[آج کا دن] ’کرکٹ کے بادشاہ‘ کا یوم پیدائش

کرکٹ کی تاریخ کے سب سے عظیم کھلاڑی ڈان بریڈمین بدقسمتی سے اُس عہد میں پیدا ہوئے جب کرکٹ ٹیلی وژن کے ذریعے گھر گھر مقبول نہیں ہوا تھا لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس عظیم بلے باز نے اپنی ہی زندگی میں کرکٹ کے میدانوں میں دوسرا جنم لیا اور ’سیاہ فام بریڈمین‘ کے نام سے معروف یہ کھلاڑی تھا سر ویوین رچرڈز۔ اس مہان بلے باز نے ویسٹ انڈیز کو حقیقتاً ’کالی آندھی‘ کا روپ دیا۔

ویو رچرڈز نے آج ہی کے روز سینٹ جانز، اینٹیگا میں آنکھ کھولی تھی اور 1974ء میں دنیائے کرکٹ میں جلوہ گر ہوتے ہی عروج کی منازل طے کرتے گئے اور بالآخر ’کرکٹ کے بادشاہ‘ کہلائے۔ آج بھی اگر رائے طلب کی جائے تو بلاشبہ دنیا کے بیشتر ماہرین ویوین رچرڈز کا شمار دنیا کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں کریں گے۔

حیران کن طور پر ویو رچرڈز کو نہ ہی رنز کی تعداد تاریخ کا عظیم ترین کھلاڑی بناتی ہے اور نہ ہی سنچریوں کے انبار، بلکہ جو چیز انہیں سب سے ممتاز کرتی ہے وہ ان کی حریف گیند باز اور ٹیم پر غلبہ پانے اور ان کے حوصلوں کو توڑ دینے کی صلاحیت تھی۔ ان کے شاٹس کی برق رفتاری، قوت اور متعین جگہ پر کھیلنے کا ہنر تھا جس کی بدولت کرکٹ کے معروف جریدے ’وزڈن‘ نے انہیں ایک روزہ کرکٹ کی تاریخ کا عظیم ترین بلے باز اور سر ڈان بریڈمین اور سچن ٹنڈولکر کے بعد ٹیسٹ کا تیسرا عظیم ترین بلےباز قرار دیا ۔

ویسے یہ سوال کرکٹ کی تاریخ کے بارے میں معمولی شدھ بدھ رکھنے والے والے کسی بھی شائق سے پوچھ لیجیے کہ تاریخ کی سب سے عظیم ٹیم کون سی تھی تو ایک غالب اکثریت 70ء اور 80ء کی دہائی کے ویسٹ انڈیز کے حق میں رائے دے گی جب ویو رچرڈز کپتان، نائب کپتان یا بلے باز کی حیثیت سے ٹیم کے رکن تھے۔ یہ ویو کی اثر انگیز شخصیت اور ان کی زبردست صلاحیت تھی کہ اُن کے ٹیم میں آتے ہی ویسٹ انڈیز کی ٹیم وہ نہ رہی جو تھی، بلاشبہ کلائیو لائیڈ کی زیر قیادت چند تاریخی کارنامے ضرور انجام دیے، لیکن اُن کے چھوڑے ہوئے کام کو جس کھلاڑی نے تکمیل تک پہنچایا وہ 5 فٹ 10 انچ قامت کا یہ بلے باز تھا جس کی زیر قیادت ویسٹ انڈیز کبھی کوئی ٹیسٹ سیریز نہیں ہارا۔

پاکستان کے دو گیند باز عمران خان اور وسیم اکرم ویو رچرڈز کو تاریخ کا بہترین بلے باز گردانتے ہیں۔ خصوصاً عمران تو بارہا ان کی صلاحیتوں کے معترف نظر آئے ہیں اور جب بھی کسی اچھے بلے باز کے بارے میں ان سے سوال کیا جاتا ہے تو ان کا جواب ایک ہی ہوتا ہے ’ویو‘۔

