ایشیا کپ کے لیے قومی ٹیم کا اعلان، فرحت، ملک اور عدنان باہر

پاکستان میں وکٹ کیپرز کے درمیان ’میوزیکل چیئر‘ کا کھیل جاری ہے اور ایشیا کپ 2012ء کے لیے اعلان کردہ دستے میں سرفراز احمد کو طلب کر کے ایک اور بلکہ ”آخری موقع“ دیا گیا ہے۔ اس اہم ٹورنامنٹ کے لیے اعلان کردہ 15 رکنی دستے میں شعیب ملک، عمران فرحت اور عدنان اکمل کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ عمران فرحت کی جگہ نوجوان اوپنر ناصر جمشید کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے جبکہ عدنان اکمل کو باہر کر کے سرفراز احمد کو ایک مرتبہ پھر بلایا گیا ہے۔

وکٹ کیپر سرفراز احمد کو کہا گیا ہے کہ یہ ان کے لیے "آخری موقع" ہے (تصویر: Getty Images)

وکٹ کیپر سرفراز احمد کو کہا گیا ہے کہ یہ ان کے لیے "آخری موقع" ہے (تصویر: Getty Images)

ویسے کیا زمانہ تھا جب پاکستان کرکٹ ٹیم کو دو پھرتیلے وکٹ کیپرز اور اتنے ہی عمدہ بلے بازوں یعنی معین خان اور راشد لطیف میں سے کسی ایک کو باہر بٹھانا پڑتا تھا اور اب یہ عالم ہے کہ پاکستان ایک ڈیڑھ سال میں چار، پانچ وکٹ کیپرز کو آزما چکا ہے لیکن کوئی ایسا نہیں جو مستقل جگہ پا سکے۔ کامران اکمل کے بعد ذوالقرنین حیدر کو جگہ دی گئی تو اُن کے معاملات ہی الگ ٹھیرے، پھر عدنان اکمل، سلمان احمد اور سرفراز احمد ہی کافی تھے کہ عمر اکمل کو دستانے سنبھالنے کی اضافی ذمہ داری بھی دے ڈالی گئی۔ اس گھن چکر نے پاکستان کے لوئر بیٹنگ آرڈر میں مسابقت کی صلاحیت ہی کا خاتمہ کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میچ کو گرفت میں لینے کے باوجود نچلے درجے پر کسی اچھے بلے باز کی عدم موجودگی کے باعث مقابلے ہار جاتا ہے۔ لیکن نئے چیئرمین سلیکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ یہ سرفراز احمد کے لیے آخری موقع ہے کہ وہ ٹیم میں اپنی جگہ مضبوط کریں اور اہلیت ثابت کریں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کی سلیکشن کمیٹی کا اجلاس نئے چیئرمین اقبال قاسم کی زیر صدارت آج منعقد ہوا۔ سلیکٹرز اجلاس نے ایک روز قبل پاکستان کے نئے کوچ ڈیو واٹمور سے ملاقات کر چکے تھے، جن کی تقرری کا ابھی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا، لیکن ان کی رائے کو مدنظر رکھتے ہوئے ایشیا کپ کے لیے 15 رکنی ٹیم کا انتخاب کیا گیا ہے۔ اقبال قاسم کا کہنا ہے کہ ہم نے بہت کم وقت میں بہترین دستہ تشکیل دیا ہے اور اس سلسلے میں کپتان مصباح الحق سے بھی رابطہ کیا گیا اور انہوں نے انتخاب پر اپنی رضامندی ظاہر کی ہے۔

عمران فرحت کی جگہ ٹیم میں شامل کیے گئے ناصر جمشید ماضی میں پاکستان کے لیے 12 ایک روزہ بین الاقوامی مقابلے کھیل چکے ہیں اور 35.30 کی اوسط سے 353 رنز بنائے ہیں۔ انہوں نے آخری مرتبہ اگست 2009ء میں دمبولا میں سری لنکا کے خلاف ایک روزہ بین الاقوامی مقابلہ کھیلا تھا اور اس کے بعد سے ملک کی نمائندگی سے محروم ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں مکمل ہونے والی بنگلہ دیش پریمیئر لیگ میں چٹاگانگ کنگز کی نمائندگی کی۔اس سے قبل وہ پنٹاگولر کپ میں پنجاب کی جانب سے 53.33 کی اوسط سے 320 رنز بھی بنا چکے ہیں۔ اقبال قاسم نے کہا کہ جمشید کو ڈومیسٹک سرکٹ میں بحیثیت اوپنر اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے باعث ایک مرتبہ پھر بلایا گیا ہے۔

عمر اکمل کے حوالے سے چیف سلیکٹر کا کہنا تھا کہ ”اُن پر اضافی دباؤ ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ وہ اچھی کارکردگی نہیں دکھا پا رہے۔ انہیں ہمیشہ ایک بلے باز کی حیثیت ہی سے کھلایا گیا ہے لیکن ہمیں ایسے وکٹ کیپر کی ضرورت ہے جو ایک روزہ مقابلوں میں تیزی سے رنز بنا کر موثر کردار ادا کرے۔“ اس لیے اقبال قاسم نے واضح طور پر کہا کہ ”ایشیا کپ سرفراز احمد کے لیے ٹیم میں جگہ مضبوط کرنے کا آخری موقع ہوگا۔ کیونکہ اس سیریز کے بعد ہم ایک آل راؤنڈ وکٹ کیپر کی تلاش کا باضابطہ آغاز کریں گے۔“

ایشیا کپ 2012ء کا آغاز 11 مارچ کو میزبان بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان مقابلے سے ہوگا جبکہ روایتی حریفوں پاکستان و بھارت کے درمیان مقابلہ 18 مارچ کو ہوگا۔ ٹورنامنٹ کے لیے اعلان کردہ پاکستانی ٹیم ان کھلاڑیوں پرمشتمل ہے:

مصباح الحق (کپتان)، اسد شفیق، اظہر علی، اعزاز چیمہ، حماد اعظم، سرفراز احمد، سعید اجمل، شاہد آفریدی، عبد الرحمن، عمر اکمل، عمر گل، محمد حفیظ، ناصر جمشید، وہاب ریاض اور یونس خان۔

ریزرو کھلاڑی: احمد شہزاد، راحت علی، بلاول بھٹی اور آفاق رحیم۔

Facebook Comments