لڑکھڑاتا انگلستان ڈچ خطرے سے نمٹنے میں بمشکل کامیاب

معرکہ تھا انگلستان اور نیدرلینڈز کا اور ناگپور کے وی سی اے اسٹیڈیم میں صرف ایک ہی نام گونجتا رہا وہ تھا ڈچ کھلاڑی ریان ٹین ڈسکاٹے کا۔ 2010ء میں آئی سی سی ایسوسی ایٹ پلیئر آف دی ایئر قرار پانے والے ڈسکاٹے نے 110 گیندوں پر 119 رنز کی شعلہ فشاں اننگ کھیلی اور اپنے 10 اوورز میں محض 47 رنز دے کر حریف ٹیم کے دو اہم بلے بازوں کو بھی آؤٹ کیا لیکن ان کی یہ شاندار کارکردگی بھی نیدرلینڈز کو انگلستان کے خلاف فتح نہ دلوا سکی۔

ریان ٹین ڈسکاٹے، جن کی سنچری اننگ نے تمام ایسوسی ایٹ ممالک کی جانب سے آئی سی سی کو بھرپور جواب دیا (گیٹی امیجز)

عالمی کپ 2011ء کے آغاز اور ابتدائی میچز میں کمزور ٹیموں کی ناقص کارکردگی کے باعث یہ بحث چھڑ گئی  کہ آیا ان ٹیموں کو آئندہ عالمی کپ مقابلوں کا حصہ بنایا جائے یا نہیں۔ بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا میں جاری عالمی کپ کے ابتدائی تمام میچز مکمل طور پریکطرفہ ثابت ہوئے اور ان میچز کے نتائج نے کمزور ٹیموں کے اخراج کی راہ ہموار کی اور آئی سی سی نے فیصلہ کیا کہ 2015ء کے عالمی کپ میں محض 10 ٹیمیں حصہ لیں گی۔ اس صورتحال میں عالمی کپ کے لیے فیورٹ انگلستان کا سامنا نیدرلینڈز کی ٹیم سے ہوا۔

نیدرلینڈز جو ایسوسی ایٹ رکن ممالک میں سب سے بہتر حالیہ ریکارڈ رکھتا ہے اور ٹی ٹوئنٹی عالمی کپ 2009ء کے افتتاحی میچ میں انگلستان کو شکست بھی دے چکا ہے، نے آئی سی سی کے تمام ایسوسی ایٹ رکن ممالک کی عدم شرکت کا جواب دینے کی ذمہ داری اٹھائی اور انگلستان کو ایسا جھٹکا پہنچایا جو جاری عالمی کپ میں اس کی مہم کو سخت خطرات سے دوچار کر سکتا ہے۔

293 رنز کے بڑے ہدف کےتعاقب میں انگلستان کے بلے بازوں نے ذمہ دارانہ کھیل کا مظاہرہ کیا اور وہ اپنے باؤلرز اور فیلڈرز کی ناقص کارکردگی کا داغ دھونے میں کامیاب ہوئے تاہم ڈچ باؤلرز نے انہیں مکمل طور پر کھل کرکھیلنے کا موقع نہیں دیا اور میچ کو 49 ویں اوور تک لائے تاہم روی بوپارا کی شعلہ فشانی نے میچ کو انگلستان کے حق میں پلٹ دیا۔ اس سے قبل کپتان اینڈریو اسٹراس کی 88 اور جوناتھن ٹراٹ کی 62 رنز کی ذمہ دارنہ اننگ نے انگلستان کی فتح کی راہ ہموار کی۔

آخری 10 اوورز میں جب انگلستان کو جیتنے کے لیے 69 رنز درکار تھے ٹراٹ ڈچ وکٹ کیپر ویزلے باریسی کی برق رفتاری کے باعث اسٹمپڈ ہو گئے۔ پہلی اننگ میں بلےبازی میں اپنے جوہر دکھانے والے ڈچ آل راؤنڈر ڈسکاٹے نے اپنے اس اسپیل کی آخری گیند پر این بیل کو پویلین کی راہ دکھائی تو گویا میچ میں ایک مرتبہ پھر جان پڑ گئی۔ اب تمام تر ذمہ داری آؤٹ آف فارم پال کالنگ ووڈ کے کاندھوں پر تھی جنہوں نے اسے بخوبی نبھایا اور 23 گیندوں پر 3 چوکوں کی مدد سے قیمتی 30 رنز بنائے۔ آخری دو اوورز میں جب 13 رنز درکار تھے تو روی بوپارا نے میچ کو آخری اوور تک نہ لے جانے کا تہیہ کیا ااور دو چوکے اور ایک چھکا لگا کر انگلستان کو فتح سے ہمکنار کر دیا۔

