محسن کے بیان پر بورڈ خفا، باہر کا راستہ دکھانے کا فیصلہ

پاکستان کرکٹ بورڈ سابق کوچ و چیف سلیکٹر محسن خان کی ذرائع ابلاغ سے حالیہ گفتگو پر خوش نہیں دکھائی دیتا، اور اب اپنی تمام پیشکشوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے انہیں مستقبل کے لیے کوئی کام نہیں سوپنا چاہتا یعنی کہ محسن کو ”خدا حافظ“ کہنے کا مرحلہ آن پہنچا ہے۔

پی سی بی نے محسن خان سے چھٹکارہ پانے کا فیصلہ کر لیا ہے: ذرائع (تصویر: Getty Images)

پی سی بی نے محسن خان سے چھٹکارہ پانے کا فیصلہ کر لیا ہے: ذرائع (تصویر: Getty Images)

ذرائع کے مطابق پی سی بی عبوری کوچ کے عہدے سے فارغ ہونے کے بعد محسن کسی اگلے مشن پر بھیجنا چاہتا تھا، لیکن کرک نامہ سمیت متعدد ذرائع ابلاغ سے ان کی حالیہ گفتگو میں انگلستان کے خلاف محدود اوورز کی سیریز میں پاکستان کی شکست پر تبصرے نے انہیں ایک ناقابل قبول شخصیت بنا دیا ہے اور اس لیے ان سے چھٹکارہ پانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ پی سی بی نے کوچ کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد محسن خان کو تین آپشنز دیے تھے کہ یا تو وہ نیشنل کرکٹ اکیڈمی، لاہور میں کسی بھی عہدے پر براجمان ہوجائیں یا کراچی اکیڈمی کے سربراہ بن جائیں حتیٰ کہ انہیں چیف سلیکٹر کا سابق عہدہ سنبھالنے کی بھی پیشکش کی گئی، جس پر محسن نے انکار کر دیا کہ وہ اپنی پرانی ذمہ داریاں دوبارہ نہیں نبھانا چاہتے، تاہم کراچی و لاہور اکیڈمیز میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کے بارے میں سوچ سکتے ہیں۔

لیکن گزشتہ روز کرک نامہ سےگفتگو میں پاکستان کی انگلستان کے ہاتھوں شکست پرمتنازع بیان دینے کےبعد پاکستان کرکٹ کے کرتا دھرتا افراد کی پیشانیاں شکن آلود ہو چکی ہیں، جس میں محسن نے کہا تھا کہ اللہ ہی جانتا ہے کہ عرب امارات میں کیا ہوا، پاکستان سیریز ضرور ہارا لیکن انگلستان جیتا نہیں تھا۔ اس بیان پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے اعلیٰ عہدیداران سخت غصے میں ہیں۔ ذرائع کا کہنا کہ کرکٹ بورڈ اس بیان سے بالکل خوش نہیں ہے، لیکن اس تازہ بیان کے علاوہ وہ بورڈ اور کرکٹ حلقوں میں محسن کی جانب سے کی گئی باتوں سے بھی متفق نہیں ہے۔

واضح رہے کہ محسن خان پاکستان کرکٹ بورڈ میں کئی عہدوں پر کام کر چکے ہیں، اور کبھی کسی عہدے کو قبول کرنے سے انکار نہیں کیا لیکن یہ اُن کے کیریئر کا پہلا موقع تھا کہ وہ کوچ کی حیثیت سے ہٹائے جانے پر کافی خفا ہوئے۔

Facebook Comments