مقابلے میں حواس کھو بیٹھنے سے اندازہ ہوا کہ سری لنکا کے خلاف گزشتہ مقابلے میں اینجلو میتھیوز کی اننگز نے آسٹریلیا پر نفسیاتی اثرات مرتب کیے تھے، بدقسمتی سے میتھیوز آخری سپاہی تھے اس لیے ان کے آؤٹ ہوتے ہی معرکہ آسٹریلیا کے نام ہو گیا، ورنہ اگر صورتحال آج بھارت والی ہوتی یعنی کہ زیادہ وکٹیں موجود ہوتیں تو آسٹریلیا کو وہاں بھی میدان سے نامراد لوٹنا پڑتا۔

قبل ازیں بھارت کی فتح کی بنیاد گوتم گمبھیر کی 92 رنز کی اننگز نے رکھی جبکہ سچن ٹنڈولکر سے محروم مڈل آرڈر میں دھونی اور سریش رینا کی 61 رنز کی شراکت داری نے بھارت کو لب بام تک پہنچا دیا لیکن 47 ویں اور 49 ویں اوورز میں رینا اور پھر رویندر جدیجا کی وکٹ گرنے سے یکدم میچ بھارت کی گرفت سے نکلنے لگا اور 49 ویں اوور میں اسپنر زاویئر ڈوہرٹی کی عمدہ باؤلنگ کے بعد تمام تر ذمہ داری دھونی کے کاندھوں پر آ گئی جنہوں نے آخری اوور میں اسے بخوبی نبھایا۔

گمبھیر کے 92 رنز کے علاوہ بھارت کی دوسری سب سے بڑی اننگز مہندر سنگھ دھونی نے کھیلی جو 44 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے۔ 58 گیندوں پر کھیلی گئی اس اننگز میں صرف ایک باؤنڈری شامل تھی، جو انہوں نے آخری اوور میں چھکے کی صورت میں لگائی۔

ویسے کچھ یاد آ رہا ہے آپ کو؟ جب آخری مرتبہ گوتم گمبھیر نروس نائنٹیز میں آؤٹ ہوئے تھے اور دھونی نے فیصلہ کن چھکا لگایا تھا تو کیا ہوا تھا؟ بھارت عالمی کپ جیتا تھا :)۔ خیر، اس مرتبہ تو بھارت نے اتنا بڑا اعزاز حاصل نہیں کیا لیکن بیرون ملک ایک بہت حوصلہ افزا فتح ضرور حاصل کی ہے۔ یہ آسٹریلوی سرزمین پر ہدف کے تعاقب میں بھارت کی سب سے بڑی فتح ہے۔ اس سے قبل انہوں نے 1986ء میں نیوزی لینڈ کے خلاف 260 رنز بنا کر سب سے بڑا ہدف حاصل کیا تھا۔

آسٹریلیا، جس نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا تھا، ابتدا میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے باوجود لڑکھڑا گیا۔ مائیکل ہسی کی جگہ ٹیم میں شامل کیے گئے پیٹر فورسٹ نے اپنے پہلے ہی بین الاقوامی مقابلے میں 66 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی اور انہوں نے ڈیوڈ ہسی کے ساتھ مل کر چوتھی وکٹ پر 98 رنز کا اضافہ کیا۔ لیکن 36 ویں اوور میں فورسٹ کے میدان سے لوٹتے ہی رنز بنانے کی رفتار میں کمی آتی گئی اور آسٹریلیا کے بلے باز آخری 15 اوورز میں صرف 90 رنز بنا پائے اور یہی وہ مرحلہ تھا جہاں سے بھارت کو میچ میں واپس آنے کا پورا موقع ملا۔

فورسٹ نے 66 جبکہ ڈیوڈ ہسی نے 72 رنز بنائے جبکہ حتمی لمحات میں ڈینیل کرسچن کے 39 رنز بھی اچھا اضافہ ثابت ہوئے لیکن حقیقت یہ ہے کہ نچلے بلے بازوں کو زیادہ تیز رفتاری سے رنز بنانے کی ضرورت تھی جس میں وہ ناکام رہے اور آسٹریلیا جو ایک لمحے با آسانی 300 سے زائد رنز حاصل کرتا دکھائی دے رہا تھا صرف 269 رنز ہی بنا پایا۔

بھارت کی جانب سے ونے کمار اور امیش یادیو نے 2،2 وکٹیں حاصل کیں اور ظہیر خان کو ایک وکٹ ملی جبکہ آسٹریلیا کی تین وکٹیں رن آؤٹ کی صورت میں گریں۔ گوتم گمبھیر کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

اس فتح کے ساتھ پوائنٹس ٹیبل پر بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان صرف ایک پوائنٹ کا فرق رہ گیا ہے۔ تین مقابلوں میں سے دو فتوحات کے ساتھ آسٹریلیا 9 پوائنٹس کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے جبکہ بھارت کے پوائنٹس کی تعداد 8 ہے۔ سری لنکا کھیلے گئے دونوں مقابلوں میں شکست کے باعث ابھی تک صفر پر موجود ہے۔

سہ فریقی ٹورنامنٹ کا اگلا مقابلہ 14 فروری کو ایڈیلیڈ ہی میں سری لنکا اور بھارت کے درمیان کھیلا جائے گا۔

اسکور کارڈ کچھ دیر میں ملاحظہ کریں

Facebook Comments