نکلا جو آفتاب تو وہ بھی گہن میں تھا

یوں تو کرکٹ کی تاریخ میں بے شمار ایسے ریکارڈز ہیں جو بجائے خود ایک منفرد کارہائے نمایاں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان ریکارڈز کا موازنہ کسی دوسرے ریکارڈز سے کر کے کسی کو کسی پر فوقیت دینا ایک مشکل ترین بلکہ لاحاصل کوشش ہے۔ ذاتی طور پر میں سچن کی 100 ویں بین الاقوامی سنچری کو انہیں ریکارڈز کے زمرے میں رکھتا ہوں۔ یہ ریکارڈ منفرد صرف اس معنی میں ہے کہ یہ کارنامہ آج تک کسی نے بھی انجام نہیں دیا اور نہ مستقبل قریب میں کسی بلے باز کا کرکٹ کی اس معراج تک پہنچنا ممکن نظر آتا ہے۔ سچن کی سویں سنچری کا انتظار وہ صبر آزما دور تھا جو دنیائے کرکٹ کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ میرے خیال میں کسی مخصوص ریکارڈ کی حصولیابی کا اتنا شور ماضی میں کبھی نہیں مچا ہوگا۔ سچن نے اپنی بین الاقوامی میچوں کی 99 ویں سنچری گزشتہ عالمی کپ میں جنوبی افریقہ کے خلاف مکمل کی تھی جبکہ 98 ویں سنچری اس میچ سے محض 15 دنوں قبل انگلستان کے خلا ف اسکور کی گئی تھی۔ اس طرح سچن کو اس منفرد ریکارڈ کو انجام دینے کا موقع عالمی کپ کے میچوں میں ہی مل چکا تھا اور یہیں سے ان کی 100 ویں سنچری کے شور کا آغاز ہوا۔ جو ہر میچ کے ساتھ شدید سے شدید تر ہوتا چلا گیا۔

سویں سنچری کے انتظار میں ہونے والی تمام تر ہنگامہ خیزی کا خمیازہ اگر کسی کو بھگتنا پڑا تو وہ خود سچن ہی تھے (تصویر: AFP)

سویں سنچری کے انتظار میں ہونے والی تمام تر ہنگامہ خیزی کا خمیازہ اگر کسی کو بھگتنا پڑا تو وہ خود سچن ہی تھے (تصویر: AFP)

عالمی کپ کے سیمی فائنل میں جب بھارت کا مقابلہ پاکستان کے ساتھ پیش آ گیا تو شائقین کرکٹ کے ولولے بلندیوں پر پرواز کرنے لگے کیونکہ ان کے ہر دل عزیز بلے باز سچن تنڈولکر کی زندگی کا یہ سنہرا ترین لمحہ تھا۔ وہ اس تاریخی میچ میں اپنے روایتی حریف کے خلاف 100 ویں سنچری اسکور کر کے اسے یادگار ترین میچ بنا سکتے تھے، لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ پھر اس سے بھی حسین لمحہ عالمی کپ کا فائنل تھا لیکن یہاں بھی سچن کو ناکامی ہاتھ لگی۔

اس طرح سچن کی 100 ویں سنچری کا جو سفر بنگلہ دیش میں ہونے والے عالمی کپ سے شروع ہوا وہ انگلستان،ویسٹ انڈیز اور آسٹریلیا ہوتے ہوئے دوبارہ سرزمینِ بنگال پر آن پہنچا۔ یہ شائقین کرکٹ کے لئے صبر آزما انتظار تھا۔ اس درمیان ذرائع ابلاغ نے سچن کی 100 ویں سنچری کو لے کر وہ ہنگامہ کھڑا کیا کہ گویا بھارتی ٹیم اپنا ہر میچ سچن کے اسی ریکارڈ کی تکمیل کے لئے کھیلنے میدان میں اتر رہی ہو۔ لوگوں کو بھارتی ٹیم کی شکست سے زیادہ سچن کی ناکامی کا غم ستانے لگا۔

اس تمام تر ہنگامہ خیزی کا خمیازہ اگر کسی کو بھگتنا پڑا تو وہ خود سچن ہی تھے۔ ان حالات میں ذہنی دباؤ اور انتشار کا شکار ہونا فطری امر ہے۔ 100 ویں سنچری کے شور نے سچن کو حواس باختہ کر دیا۔ یہ پورا دور اُن کے لئے ایک سخت آزمائش کا دور تھا۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ سنچری کے شور وغل میں خود سچن بھی شعوری یا غیر شعوری طور پر ہر میچ میں محض سنچری اسکور کرنے کے ارادے سے قدم تو رکھ رہے ہیں لیکن اس چکر میں وہ اپنا قدرتی کھیل بھی پیش کرنے سے قاصر ہوتے جا رہے ہیں۔

بالاخر یہ صبر آزما انتظار 11 ٹیسٹ مقابلوں کی 22 اننگز اور 12 ایک روزہ بین الاقوامی میچز سے ہوتا ہوا ایک کمزور سمجھی جانے والی ٹیم بنگلہ دیش کے خلاف معرکے تک آپہنچا۔ دریں اثناء 100 ویں سنچری کے سماعت شکن ہنگامے نے چند سنجیدہ ناقدین کو بھی یہ لکھنے پر مجبور کر دیا کہ اب کرکٹ کو محض ایک شخص کے ریکارڈ کی خاطر پامال و رسوا کیا جا رہا ہے۔

گزشتہ دنوں مشہور ویب سائٹ کرک انفو پر معروف تبصرہ نگار ہرش بھوگلے نے اپنی تحریر "Damn the 100th" میں لکھا ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کرکٹ کو اغوا کر لیا گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے (سچن کی) 100 ویں سنچری پر لعنت کرنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ یہ بے شک ایک عظیم کارنامہ ہے اور اس کو حاصل کرنا کسی کے لئے بھی ناممکن ہے۔ لیکن ہم کھیل کا لطف محض شخصی کارنامے کے لئے نہیں اٹھا تے بلکہ بہترین کھلاڑیوں کے عمدہ مظاہروں کے ذریعہ ہم کھل سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

لیکن آخر کار وہ لمحہ آ پہنچا جس کا انتظار بڑی شدت سے کیا جا رہا تھا۔ سچن نے ڈرتے، ڈگمگاتے کسی طرح بنگلہ دیش کے خلا ف سنچری اسکور تو کر ڈالی لیکن اس عظیم کارنامے کو میزبان کھلاڑیوں نے بے رنگ کر دیا۔ بنگلہ دیش کے خلاف ملنے والی ذلت آمیز، حیران کن اور ناقابل فراموش شکست نے اس “اندھ وشواس“ کو ایک دفعہ پھر تقویت بخش دی کہ سچن کا ریکارڈ اور ان کی سنچری ٹیم انڈیا کے لئے منحوس ہوتی ہے اور ایک دفعہ پھر سچن اپنے شائقین کو اس پس و پیش میں مبتلا کر گئے کہ آیا وہ ان کے کارنامے پر جشن منائیں یا قومی ٹیم کی شکست پر ماتم کریں۔

Article Tags

Facebook Comments