سلمان اور مظہر نے اسپاٹ فکسنگ معاملے میں پھنسایا، محمد عامر کا پہلا انٹرویو

کرکٹ کی تاریخ کے سب سے بڑے تنازع میں شاندار کیریئر کو گنوانے والے محمد عامر نے کہا ہے کہ انہیں سلمان بٹ اور مظہر مجید نے اس دلدل میں گھسیٹا اور انہی کی وجہ سے مجھے وہ دن دیکھنا پڑا کہ گیند کی جگہ میرے ہاتھوں میں ہتھکڑی تھی۔ اسپاٹ فکسنگ مقدمے میں کرکٹ کھیلنے پر پانچ سال کی پابندی اور چھ ماہ کی سزا بھگتنے والے نوجوان کھلاڑی نے اپنے پہلے انٹرویو میں دنیا بھر کے کرکٹ شائقین سے ایک مرتبہ پھر اپنی غلطیوں پر معافی طلب کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ درحقیقت میں نے اپنے لیے خود مسائل کھڑے کیے۔ آئی سی سی کی تحقیقات کے دوران اقبال جرم نہ کرنا میری بہت بڑی غلطی تھی لیکن درحقیقت میں اس وقت خود میں اتنی جرات نہیں پاتا تھا۔

آئی سی سی کی تحقیقات کے دوران اقبال جرم نہ کرنا میری بہت بڑی غلطی تھی (تصویر: AFP)

آئی سی سی کی تحقیقات کے دوران اقبال جرم نہ کرنا میری بہت بڑی غلطی تھی (تصویر: AFP)

محمد عامر کو گزشتہ سال بدعنوانی و دھوکہ دہی کے مقدمے میں برطانیہ کی عدالت نے 6 ماہ قید کی سزا سنائی تھی۔ محمد عامر اور ان کے دو ساتھی کھلاڑیوں محمد آصف اور سلمان بٹ پر 2010ء میں انگلستان کے خلاف ایک ٹیسٹ میچ میں جان بوجھ کو نو بالز کرانے اور اس کے عوض سٹے بازوں سے رقوم وصول کرنے کا الزام تھا۔ یہ معاملہ معروف مصالحہ اخبار ’نیوز آف دی ورلڈ‘ نے کھولا تھا، جو بعد ازاں خود ایک تنازع کا شکار ہو کر بند ہو گیا۔

تینوں کھلاڑیوں کو بین الاقوامی کرکٹ کونسل سے کم ازکم 5،5 سال کی سزائیں پانے کے بعد برطانیہ میں ایک مقدمہ بھگتنا پڑا جہاں محمد عامر نے سماعت سے قبل ہی اعتراف جرم کر لیا جبکہ باقی دونوں کھلاڑیوں نے مقدمہ لڑنے کا فیصلہ کیا جو وہ بعد ازاں ہار گئے۔ بالآخر محمد عامر کو 6 ماہ، محمد آصف کو ایک سال اور سلمان بٹ کو ڈھائی سال قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ عدالت نے سٹے باز مظہر مجید کو دو سال آٹھ مہینے قید کی سزا دی۔ عامر اپنی نصف سزا کی تکمیل کے بعد گزشتہ ماہ رہا ہوئے ہیں۔

معروف برطانوی چینل ’اسکائی اسپورٹس‘ کو دیے گئے ایک گھنٹہ طویل انٹرویو دراصل محمد عامر کا وہ موقف تھا، جو وہ اعتراف جرم کرنے کے باعث عدالت میں پیش نہیں کر پائے تھے۔ عدالت میں عامر کی جانب سے صرف ایک تحریری بیان پیش کیا گیا تھا جس میں انہوں نے تاخیر سے اعتراف جرم کرنے اور شائقین کرکٹ کو ذہنی طور پر پریشانی معذرت خواہی طلب کی تھی۔

19 سالہ محمد عامر نے کہا کہ یہ میری زندگی کا مشکل ترین وقت ہے اور اس دوران مجھے میرے گھر والے اور خیر خواہ مدد دے رہے ہیں جو ایک خوش آئند بات ہے۔ قید میں گزارے گئے ایام کے حوالے سے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ جیل ہر گز ایک اچھی جگہ نہیں ہوتی، کوئی بھی اس پر فخر محسوس نہیں کرتا کہ وہ جیل کاٹ کر آیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہاں کے لوگوں نے میرے ساتھ بہت اچھا سلوک کیا۔

