سری لنکا کی کینیڈا کے خلاف 210 رنز کی شاندار فتح

عالمی کپ 2011ء میں یکطرفہ میچز کا سلسلہ دوسرے روز بھی جاری رہا۔ بھارت کی جانب سے بنگلہ دیش کو بدترین شکست دینے اور نیوزی لینڈ کی جانب سے کینیا کو کچل کر رکھ دینے کا بعد تیسرا مقابلہ میزبان سری لنکا اور کینیڈا کے درمیان ہوا جس میں سری لنکا نے 210 رنز کے بڑے مارجن سے فتح حاصل کر کے عالمی کپ میں اپنے سفر کا شاندار آغاز کیا ہے۔

مہیلا جے وردھنے شاندار سنچری مکمل کرنے کے بعد داد وصول کرتے ہوئے (اے ایف پی)

عالمی کپ میں ایسوسی ایٹ اراکین کی شمولیت کے حامی حلقوں کے لیے آج کا دن بہت ہی افسوسناک رہا۔ کینیا کا نیوزی لینڈ کے خلاف 69 پر آل آؤٹ ہو جانا اور کینیڈا کا 333 رنز کے ہدف کے تعاقب میں محض 122 رنز پر ڈھیر ہو جانا بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے اس فیصلے کو درست ثابت کرتا دکھائی دیتاہے جس نے عالمی کپ 2015ء کے لیے محض 10 ٹیمیں کھلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ہمبنٹوٹا کے مہند راجا پکسے اسٹیڈیم میں کھیلا گیا میچ اس نئے میدان کا پہلا ایک روزہ مقابلہ بھی تھا جہاں سری لنکا نے ٹاس جیت کر پہلے بلےبازی کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے کا سبب ایک بڑا اسکور بنا کر حریف کو دباؤ میں ڈالنا اور ایک اچھا رن ریٹ حاصل کر کے اگلے مرحلے میں پہنچنے کے امکانات کو بڑھانا تھا۔ اور سری لنکن بلے بازوں نے اپنے کپتان کو مایوس بھی نہیں کیا۔ سری لنکا کی پہلی وکٹ 63 کے مجموعی اسکور پر گری جب اوپل تھارنگا محض 19 رنز بنا کر پویلین سدھار گئے۔ دوسرے اینڈ پر تلکارتنے دلشان تھے جو اپنی نصف سنچری مکمل کرتے ہی رضوان چیمہ کا شکار بن گئے۔ اس موقع پر کپتان کمار سنگاکارا اور مہیلا جے وردھنے نے کینیڈا کے ناتجربہ کار باؤلنگ اٹیک کے خلاف 179 رنز کی طویل شراکت قائم کی۔ سنگاکارا بدقسمتی سے اپنی سنچری مکمل نہ کر سکے اور 92 کے انفرادی اسکور پر ٹورنامنٹ کے طویل العمر ترین کھلاڑی جان ڈیویسن کا شکار بن گئے۔ ان کی اننگ میں ایک چھکا اور سات چوکے شامل تھے۔

دوسرے اینڈ پر کھڑے جے وردھنے اپنی سنچری مکمل کرنے میں کامیاب ہوئے جنہوں نے محض 81 گیندوں پر ایک چھکے اور 9 چوکوں کی مدد سے 100 رنز بنائے اور ڈیویسن کا دوسرا شکار بن گئے۔ جے وردھنے کی 80 گیندوں پر سنچری کسی بھی سری لنکن بلے باز کی عالمی کپ میں تیز ترین سنچری ہے۔ ان دونوں بلے بازوں کی اس شاندار بیٹنگ کی بدولت سری لنکا نے مقررہ 50 اوورز کے اختتام پر 7 وکٹوں کے نقصان پر 332 رنز بنائے۔ کینیڈا کی جانب سے ہرویر بیدوان اور جان ڈیویسن نے 2، 2 وکٹیں حاصل کیں جبکہ ایک وکٹ رضوان چیمہ کے ہاتھ لگی۔

جواب میں کینیڈین بلے باز 333 رنز کے ہدف کے دباؤ میں نظر آئے اور وہ سری لنکن باؤلرز کی جارحانہ باؤلنگ کی تاب نہ لا سکے اور ابتداء ہی سے ان کی وکٹیں گرنا شروع ہو گئیں۔ سب سے تجربہ کار بلے باز اور گزشتہ عالمی کپ میں ویسٹ انڈیز کے خلاف سنچری اسکور کرنے والے جان ڈیویسن صفر پر پویلین سدھار گئے اور ان کے جاتے ہی گویا وکٹیں رکنے میں نہیں آ رہی تھیں۔ صرف کپتان اشیش باگائی (22 رنز) اور رضوان چیمہ (37 رنز) کچھ مزاحمت کر سکے لیکن ان کے علاوہ کوئی بلے باز قابل ذکر اسکور نہ بنا سکا۔ صرف تین بلےبازوں کی اننگ دہرے ہندسے میں داخل ہوئی۔ سری لنکا کی جانب سے نووان کلاسیکرا اور تھسارا پیریرا نے تین، تین جبکہ اپنا آخری عالمی کپ کھیلنے والے متیاہ مرلی دھرن نے دو وکٹیں حاصل کیں۔ ایک وکٹ اجنتھا مینڈس کے ہاتھ لگی۔

مہیلا جے وردھنے کو شاندار سنچری پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔ سری لنکا اہم ترین میچ میں اب پاکستان کے مدمقابل ہوگا جو 26 فروری کو کولمبو کے پریماداسا اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔ گروپ میں مضبوط پوزیشن حاصل کرنے کے لیے سری لنکا اور پاکستان دونوں کے لیے یہ میچ بہت اہمیت کا حامل ہے۔ دوسری جانب کینیڈا اب ایک ہفتے کے آرام کے بعد 28 فروری کو ناگپور میں زمبابوے کا سامنا کرے گا۔

Facebook Comments