ویو نے دنیائے کرکٹ میں جلوہ گر ہوتے ہی دنیا بھر کے باؤلرز کے چھکے چھڑا دیے۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ ویسٹ انڈین ٹیم میں تو مائیکل ہولڈنگ، اینڈی رابرٹس، جوئیل گارنر اور میلکم مارشل جیسے مہلک ہتھیار تھے ہی لیکن دنیا کے دیگر ممالک بھی اچھے باؤلرز سے محروم نہ تھے۔ خصوصاً عمران خان، ڈینس للی، جیف تھامسن، رچرڈ ہیڈلی اور کپل دیو جیسے تیز گیند باز کہیں بھی اور کسی بھی ٹیم کی دھجیاں بکھیر سکتے تھے لیکن ویو رچرڈز کا بغیر ہیلمٹ پہنے میدان میں آنا اس امر کا اعلان تھا کہ وہ کسی کو خاطر میں نہیں لاتے۔

جب وہ میدان میں بلے بازی کے لیے اترتے تو بہت ہی دھیمی رفتار سے، بلکہ ٹہلتے ہوئے، کریز تک آتے۔ وکٹ کی چھان پھٹک کرتے، چیونگم چباتے، اپنا کیپ درست کرتے اور حریف گیند باز اور ٹیم کو کافی حد تک زِچ کرنے کے بعد کھیلنے کے لیے تیار ہوتے۔ اس زمانے میں جب ایک روزہ کرکٹ اپنے عہدِ طفولیت میں تھی، اور بیشتر کھلاڑی اسے ٹیسٹ ہی کے انداز میں کھیلتے تھے، ویو نے محدود اوورز کی کرکٹ کو بدل کر رکھ دیا۔ 70ء و 80ء کی دہائی میں کھیلنے کے باوجود سر ویو رچرڈز کا اسٹرائیک ریٹ 90 سے زائد ہے جو آج کی تیز کرکٹ کے عہد میں بھی بہت کم بلے بازوں کو حاصل ہے۔ ان کے خوبصورت ترین شاٹس میں سے ایک ہک شاٹ تھا، جی ہاں، وہ دھڑلّے سے ہک کھیلا کرتے تھے اور وہ بھی بغیر ہیلمٹ کے۔

1974ء میں بھارت کے خلاف بنگلور ٹیسٹ سےاپنے بین الاقوامی کیریئر کا آغاز کرنے والے ویو کے کیریئر کا یادگار ترین سال 1976ء تھا، جس میں انہوں نے 90 کے اوسط سے 1710 رنز بنائے اور وہ بھی آسٹریلیا اور انگلستان جیسے مضبوط حریفوں کے خلاف۔ یہ ایک سال میں سب سے زیادہ رنز بنانے کا نیا عالمی ریکارڈ تھا اور اگلے 30 سال تک مزید قائم رہا یہاں تک کہ 2006ء میں پاکستان کے محمد یوسف نےاسے توڑ ڈالا۔

ویو نے کیریئر میں 121 ٹیسٹ مقابلے کھیلے اور 24 سنچریوں اور 45 نصف سنچریوں کی مدد سے 8540 رنز بنائے۔

ان کے بلے سے رنز کس طرح اگلتے تھے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے 1986ء میں انگلستان کے خلاف 56 گیندوں پر تاریخ کی تیز ترین ٹیسٹ سنچری بنائی تھی جو آج بھی ایک عالمی ریکارڈ ہے۔ 80ء کی دہائی کے بعد کرکٹ کا مزاج بڑی حد تک تبدیل ہوا، خصوصاً محدود اوورز کی کرکٹ تو بالکل بدل کر رہ گئی۔ ایسے ایسے بلے باز آئے جن کی برق رفتاری و شعلہ فشانی زبان زدِ عام تھی لیکن کوئی بھی ویو رچرڈز کے تیز ترین سنچری کے ریکارڈ کو نہ توڑ پایا۔ اس سیریز میں انہوں نے انگلستان سے نو آبادیاتی دور کے تمام مظالم کے بدلے لیے اور دورۂ انگلستان باؤلرز کے لیے مددگار کنڈیشنز کے باوجود ان کے بلے سے نکلنے والے رنز کے سیلاب پر بند باندھنا کسی کے لیے ممکن دکھائی نہیں دیتا تھا۔ محض 7 اننگز میں انہوں نے 829 رنز بنائے جس میں دو ڈبل سنچریاں بھی شامل تھیں۔ان کی اس شاندار بلے بازی کی بدولت ویسٹ انڈیز نے انگلستان کو اُسی کی سرزمین پر 5-0 سے بدترین شکست دی جسے اس زمانے میں شائقین نے ’بلیک واش‘ کا نام دیا تھا۔

