جنوبی افریقہ کا کلین سویپ، نیوزی لینڈ تیسرے ایک روزہ میں بھی ناکام

اہم ترین گیند باز اور تین ’زخمی‘ بلے بازوں کو آرام کا موقع دینے کے باوجود جنوبی افریقہ نے نیوزی لینڈ کو مسلسل تیسرے ایک روزہ مقابلے میں 5 وکٹوں کی بھاری شکست دے کر سیریز میں کلین سویپ مکمل کر لیا۔ اس مرتبہ بھی بلے بازی میں اپنے جوہر دکھائے ہاشم آملہ نے جبکہ گیند بازی میں جادو دکھایا مرچنٹ دے لانگے نے، جو بلیک کیپس کے مڈل آرڈر پر قہر بن کر ٹوٹ پڑے اور نیوزی لینڈ کو صرف 206 رنز پر ڈھیر کر ڈالا۔ ہاشم کی ایک اور نصف سنچری نے جنوبی افریقہ کا کام آسان کیا اور اس نے 44 ویں اوور میں ہدف کو حاصل کر کے ایک یادگار فتح سمیٹی۔

تیسرے ایک روزہ کے دوران ایڈن پارک، آکلینڈ کا ایک دلکش منظر (تصویر: Getty Images)

تیسرے ایک روزہ کے دوران ایڈن پارک، آکلینڈ کا ایک دلکش منظر (تصویر: Getty Images)

گریم اسمتھ کے بعد جنوبی افریقہ کے زخمی بلے بازوں کی فہرست میں مزید دو بلے بازوں کا اضافہ ہوا یعنی ژاک کیلس اور جسٹن اونٹونگ کا۔ یہی وجہ ہے کہ جنوبی افریقہ نے اپنے آل راؤنڈر وین پارنیل کو ہاشم آملہ کے ساتھ میدان میں اتارا یعنی دو مسلمانوں کو نیوزی لینڈ کو ’حلال‘ کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی 🙂 اور انہوں نے اس کو بھرپور انداز سے نبھایا اور 80 رنز کی زبردست افتتاحی شراکت داری قائم کی اور اہم بلے بازوں سے محروم بیٹنگ لائن اپ کے لیے کام کو مزید آسان کر دیا۔ وین پارنیل 16 ویں اوور میں 27 رنز بنانے کے بعد پویلین سدھارے۔

دوسرے اینڈ سے ہاشم آملہ نے درجہ اوّل کی اننگز کھیلی۔ گو کہ انہیں اس میں ایک زندگی بھی ملی جب 30 کے انفرادی اسکور پر ناتھن میک کولم نے ان کا ایک کیچ چھوڑا اور بالآخر جب وہ 76 رنز بنا کر میدان سے واپس لوٹے تو نیوزی لینڈ کو بس آخری دھکے کی ضرورت رہ گئی تھی۔

البے مورکل نے برق رفتار 41 رنز میں تین چھکے رسید کیے لیکن جب ہدف محض 20 رنز کے فاصلے پر رہ گیا تو فرانکو دو پلیسے اور ژاں پال دومنی یکے بعد دیگرے آؤٹ ہو گئے لیکن یہاں سے میچ کو پلٹانا نیوزی لینڈ کے بس کی بات نہ تھی اور کپتان ابراہم ڈی ولیئرز نے باقی کا کام تمام کر ڈالا۔

قبل ازیں ڈی ولیئرز نے ٹاس جیت کر نیوزی لینڈ کو بلے بازی کی دعوت دی اور جنوبی افریقہ کے تیز گیند بازوں نے ابر آلود موسم اور پچ کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور سونے پہ سہاگہ جنوبی افریقہ کی شہرۂ آفاق فیلڈنگ، اس پر نیوزی لینڈ کی دال کہاں گلنے والی تھی۔

پھر جنوبی افریقہ نے اپنا ترپ کا پتہ پھینکا یعنی مرچنٹ کو میدان میں لانے کا فیصلہ جنہوں نے 144 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار کے ایک باؤنسر پر راب نکول کو دھول بھی چٹائی اور بعد ازاں خطرناک موڈ میں آتے ہوئے میک کولم کو پوائنٹ پر کیچ آؤٹ کرایا۔

کین ولیم سن اور جیمز فرینکلن نے گرتی ہوئی دیوار کو بچانے کی کوشش کی لیکن جیسے ہی ان کی شراکت داری ثمر آور نظر آنے لگی ولیم سن جنوبی افریقہ کی شاندار فیلڈنگ کا نشانہ بنتے ہوئے رن آؤٹ ہو گئے اور ایک مرتبہ پھر یہ عظیم الشان مظاہرہ ’جونٹی رہوڈز کے جانشیں‘ فرانکو دو پلیسے نے انجام دیا جنہوں نے اس سے مارٹن گپٹل کا ایک بہت ہی شاندار کیچ بھی تھاما تھا۔

بارش کی وجہ سے 40 منٹ کی تاخیر بھی نیوزی لینڈ کو سنبھلنے کا موقع نہ دے سکی اور پہلا میچ کھیلنے والے کولن ڈی گرینڈہوم کی روانگی کے وقت 39 ویں اوور میں نیوزی لینڈ کا اسکور محض 160 رنز تھا اور اس کی پانچ وکٹیں گر چکی تھیں۔

مائیکل بیٹس کے 13 رنز نیوزی لینڈ کو 200 رنز کے مجموعے تک گھسیٹنے میں کامیاب ہوئے اور پوری ٹیم 206 رنز پر ڈھیر ہوئی۔

مرچنٹ دے لانگے کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

ٹی ٹوئنٹی اور ایک روزہ دونوں سیریز ہارنے کے بعد اب پروٹیز اور بلیک کیپس ٹیسٹ سیریز میں آمنے سامنے ہوں گے جو اس لحاظ سے کافی اہم سیریز ہے کہ اس میں کلین سویپ جنوبی افریقہ کو ٹیسٹ کی عالمی درجہ بندی میں سرفہرست پوزیشن تک پہنچا دے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ نیوزی لینڈ اپنی غلطیوں سے سبق سیکھ کر ٹیسٹ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر پاتا ہے یا پھر یہ تسلسل جاری رہے گا اور وہ جنوبی افریقہ کے عالمی نمبر ایک بننے کی راہ ہموار کرے گا۔

پہلا ٹیسٹ مقابلہ
سے
میں کھیلا جائے گا۔

Facebook Comments