انہوں نے بتایا کہ سلمان بٹ سے جب میری پہلی ملاقات ہوئی میں نے ان کا بہت اچھا تاثر لیا کیونکہ عموماً جونیئرز کی بہت زیادہ مدد نہیں کرتے لیکن سلمان بٹ کا رویہ نئے آنے والے کھلاڑیوں کے لیے بہت اچھا تھا۔ وہ ایک پڑھا لکھا اور مہذب شخص تھا اور باقی تمام سینئر کھلاڑیوں سے مختلف تھا اور کیونکہ ہم دونوں نیشنل بینک کی جانب سے کھیلتے تھے اس لیے ان سے میرا تعلق مزید بڑھ گیا اور میں انہیں اپنے بڑے بھائی کی طرح سمجھتا تھا۔ وہ بھی مجھے ’بھولا‘ کہا کرتے تھے۔ سلمان بٹ ہی نے میری مظہر مجید سے ملاقات کروائی اور پہلی ملاقات میں اس کے بارے میں بھی اچھا تاثر پیدا ہوا کیونکہ وہ بھی ایک پڑھا لکھا، مہذب اور ہنس مکھ طبیعت کا بندہ تھا اور اس کے اہل خانہ بھی بہت اچھے اور صوم و صلوٰۃ کے پابند بھی۔

لارڈز کے تاریخی ٹیسٹ سے قبل نو بال کے حوالے سے عامر نے بتایا کہ سلمان نے مجھ سے دو مرتبہ اسپاٹ فکسنگ کے حوالے سے بات کی پہلی بار تو میں نے مذاق سمجھا اور نظر انداز کر گیا لیکن دوسری مرتبہ جب اس نے کہا تو میں نے اسے کہا کہ یہ حرام کام ہے، خود بھی اس کام کو چھوڑو اور میں ہر گز نہیں کروں گا۔

انٹرویو کے دوران اسپاٹ فکسنگ معاملے کا ایک نیا کردار ’علی‘ بھی سامنے آیا جس کے بارے میں محمد عامر کا کہنا تھا کہ وہ سلمان بٹ کا دوست تھا جس سے میری پہلی ملاقات دبئی میں ہوئی تھی اور اس نے خود کو سلمان بٹ کے دوست کی حیثیت سے متعارف کروایا۔ عامر کا کہنا تھا کہ علی نے مجھ سے انگلینڈ میں بھی رابطہ کیا اور پھر مجھ سے موبائل نمبر لے کر میرے بینک کھاتے کی تفصیلات لیں۔ میں نے حیرانگی سے پوچھا کہ آخر بینک اکاؤنٹ کیوں چاہیے؟ اس نے کہا کہ میں بعد میں بتاؤں گا۔ لیکن اس کی باتوں نے مجھے پریشان ضرور کر دیا تھا کہ یہ بندہ چاہتا کیا ہے؟۔ میں نے اوول ٹیسٹ میں سلمان بٹ کو علی کے بارے میں بتایا تو وہ ہنسنے لگا اور کہا کہ میری علی سے کوئی بات نہیں ہوئی ہے۔ فون ریکارڈز کے مطابق اس عرصے میں علی نے عامر نے 40 مرتبہ رابطہ کرنے کی کوشش کی اور صرف دو مرتبہ ہی اسے عامر کی جانب سے جواب ملا۔ عامر نے کہا کہ اس نے کبھی علی سے کوئی پیسہ نہیں لیا۔

اوول ٹیسٹ میں نو بال کے بارے میں بھی عامر نے اپنی مکمل لاعلمی کا اظہار کیا اور کہا کہ اس میچ میں مجھے بہترین کھلاڑی کا اعزاز دیا گیا تھا، اور ہم نے 9 سال بعد انگلستان کے خلاف اسی کے میدان میں کوئی میچ جیتا تھا۔ لیکن اس ٹیسٹ کے بعد مجھ سے علی اور سلمان بٹ نے رابطہ کیا اور میں اتنا بے وقوف تھا کہ میں نے آئی سی سی کو نہیں بتایا۔

