سائمنڈز ریٹائر، آسٹریلین کرکٹ کا ایک متنازع باب بند

اہم مواقع پر کارآمد گیند باز درکار ہو، یا برق رفتاری سے بلے بازی کرنے والے کی ضرورت ہو یا پھر میدان کے اہم مقامات پر مضبوط فیلڈر کھڑا کرنا ہو،گزشتہ دہائی میں آسٹریلیا کی نظرِ انتخاب صرف ایک کھلاڑی پر ٹھیرتی تھی اور اس کا نام تھا اینڈریو سائمنڈز۔ تینوں طرز کی کرکٹ میں 40 کے لگ بھگ کا بیٹنگ اوسط رکھنے والے اسی مشہور و متنازع کھلاڑی نے آج خاندانی وجوہات کے پیش نظر ہر طرز کی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا ہے۔ ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے سائمنڈز نے کہا کہ ان کا یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ ہوگا، اس لیے وہ رواں سال آئی پی ایل بھی نہیں کھیل پائيں گے۔ انڈین پریمیئر لیگ میں وہ چند سالوں سے ممبئی انڈینز کی نمائندگی کر رہے ہیں اور اس کے علاوہ کہیں بھی ان کی کوئی کرکٹ مصروفیت نہیں ہے کیونکہ وہ آسٹریلیا اور کوئنزلینڈ سے پہلے ہی واسطے توڑ چکے تھے۔ آخری مرتبہ انہوں نے تین سال قبل ایک ٹی ٹوئنٹی مقابلے میں میں قومی کرکٹ ٹیم کی نمائندگی کی تھی۔

اینڈریو سائمنڈز دور جدید کے بہترین آل راؤنڈرز میں سے ایک تھے، لیکن تنازعات میں الجھنے اور لا ابالی پن کے باعث ان کے کیریئر کو شدید دھچکا پہنچا (تصویر: AFP)

اینڈریو سائمنڈز دور جدید کے بہترین آل راؤنڈرز میں سے ایک تھے، لیکن تنازعات میں الجھنے اور لا ابالی پن کے باعث ان کے کیریئر کو شدید دھچکا پہنچا (تصویر: AFP)

عجیب و غریب بالوں اور ہونٹوں پر سفید بام کے باعث سب سے جدا نظر آنے والے سائمنڈز نے اپنے بین الاقوامی کرکٹ کیریئر کا آغاز نومبر 1998ء میں پاکستان کے خلاف لاہور میں ایک روزہ بین الاقوامی مقابلے سے کیا اور انہیں ہمیشہ مختصر طرز کی کرکٹ ہی کا کھلاڑی سمجھا گیا۔ وہ آسٹریلیا کے اُس دور کے کھلاڑی تھے جب وہ 'ناقابل شکست' سمجھا جاتا تھا، اور حیثیت تک پہنچنے میں کسی حدتک سائمنڈز کا کردار بھی شامل تھا۔ شعلہ فشاں بلے بازی، برق رفتار فیلڈنگ اور نپی تلی گیند بازی انہیں ایک عظیم ٹیم میں آل راؤنڈر کی حیثیت سے شامل کیے رہی۔

ایک جانب جہاں سائمنڈز کے بلے میں 'بریک' نہیں تھے یعنی کہ انہیں مسلسل باؤنڈریز مارنے کی بدعادت تھی تو وہیں وہ اپنی دیگر سرگرمیوں کی وجہ سے وہ ہمیشہ وجہ نزع بنے رہے۔ ایک طرف 2003ء اور 2007ء کے عالمی کپ میں آسٹریلیا کی فتوحات میں کلیدی کارکردگی ان کا نقطہ عروج تھا تو غیر اعلانیہ طور پر ٹیم ہوٹل سے غائب ہونے، شراب خانے میں جھگڑا کرنے، متنازع ریڈیو انٹرویو اور 2008ء میں بھارتی اسپنر ہربھجن سنگھ کے ساتھ میدان میں الجھنے جیسے مشہور واقعات ان کی شخصیت کا ایک تاریک پہلو تھے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی سطح پر اتنے باصلاحیت کھلاڑی کو وہ مقام حاصل نہ ہو سکا، جس کا وہ حقدار تھا۔

36 سالہ سائمنڈز کے کیریئر کا یادگار ترین لمحہ بلاشبہ 2003ء کا عالمی کپ ہوگا جس میں اُن کی آل راؤنڈ کارکردگی نے آسٹریلیا کو عالمی اعزاز کے کامیاب دفاع میں مدد دی۔ اسی ٹورنامنٹ میں پاکستان کے خلاف اہم ترین میچ میں 125 گیندوں پر 143 رنز کی ناقابل شکست اننگز شائقین کرکٹ کو مدتوں یاد رہے گی۔

سائمنڈز نے مجموعی طور پر 26 ٹیسٹ اور 198 ایک روزہ بین الاقوامی مقابلوں میں آسٹریلیا کی نمائندگی کی۔ ان کا ٹیسٹ کیریئر بہت مختصر تھا کیونکہ انہیں محدود اوورز کا بین الاقوامی کیریئر شروع کرنے کے 6 سال بعد ٹیسٹ ٹیم میں بلایا گیا اور بعد ازاں انہوں نے اپنی توجہ مکمل طور پر ٹی ٹوئنٹی کرکٹ پر مرکوز رکھنے کے لیے ٹیسٹ سے ریٹائرمنٹ کا بھی اعلان کر دیا۔ بہرحال، کھیلے گئے 29 ٹیسٹ مقابلوں میں انہوں نے 40.61 کے اوسط سے 1462 رنز بنائے جن میں 162 رنز کی ناقابل شکست اننگز ان کی بہترین کارکردگی تھی۔ علاوہ ازیں انہوں نے 37.33 کے اوسط سے 24 وکٹیں بھی حاصل کیں۔ دوسری جانب، ایک روزہ کرکٹ میں انہوں نے 198 میچز کھیلے اور 39.75 کے بہترین اوسط سے 5088 رنز بنائے۔ 156 رنز ان کی بہترین بلے بازی تھی۔ اس میں 6 سنچریاں اور 30 نصف سنچریاں شامل تھیں۔ انہوں نے ایک روزہ میں 133 وکٹیں بھی حاصل کیں اور 18 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کرنا ان کی بہترین کارکردگی تھی۔ انہوں نے آسٹریلیا کی جانب سے 14 ٹی ٹوئنٹی مقابلے بھی کھیلے جن میں ان کا بلے بازی کا اوسط 48.14 رہا۔ اس میں نیوزی لینڈ کے خلاف 85 رنزکی ناقابل شکست اننگز ان کی بہترین بلے بازی تھی۔ اس میچ کی وڈیو کرک نامہ کے یوٹیوب چینل میں موجود ہے۔

حقیقت یہ ہےکہ جب بھی تاریخ کی بہترین آسٹریلین ٹیموں کی فہرست مرتب کی جائے گی تو اس میں گزشتہ دہائی کا کینگروز دستہ ضرور شامل ہوگا اور یوں اس کے کلیدی حصے اینڈریو سائمنڈز کا نام بھی ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Facebook Comments