محسن کا جانا ٹھیر گیا، مصباح کی ون ڈے کپتانی بھی خطرے میں

ایک روزہ کرکٹ سیریز میں شکست کے ساتھ ہی نہ صرف یہ کہ قوم بلکہ کرکٹ بورڈ کے کرتا دھرتا بھی پاکستان کی انگلستان کے خلاف تاریخی ٹیسٹ فتح کو بھلا بیٹھے ہیں اور اب نہ صرف محسن خان بلکہ مصباح الحق کا بھی متبادل تلاش کیا جا رہا ہے۔ یہ بات تو پاکستان کے کرکٹ حلقوں میں عرصے سے شدت کے ساتھ گردش کرتی رہی ہے کہ محسن خان کا جانا ٹھیر چکا ہے اور اب واضح نظر آ رہا ہے کہ ڈیو واٹمور ایشیا کپ سے قبل پاکستان کی کوچنگ کی ذمہ داریاں سنبھال لیں گے۔ یوں محسن خان کی تمام تر کوششیں رائیگاں ثابت ہوگئی ہیں اور کئی یادگار فتوحات کے بعد صرف ایک سیریز، یعنی انگلستان کے خلاف ایک روزہ سیریز، میں شکست ان کے خلاف چارج شیٹ کے لیے کافی ثابت ہوئی ہے۔ کرک نامہ نے بار ہا قارئین کو بتایا تھا کہ ڈیو واٹمور کا کوچ بننا طے پا چکا ہے اور اب صرف رسمی کارروائی باقی ہے لیکن زیادہ حیران کن، بلکہ اگر ہماری نظر سے دیکھا جائے تو حوصلہ افزا معاملہ اب سامنے آیا ہے کہ کوچ کے ساتھ ساتھ کرکٹ بورڈ کے گرو نئے کپتان کی بھی تلاش کر رہے ہیں۔

مصباح کو ٹیسٹ کپتانی اور محسن خان کو بورڈ میں کوئی اور عہدہ دیا جائے گا: ذرائع (تصویر: Getty Images)

مصباح کو ٹیسٹ کپتانی اور محسن خان کو بورڈ میں کوئی اور عہدہ دیا جائے گا: ذرائع (تصویر: Getty Images)

ذرائع نے کرک نامہ کو بتایا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے اعلیٰ عہدیداران کم از کم محدود اوورز کی کرکٹ میں ٹیم کی قیادت ایک نوجوان کھلاڑی کے سپرد کرنا چاہتے ہیں اور فی الحال ایسا لگتا ہے کہ ان کی نظر انتخاب محمد حفیظ پر ٹھیرے گی۔ بورڈ حکام کی غیر رسمی گفتگو میں ٹیم کی قیادت کا معاملہ زیر بحث ہے اور وہ مصباح الحق کی بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ ساتھ ان کی حد سے زیادہ دفاعی حکمت عملی سے بھی ناخوش ہیں۔ یہ بدلتی ہوئی کرکٹ کے تناظر میں بورڈ کا ایک دانشمندانہ فیصلہ لگتا ہے کیونکہ نتائج سے ظاہر ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم نمبر ون ٹیسٹ ٹیم انگلستان کے خلاف ٹیسٹ میں کلین سویپ کرنے کے باوجود محدود اوورز کی کرکٹ میں لڑکھڑا گئی اور اب تک سیریز کا کوئی میچ جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔

مصباح الحق کی زیر قیادت ٹیسٹ سیریز میں انگلستان کی شکست کے بعد کپتان کو خوب سراہا تو گیا لیکن یہ امر بہرحال سب کے سامنے روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اس وقت مصباح کی عمر 37 سال ہے اور وہ زیادہ عرصہ ٹیم کے ساتھ نہیں رہ سکتے۔ اس لیے بے ضابطہ طور پر یہ طے کیا گیا ہے کہ اگلے ماہ ڈیو واٹمور کے کوچ بننے کے بعد محمد حفیظ کی کپتان نامزدگی کا اعلان کیا جائے گا۔ اس تاخیر کا مقصد ہی یہی ہے کہ اس معاملے پر بورڈ ٹیم میں ٹوٹ پھوٹ نہیں چاہتا اور کسی خطرے کو مول لینے سے بچنے کے لیے قیادت کی منتقلی کی تمام تر ذمہ داری نئے کوچ پر رکھنا چاہتا ہے اور خود کو ’دودھ میں سے مکھی‘ کی طرح نکالنا چاہتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مصباح الحق کو ٹیسٹ ٹیم میں بدستور کپتان برقرار رکھا جائے گا، جس کی وجہ ان کی بہترین کارکردگی اور قیادت کا انداز ہے جس کی بدولت پاکستان نے مشکل سے مشکل صورتحال میں بھی میچ بچائے ہیں جبکہ محسن خان، جو قائم مقام کوچ بننے سے قبل چیف سلیکٹر تھے، کو ان کی مرضی کے مطابق دوبارہ یہی عہدہ یا پھر اپنی مرضی کی کوئی اور ذمہ داری سونپی جائے گی۔

93 ایک روزہ مقابلوں میں 42.25 کی اوسط سے 2620 رنز بنانے والے مصباح الحق نے ابھی تک محدود اوورز کی کرکٹ میں کوئی سنچری نہیں بنائی۔ گو کہ ان کے ریکارڈ پر بنگلہ دیش، زمبابوے اور سری لنکا کے خلاف محدود اوورز کی سیریز فتوحات شامل ہیں لیکن ان میں سے سوائے سری لنکا کے خلاف 4-1 کی فتح کے کوئی جیت قابل ذکر نہیں ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بورڈ عہدیداران سمجھتے ہیں کہ ڈیو واٹمور ایک سخت گیر کوچ ہیں اور اُن کی پہلی ترجیح ہی ایک جارح مزاج کپتان ہے،یوں اُن کی خواہش کو بھی مدنظر رکھا جا رہا ہے اور حفیظ کی ترقی کی راہ بھی ہموار کی جا رہی ہے۔

31 سالہ حفیظ، جو ٹیم میں ”پروفیسر“ کے لقب سے مشہور ہیں ، نے گو کہ اپنے کیریئر کا آغاز 2003ء میں کیا تھا لیکن انہوں نے اپنا مقام 2010ء میں ہی مضبوط کیا ہے اور اس وقت سے ٹیم کے مستقل رکن بھی ہیں اور انتہائی مستقل مزاجی کے ساتھ بلّے اور گیند دونوں کے ساتھ بھرپور کارکردگی بھی دکھا رہے ہیں۔ صرف 2011ء میں انہوں نے دو ٹیسٹ اور تین ایک روزہ سنچریاں جڑیں جبکہ ٹی ٹوئنٹی طرز میں دو مرتبہ نصف سنچریاں اسکور کیں۔ نہ صرف انہوں نے 10 مرتبہ میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز حاصل کیا بلکہ سنتھ جے سوریا اور ژاک کیلس کے بعد ایک سال میں 1000 رنز اور 30 سے زائد وکٹیں حاصل کرنے والے تاریخ کے تیسرے کھلاڑی بنے۔

دوسری جانب خود پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ذکا اشرف بھی اس امر کی جانب اشارہ کر چکے ہیں کہ پاکستان کو تینوں طرز کی کرکٹ میں الگ الگ کپتان اور کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنا چاہیے کیونکہ ہر طرز کی کرکٹ کا مزاج بالکل الگ ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ انگلستان کے خلاف اس حوصلہ شکن ہار کے بعد پاکستان ایشیا کپ کے لیے کیا حکمت عملی ترتیب دیتا ہے اور کیا کوچ کے ساتھ ساتھ وہاں پاکستان نئے کپتان کے ساتھ میدان میں اترے گا؟

ایشیا کپ کا آغاز 11 مارچ سے بنگلہ دیش دارالحکومت ڈھاکہ میں ہو رہا ہے جہاں بھارت اپنے اعزاز کا دفاع کرے گا۔

Facebook Comments