انہوں نے گولیاں کھائیں لیکن پاکستان کے خلاف ایک لفظ نہ نکالا

کچھ پہلوؤں کے لحاظ سے یہ ایک غیر اہم سال تھا، سوائے پاکستان کا دورہ کرنے والی سری لنکن ٹیم پر حملے کے۔ میچ کھیلنے کے لیے میدان جانے والی مہمان ٹیم کی بس پر دہشت گردوں نے حملہ کیا۔ میرے خیال میں یہ کھلاڑيوں کے حفاظتی انتظامات میں موجود نقائص و خامیوں کی وجہ سے ہوا۔ دورے کے انتظامات کے لیے ہمارے پاس انتہائی نااہل لوگ ہیں۔ ڈائریکٹر آپریشنز ذاکر خان کسی زمانے میں کرکٹر رہے ہیں – گو کہ پاکستان کے لیے دو یا تین میچز کھیلے ہیں لیکن وہ انتظامی معاملات کے بارے میں بھی بہت کم جانتے تھے۔ یہ صورتحال کسی حادثے کو دعوت دینے کے مترادف تھی اور سانحہ رونما ہوا بھی۔ اگر مجھے درست یاد ہے تو سری لنکا کے چھ کھلاڑی زخمی ہوئے تھے؛ تھیلان سماراویرا اور تھارنگا پرناوتنا کو شدید زخم آئے۔ ہم خوش قسمت تھے کہ ان میں سے کوئی مارا نہیں گیا۔

پاکستان میں دہشت گرد انسانی جانوں اور مال و اسباب کو روز نقصان پہنچاتے ہیں اور عموماً یہ بے گناہ لوگ، خواتین اور بچے ہوتے ہیں جنہیں بازاروں یا مزاروں یا مسجدوں میں نشانہ بنایا جاتا ہے۔ کوئی بھی ان حملوں کو روکتا نہیں دکھائی دیتا، یہ سب کچھ دہشت گردی کے خلاف اس منحوس جنگ کے باعث ہے۔

سری لنکا کے کھلاڑیوں پر حملہ وہ بدترین معاملہ تھا جو پاکستان کے ساتھ پیش آیا۔ ہم سب کچھ کھو بیٹھے – اپنے گھر میں کھیلنے سے محرومی سب سے بھیانک منظر تھا۔ اللہ کے کرم سے کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔ اور ہم پاکستانی سرزمین پر پیش آنے والے واقعے کے ردعمل میں سری لنکا کے عوام اور حکومت کے قابل احترام و با اخلاق رویے کے بھی ہمیشہ مشکور رہیں گے۔ میرے سری لنکن ساتھی اپنی زندگیاں کھو سکتے تھے اور کئی شدید زخمی ہو سکتے تھے؛ پھر بھی، وہ خوش قسمت تھے کہ زندگیاں بچانے میں کامیاب رہے۔ لیکن، انہوں نے کس جرات مندی سے ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے گولیاں کھائیں لیکن پاکستان کے خلاف ایک لفظ نہ نکالا – ہمارے تعلقات ان کے مہربان رویے کے باعث مزید مضبوط ہو گئے۔

(یہ اقتباس شعیب اختر کی سوانحِ عمری 'کنٹروورشلی یورز' سے ترجمہ کیا گیا ہے۔ اس کتاب کے دیگر ترجمہ شدہ اقتباسات یہاں سے پڑھے جا سکتے ہیں۔)

Facebook Comments