واٹمور نے کوچ کا عہدہ سنبھال لیا، فاؤنٹین فیلڈنگ کوچ مقرر

بالآخر کرک نامہ کی تقریباً سات ماہ پرانی پیش گوئی درست ثابت ہوئی اور پاکستان کرکٹ بورڈ نے آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے ڈیو واٹمور کو پاکستان کا نیا ہیڈ کوچ مقرر کر دیا ہے۔ ان کے علاوہ معرف کوچ جولین فاؤنٹین نے بھی دو سالہ معاہدے کے تحت پاکستان کے فیلڈنگ کوچ کی ذمہ داری سنبھال لی ہے۔ ان دونوں اہم عہدوں پر کوچز کی تقرری کا اعلان گزشتہ روز لاہور میں ایک اہم پریس کانفرنس میں کیا گیا جس میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ذکا اشرف اور ڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ انتخاب عالم بھی موجود تھے۔

ڈیو واٹمور (بائیں) اور جولین فاؤنٹین (دائیں) پاکستان کرکٹ ٹیم کی کوچنگ کے دو اہم ستون سنبھالیں گے (تصویر AFP)

ڈیو واٹمور (بائیں) اور جولین فاؤنٹین (دائیں) پاکستان کرکٹ ٹیم کی کوچنگ کے دو اہم ستون سنبھالیں گے (تصویر AFP)

واٹمور سابق کوچ وقار یونس کے جانشیں کی حیثیت سے اس اہم ترین عہدے پر فائز ہوئے ہیں۔وقار یونس نے گزشتہ سال دورۂ زمبابوے کے بعد اپنی صحت و خاندانی مسائل کے پیش نظر ہیڈ کوچ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا جس کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے نئے کوچ کی تلاش ایک سہ رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی اور اس کمیٹی کے اراکین اور معاونین کے ناموں ہی سے اندازہ ہو گیا تھا کہ بورڈ کا جھکاؤ مکمل طور پر غیر ملکی امیدوار کی جانب ہے۔

58 سالہ واٹمور ماضی میں سری لنکا اور بنگلہ دیش کی کوچنگ کر چکے ہیں اور انہوں نے لنکا کے شیروں کو 1996ء کا عالمی کپ اور بنگال کے شیروں کو ٹیسٹ و ایک روزہ میں چند تاریخی فتوحات سے ہمکنار کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔

اپنے سخت گیر رویے کے باعث شہرت رکھنے والے ڈیو ماضی میں بھی پاکستان کے کوچ کے امیدوار رہ چکے ہیں جب 2007ء میں سابق کوچ باب وولمر کی اندوہناک موت کے باعث یہ عہدہ خالی ہوا تھا لیکن پاکستانی کرکٹ ٹیم کے چند سینئر اراکین کی جانب سے مخالفت کے باعث بورڈ نے واٹمور کے بجائے جیف لاسن کا انتخاب کیا تھا۔

بہرحال، واٹمور کی آمد کے ساتھ ہی محسن حسن خان کے عبوری دور کا بھی خاتمہ ہوا جو ایک لحاظ سے بہت یادگار بھی رہا کیونکہ اس میں پاکستان نے دو سرفہرست ٹیموں انگلستان اور سری لنکا کو ٹیسٹ سیریز میں شکست دی جبکہ بنگلہ دیش کے خلاف بھی ٹیسٹ و محدود اوورز کی سیریز جیتیں۔ محسن کے دور کی واحد شکست انگلستان کے خلاف ایک روزہ و ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی مقابلوں کی ہار تھی، اس کے علاوہ ٹیم نے شاذ و نادر ہی بری کارکردگی دکھائی۔ یہی وجہ ہے کہ محسن کے حق میں رائے عامہ خاصی حد تک ہموار ہو چکی تھی لیکن جیسا کہ ہم نے آپ کو بتایا کہ غیر ملکی کوچ کی تقرری کا فیصلہ وقار یونس کی روانگی کے ساتھ ہی ہو چکا تھا، بس صرف یہ طے ہونا باقی تھا کہ وہ کوچ کون ہوگا۔ وقار یونس کے تجربے کے بعد پی سی بی مقامی کوچ کی تقرری سے تائب ہو چکا تھا۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ذکا اشرف نے کہا کہ ”میں اپنی ٹیم کے لیے دنیا کا بہترین کوچ چاہتا تھا اور میں نے کوچ کی تقرری کے لیے کمیٹی کو ہدف دیا۔ انہوں نے تمام امیدواروں کا جائزہ لیا اور ٹیم کے لیے بہترین امیدواروں کا انتخاب کیا۔ مجھے خوشی ہے کہ ڈیو واٹمور اور جولین فاؤنٹین ہمارے نظام کا حصہ بننے جا رہے ہیں اور توقع ہے کہ اُن کی زیر نگرانی ٹیم زبردست کارکردگی پیش کرے گی۔“