ویو رچرڈز نے 1980ء سے 1991ء کے دوران 50 ٹیسٹ مقابلوں میں ویسٹ انڈیز کی قیادت بھی کی اور بلاشبہ ان کی کپتانی میں ویسٹ انڈیز دنیا کی تاریخ کی سب سے عظیم ٹیم بنا۔ انہوں نے 26 میچز میں فتوحات حاصل کیں اور صرف 13 میں شکست کا منہ دیکھنا پڑا اور جیسا کہ اوپر بیان کر چکے ہیں کہ ان کی کپتانی میں ویسٹ انڈیز کبھی کوئی سیریز نہیں ہارا۔

دوسری جانب اگر ان کے ایک روزہ کیریئر کا جائزہ لیا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ ایک روزہ کرکٹ نے تو گویا ان ہی کے لیے جنم لیا تھا، نہ صرف اپنے ملک کے میدانوں میں بلکہ بیرون ملک بھی جیسی کارکردگی ویو رچرڈز نے دکھائی ویسی شاذ و نادر ہی کسی بلے باز کی جانب سے دیکھی گئی ہے۔ انہوں نے کل 187 میچز کھیلے اور 47 کے اوسط سے 6721 رنز بنائے جبکہ عالمی کپ کے23 مقابلوں میں انہوں نے 63.31 کے اوسط سے 1013 رنز بنائے جس میں 3 سنچریاں اور 5 نصف سنچریاں شامل تھیں۔

ان کی بہترین ایک روزہ کارکردگی میں 1984ء میں انگلستان کے خلاف 189 رنز کی اننگز اور 1979ء کے عالمی کپ فائنل میں 138 رنز کی فتح گر سنچری شامل ہیں۔ اول الذکر اننگز کو دس سال قبل معروف جریدے ’وزڈن‘ نے ایک روزہ کرکٹ کی تاریخ کی بہترین اننگز قرار دیا تھا کیونکہ اس میچ میں ان کے علاوہ پوری ٹیم سے صرف ایک کھلاڑی دہرے ہندسے میں پہنچا تھا اور ٹیم کا مجموعی اسکور بھی صرف 272 رنز بنا جس میں سے 189 رنز ویو کے تھے جو انہوں نے 170 گیندوں پر بنائے تھے۔

1999ء میں ویو رچرڈز کو ملکہ برطانیہ کی جانب سے ’سر‘ کا خطاب دیا گیا اور اگلے سال انہیں ’وزڈن‘ نے صدی کے پانچ بہترین کھلاڑیوں میں شمار کیا۔

ویو رچرڈز اتنے عظیم کھلاڑی تھے کہ ان کے کرکٹ کو خیر باد کہتے ہی ویسٹ انڈیز پر ایسا زوال طاری ہوا کہ وہ آج تک اس سے باہر نہیں نکل پایا گو کہ ان کے جانے کے بعد بھی کئی کھلاڑی جلوہ گر ہوئے اور انہوں نے اپنی کارکردگی سے دنیا بھر کے شائقین کے دل موہ لیے لیکن وہ ویسٹ انڈیز کو فتوحات کی اُس راہ پر دوبارہ گامزن نہ کر پائے جس پر کبھی ویو کی قیادت میں سفر جاری تھا۔

انہوں نے 1974ء کے فٹ بال عالمی کپ کے لیے اینٹیگا کی جانب سے بین الاقوامی فٹ بال میں بھی نمائندگی کی اور یوں کرکٹ کے ان چند کھلاڑیوں سے ایک ہیں جنہیں فٹ بال اور کرکٹ دونوں میں اپنے ملک کی نمائندگی کا اعزاز حاصل ہوا۔

نارتھ ساؤنڈ، اینٹیگا میں واقع بین الاقوامی کرکٹ اسٹیڈیم انہی کے نام سے موسوم ہے۔ یہ میدان 2007ء کے عالمی کپ سے قبل تیار کیا گیا تھا۔

Facebook Comments