بارش نے سنسنی خیز معرکے پر پانی پھیر دیا، جنوبی افریقہ نیوزی لینڈ پہلا ٹیسٹ بے نتیجہ

بارش نے جنوبی افریقہ کی فتح اور عالمی نمبر ایک پوزیشن حاصل کرنے کی مہم کے پہلے معرکے کو سر کرنے کی تمام تر امیدوں پر پانی پھیر دیا اور میچ کے آخری روز جب جنوبی افریقہ کو 8 وکٹیں اور نیوزی لینڈ کو 264 رنز درکار تھے، ڈنیڈن میں 14 گھنٹے طویل بارش نے آخری روز کے کھیل کا خاتمہ کر ڈالا۔

کیریئر کی 24 ویں سنچری بنانے والے جنوبی افریقی کپتان گریم اسمتھ کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا (تصویر: Getty Images)

کیریئر کی 24 ویں سنچری بنانے والے جنوبی افریقی کپتان گریم اسمتھ کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا (تصویر: Getty Images)

یہ ایک دلچسپ مرحلے میں داخل ہونے والے ٹیسٹ کا بہت ہی افسوسناک انجام تھا، جہاں نیوزی لینڈ نے ٹاس جیت کر جنوبی افریقہ کو بلے بازی کی دعوت دی۔ جو کرس مارٹن اور دیگر میزبان باؤلرز کی تباہ کن گیند بازی کے سامنے زیادہ بڑا مجموعہ اکٹھا نہ کر سکا۔ 86 رنز کے مجموعے پر جنوبی افریقہ کی صرف ایک وکٹ گری تھی، لیکن پہلے روز چائے کے وقفے کے بعد کرس مارٹن نے یکے بعد دیگرے گرتم اسمتھ، ژاک کیلس اور ابراہم ڈی ولیئرز کو ٹھکانے لگا کر میچ میں سنسنی پھیلا دی۔ ہاشم آملہ نے سب سے زیادہ 62 رنز بنائے جبکہ گریم اسمتھ 53 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

پہلے روز کے کھیل کے اختتا م پر جنوبی افریقہ 191 رنز پر اپنی 7 وکٹیں گنوا چکا تھا اور وکٹ پر صرف ژاک روڈلف کی صورت میں ایک بلے باز موجود تھا جن کی نصف سنچری کی بدولت جنوبی افریقہ نے دوسرے روز اسکورکو 238 رنزتک پہنچایا اور اس کی اننگز تمام ہوئی۔

کرس مارٹن نے 4 کھلاڑیوں کو اپنا شکار بنایا جبکہ دو وکٹیں ڈوگ بریسویل کو ملیں۔ ایک، ایک وکٹ ٹرینٹ بولٹ اور ڈینیل ویٹوری نے حاصل کی۔

یونیورسٹی اوول، ڈنیڈن میں کھیل کے دوسرے روز برتری حاصل کرنے کے لیے دونوں ٹیموں کی جانب سے زبردست جدوجہد کی گئی اور بالآخر دن کے اختتام پر میچ تقریباً برابری کی بنیاد پر آ گیا گو کہ نیوزی لینڈ لوئر مڈل آرڈر کی اچھی بلے بازی کی بدولت جنوبی افریقہ کے اسکور پر برتری حاصل کرنے میں کامیاب ہوا اور دوسرے روز کے اختتام پر 9 وکٹوں پر 243 رنز بنا لیے۔ 135 پر 5 وکٹیں گنوانے کے باوجود دنیا کے بہترین باؤلنگ اٹیک کے سامنے برتری حاصل کرنا نیوزی لینڈ کے لیے بہت اچھا شگون تھا۔ برینڈن میک کولم نے 48، ڈینیل ویٹوری نے 46 اور کپتان روس ٹیلر نے 44 رنز بنائے جبکہ اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے وکٹ کیپر بیٹسمین کروگر وان وائیک نے 36 اور ٹرینٹ بولٹ نے 33 رنز کی کارآمد اننگز کھیلیں۔ تیسرے روز نیوزی لینڈ اسکور میں مزید 30 رنز کا اضافہ کر کے اسکور کو 273 رنز تک پہنچانے اور 35 رنز کی برتری حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔

جنوبی افریقہ کی جانب سے ویرنن فلینڈر نے سب سے زیادہ 4 وکٹیں حاصل کیں جبکہ دو، دو وکٹیں ڈیل اسٹین اور مورنے مورکل کو ملیں۔ عمران طاہر اور ژاک کیلس نے ایک، ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔
اب جنوبی افریقہ کے بلے بازوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی تھی کہ وہ دوسری اننگز میں اسکور بورڈ پر ایک بڑا مجموعہ اکٹھا کر کے جنوبی افریقہ کو میچ پر حاوی کریں اور دوسری اننگز میں 47 رنز پر دو وکٹیں گنوا بیٹھنے کے بعد پہلے کپتان گریم اسمتھ اور تجربہ کار ژاک کیلس اور بعد ازاں ژاک روڈلف کی سنچریوں نے جنوبی افریقہ کو بالادست پوزیشن پر پہنچا دیا۔ تیسری وکٹ پر دونوں کھلاڑیوں کے درمیان ہونے والی 200 رنز کی شراکت نے نیوزی لینڈ کی توقعات کو کافی ٹھیس پہنچائی اور جنوبی افریقہ کو بالادست پوزیشن پر پہنچا دیا۔ بدقسمتی سے اسمتھ تیسرے روز کے اختتامی لمحات میں ڈوگ بریسویل کی گیند پر بولڈ ہو گئے۔ گریم اسمتھ نے 234 گیندوں پر 115 رنز بنائے اور ڈوگ بریسویل کا تیسرا شکار بنے۔

چوتھے روز 107 رنز کے انفرادی اسکور کے ساتھ میدان میں اترنے والے ژاک کیلس صرف 6 رنز ہی بڑھا پائے اور آؤٹ ہو گئے۔ کیلس 263 گیندوں پر 16 چوکوں کی مدد سے 113 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے۔ 283 رنز پر چار کھلاڑی آؤٹ ہو جانے کے بعد بھی جنوبی افریقہ نے اسکور میں مزید 152 رنز کا اضافہ کیا اور اس دوران صرف ایک وکٹ گنوائی اور بالآخر 435 رنز پر پہنچنے کے بعد اننگز ڈکلیئر کرنے کا اعلان کیا اور نیوزی لینڈ کو فتح کے لیے 401 رنز کا ہمالیہ جیسا ہدف دیا۔ ژاک روڈلف 105 رنز اور مارک باؤچر 34 رنز کے ساتھ ناقابل شکست رہے۔

ڈوگ بریسویل کی تین وکٹوں کے علاوہ ایک، ایک وکٹ ٹرینٹ بولٹ اور کین ولیم سن کو ملی۔

چوتھے روز چائے کے وقفے سے قبل نیوزی لینڈ نے 401 رنز کے بڑے ہدف کے تعاقب کا آغاز کیا تو اسے ابتدا ہی میں مارٹن گپٹل کی ایک اور ناکامی کا نقصان سہنا پڑا اور 55 رنز پر پہنچتے ہی دوسرے اوپنر راب نکول بھی پویلین لوٹ گئے۔ نکول ، جنہوں نے اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلا،دونوں اننگز میں کوئی قابل ذکر کارکردگی ظاہر نہ کر سکے۔

اس موقع پر برینڈن میک کولم اور روز ٹیلر نے 82 رنز کی ناقابل شکست شراکت داری قائم کی اور چوتھے روز کے اختتام تک نیوزی لینڈ کو مزید کسی نقصان سے بچائے رکھا۔ جب چوتھے دن کا کھیل ختم ہوا تو برینڈل میک کولم 58 اور روز ٹیلر 48 رنز پر کھیل رہے تھے لیکن میچ اعصاب شکن مرحلے میں داخل ہو چکا تھا لیکن بارش نے سارا مزاکرکرا کر دیا اور میچ بغیر کسی نتیجے تک پہنچے ختم ہو گیا۔

جنوبی افریقہ کے کپتان گریم اسمتھ دونوں اننگز میں اچھی بلے بازی پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

اس نتیجے کے ساتھ ہی اس امر کی تصدیق ہو گئی کہ یکم اپریل تک انگلستان ہی عالمی نمبر ایک ہوگا اور یوں بین الاقوامی کرکٹ کونسل کی جانب سے ایک لاکھ 75 ہزار ڈالرز کی انعامی رقم کا حقدار بھی۔ کیونکہ جنوبی افریقہ کو انگلستان کو پچھاڑنے کے لیے نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز 3-0 سے جیتنے کی ضرورت تھی جو اب پہلا میچ ڈرا ہونے کے بعد ممکن نہیں ہے۔

اب دونوں ٹیمیں 15 مارچ سے ہملٹن میں دوسرے ٹیسٹ میں مدمقابل ہوں گی۔

Facebook Comments