گو کہ نتیجہ انگلستان کے حق میں رہا لیکن وہ اپنی کارکردگی سے ہر گز خوش نہیں ہوں گے۔ خصوصا باؤلنگ اور فیلڈنگ میں انہوں سے جس ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے وہ انہیں عالمی کپ کے اگلے میچز میں شدید مشکلات سے دوچار کر سکتی ہے۔

ٹین ڈسکاٹے کو شاندار سنچری اننگ اور جوناتھن ٹراٹ اور این بیل کی اہم ترین وکٹیں حاصل کرنے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

قبل ازیں نیدرلینڈز نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا اور ٹین ڈسکاٹے کی شاندار سنچری کی بدولت اسکور بورڈ پر 292 رنز کا اچھا مجموعہ اکٹھا کرنے میں کامیاب ہوئے۔ ٹام کوپر نے 73 گیندوں پر 47 رنز بنا کر ٹین ڈسکاٹے کا بھرپور ساتھ دیا۔ دونوں کھلاڑیوں نے تیسری وکٹ پر 78 رنز کا اضافہ کیا۔ ٹین ڈسکاٹے نے پانچویں وکٹ پر ٹام ڈی گروتھ کے ساتھ مل کر 64 رنز کا اضافہ کیا۔ آخری اوورز میں ڈچ ٹیم نے بہت جارحانہ کھیل کا مظاہرہ کیا جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آخری پاور پلے میں ٹین ڈسکاٹے اور کپتان پیٹر بورن نے 60 رنز لوٹے اور5 وکٹیں گرنے کے باوجود آخری 7 اوورز میں 80 رنز بنانے میں کامیاب ہوئے ۔ ان میں اہم کردار ٹین ڈسکاٹے کا تھا جنہوں نے اپنی آخری 26 گیندوں پر 52 رنز بنائے۔ مجموعی طور پر ان کی اننگ میں 3 چھکے اور 9 چوکے شامل تھے۔

انگلش باؤلرز آخری اوورز میں ڈچ بلے بازوں کے سامنے بالکل بے بس دکھائی دے رہے تھے۔ ڈچ ٹیم نے نہ صرف اچھی بیٹنگ کی بلکہ پوری حاضر دماغی کے ساتھ بھی کھیلی جبکہ انگلستان ایک ناسمجھ اور ناتجربہ کار ٹیم کی صورت میں کھیلا۔ نیدرلینڈز کی حاضر دماغی کی ایک مثال پیٹر بورن کا آؤٹ ہونا تھا، اور امپائر کے آؤٹ دیے جانے کے بعد بورن نے امپائر کو اشارہ کیا کہ وہ دائرے کے اندر فیلڈرز کو دیکھیں ان کی تعداد تین ہے اور قانون کے تحت دائرے کے اندر چار فیلڈرز ہونے چاہئیں۔ اس توجہ پر امپائر نے اس گیند کو نوبال قرار دے کر پیٹر بورن کو واپس میدان میں بلا لیا۔ اس سے اندازہ ہوجاتا ہےکہ انگلش کھلاڑیوں کے ہاتھ پیر پھول چکے تھے۔ فیلڈنگ میں ناقص کارکردگی سونے پہ سہاگہ تھی جس میں انگلش فیلڈرز نے متعدد کیچز بھی چھوڑے۔ ٹین ڈسکاٹے کو 47 کے انفرادی اسکور پر جیمز اینڈرسن اور کیون پیٹرسن نے اک نئی زندگی عطا کی جن کا ایک ہوا میں کھیلا گیا شاٹ دونوں فیلڈرز کے درمیان گرا اور ان میں سے کوئی بھی خود ذمہ داری لے کر گیند کی جانب نہیں بڑھا۔ نیدرلینڈز نے مقررہ 50اوورز میں 292 رنز بنائے جو آئی سی سی کے بھی مکمل رکن ملک کےخلاف اس کا سب سے بڑا اسکور ہے۔ اس سے قبل بھی ان کا سب سے زیادہ اسکور انگلستان کے خلاف ہی تھا جو انہوں نے 15 سال قبل 1996ء کے عالمی کپ میں 230 رنز کے ساتھ بنایا تھا۔

اب انگلستان کا سامنا 27 فروری کو بنگلور کے چناسوامی اسٹیڈیم میں ٹورنامنٹ کی سب سے فیورٹ ٹیم بھارت سے ہوگا لیکن انہوں نے جس کارکردگی کا مظاہرہ آج کیا ہے، اس کارکردگی سے وہ بھارت کو شکست نہیں دے سکتے۔ نیدرلینڈز کا اگلا میچ 28 فروری کو ویسٹ انڈیز کے خلاف ہوگا۔ اگر دہلی کے فیروزشاہ کوٹلہ اسٹیڈیم میں نیدرلینڈز اسی کارکردگی کو دہرانے میں کامیاب ہو جاتا ہےتو ویسٹ انڈیز کی کمزور ٹیم کے خلاف اس کی فتح کے امکانات بہت زیادہ ہوں گے۔

Facebook Comments