ڈیو واٹمور کا کہنا تھا کہ ”میرا ہدف ٹیم کی کارکردگی میں تسلسل لانا ہے ، ہم ٹیم کو طویل عرصے تک ایک مستقل سطح پر دیکھنا چاہتے ہیں۔“ انہوں نے انگلستان کے خلاف حالیہ سیریز کے حوالے سے کہا کہ ”ٹیسٹ میں زبردست فتح کے بعد محدود اوورز میں ایک مایوس کن شکست ہوئی اس لیے ٹیم میں مستقل مزاجی کی ضرورت ہے اور کم از کم مقابلہ تو کانٹے کا ہو، چاہے مقابلہ ہار جائیں۔ پھر بھی میری نظریں اب ماضی پر نہیں بلکہ مستقبل پر مرکوز ہیں۔“ انہوں نے کہا کہ ”میرا حتمی ہدف پاکستان کو تمام طرز کی کرکٹ میں درجہ بندی میں اوپر لانا ہے لیکن اس کے لیے وقت درکار ہوگا۔ ٹیم اس وقت چھٹی پوزیشن پر ہے اس لیے اسے سرفہرست لانے میں وقت لگے گا۔“

واٹمور کا پہلا بڑا امتحان رواں ماہ شروع ہونے والا ایشیا کپ ہے جو بنگلہ دیش میں کھیلا جائے گا جہاں پاکستان کا ٹکراؤ عالمی چیمپئن اور روایتی حریف بھارت اور آسٹریلوی سرزمین پر بہترین کارکردگی دکھانے والے سری لنکا کے ساتھ ہے۔

دوسری جانب، جولین فاؤنٹین پاکستان کے ’دائمی مرض‘ یعنی فیلڈنگ کے علاج کے لیے خصوصی طور پر مقرر کیے گئے ہیں۔ جولین فیلڈنگ کوچنگ کے حوالے سے عالمی شہرت رکھتے ہیں اور 2001ء میں پاکستان ’اے‘ کے فیلڈنگ کوچ بھی رہ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ پی سی بی کی ریجنل کرکٹ اکیڈمیز کے لیے بھی خدمات انجام دے چکے تھے جس کے بعد پاکستان کے اس وقت کے کوچ باب وولمر نے انہیں 2006ء میں دورۂ انگلستان کے لیے قومی ٹیم میں طلب کیا تھا۔

جولین فاؤنٹین برطانیہ کے بیس بال کھلاڑی کھلاڑی رہ چکے ہيں اور بین الاقوامی سطح پر برطانیہ کی نمائندگی تک کر چکے ہیں۔ وہ پہلے بیس بال کھلاڑی ہیں جو ٹیسٹ سطح پر فیلڈنگ کوچ رہے ہیں۔ وہ پاکستان کے علاوہ ویسٹ انڈیز، بنگلہ دیش اور انگلستان میں فیلڈنگ اور اسسٹنٹ کوچ کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہ عالمی کپ 1999ء میں ویسٹ انڈیز اور عالمی کپ 2011ء میں بنگلہ دیش کے کوچنگ عملے کا حصہ تھے۔

اس طرح کرکٹ کے تین اہم شعبوں بیٹنگ، باؤلنگ اور فیلڈنگ میں سے دو میں تو پاکستان انتہائی باصلاحیت افراد کی خدمات حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے لیکن عاقب جاوید کے باؤلنگ کوچ کے عہدے سے استعفے کے باعث یہ میدان اب خالی ہو گیا ہے۔ عارضی طور پر سابق تیز گیند باز سرفراز نواز کیمپ میں باؤلرز کو ہدایات دے رہے ہیں لیکن یہ عہدہ اب مکمل طور پر خالی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس پر کون سا براجمان ہوتا ہے۔

Facebook Comments