لارڈز ٹیسٹ سے پہلے کیا ہوا، اس بارے میں محمد عامر نے بتایا کہ 25 اگست کو ہوٹل میں مجھے مظہر کا فون آیا کہ اسے ایک ضروری بات کرنی ہے اور میں کار پارک میں آ جاؤں۔ میں تھوڑی دیر میں نیچے پہنچا، جہاں وہ اپنی گاڑی میں بیٹھا تھا اور میرے آتے ہی وہ پھٹ پڑا کہ تمہارا کیریئر داؤ پر لگ گیا ہے، تم پھنس گئے ہو، علی اور تمہاری فون کالز آئی سی سی نے ریکارڈ کر لی ہیں۔ میں نے فوراً کہا کہ میں نے تو کچھ نہیں کیا لیکن مظہر کا کہنا تھا کہ تم بری طرح پھنس گئے ہو لیکن میں نے اپنے ایک دوست کے ذریعے علی سے اس معاملے کو بند کروانے کا کہا ہے کہ اس معاملے میں عامر کا نام نہیں آنا چاہیے۔ اس دوران مظہر نے کہا کہ اس کے لیے تمہیں میرا ایک کام کرنا ہوگا کہ میرے لیے میچ میں دو نو بالز کرواؤ۔ حیرت سے سب سے پہلے میرے منہ سے ”کیا؟“ کا لفظ نکلا لیکن حقیقت یہ ہے کہ میں اتنا بے وقوف تھا کہ آئی سی سی کی رپورٹ کی دھمکی سن کر بھی دو نو بالز کروانے پر راضی ہو گیا۔ اس دوران سلمان بھی کار کی پچھلی نشست پر آ کر خاموشی سے بیٹھ گیا تھا اور ہم دونوں کی گفتگو سن رہا تھا۔

اس ملاقات کے بعد میں پریشان ہو گیا۔ پریکٹس کے دوران سلمان نے مجھے کہا کہ کرنا ہے کہ نہیں؟ میں نے کہا مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے لیکن سلمان کا کہنا تھا کہ کچھ نہیں ہوگا۔ جس دن میچ تھا اس دن میں اپنے آپ کو کوس رہا تھا۔ یہ بے ایمانی تھی، ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا لیکن دوسری طرف میں پریشان بھی تھا کہ اگر میں نہ کروں تو میرے لیے مسئلہ نہ کھڑا ہو جائے۔

انٹرویو کے دوران عامر نے اس بات کی قطعی تردید کی کہ انہوں نے مظہر سے پیسے لینے کے لیے نو بالز کروائی تھیں اور کہا کہ کار میں ہونے والی گفتگو کے دوران ایک مرتبہ پھر پیسے کا لفظ درمیان میں نہیں آیا حتیٰ کہ مظہر نے بھی یہ نہیں کہا کہ اس نے نو بالز پر کہیں کوئی شرط لگا رکھی ہے۔ بہرحال، لارڈز میں نو بال پھینکنے سے قبل میرے لیے بہت بھیانک صورتحال تھی، میں سخت پریشانی کے عالم میں تھی۔ لیکن نو بال کر بیٹھا اور دن کے اختتا م پر مظہر مجھ سے ملا، وہ اتنا خوش تھا جتنا میں وکٹ لے کر بھی نہیں ہوتا۔ اس کی حالت دیدنی تھی۔ اس نے مجھے 1500 پاؤنڈز ایک لفافے کی صورت میں دیے، میں نے کہہ دیا مجھے ضرورت نہیں ہے لیکن وہ زبردستی لفافہ دے کر چلا گیا۔ میں نے لفافہ اٹھا کر الماری میں پھینک دیا اور پھر ان کی طرف دیکھنا بھی گوارہ نہیں کیا۔ میں اس کی خوشی کا عالم دیکھ کر ہی سمجھ گیا کہ اس نے کہیں شرط لگائی ہوگی اور بڑی رقم جیتنے کے باعث اتنا خوش ہے۔

میچ کے دوسرے روز سلمان نے یاد دلایا کہ مجھے دوسری نو بال کروانی ہے اور میں نے پریشانی کے عالم میں وہ نو بال بھی کر ڈالی۔ لیکن اس نو بال پر وقار یونس کو شک پیدا ہو گیا۔ جیسے ہی میں ڈریسنگ روم میں واپس آیا اور جوتے اتارنے لگا کہ تو وقار نے پوچھا کہ یہ کیا کیا تم نے؟ لیکن اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا سلمان بٹ درمیان میں بول پڑا کہ میں نے اس کو کہا تھا کہ آکے جا کر باؤنسر مارو، اس میں نو بال ہو گیا ہوگا اور میں اس دوران چپ رہا۔

اگلے روز جب نیوز آف دی ورلڈ نے پورا قضیہ کھول دیا اور پولیس کے چھاپے پڑ چکے، رقوم برآمد ہو چکیں تو ڈریسنگ روم کا ماحول بہت برا ہو گیا، سب پریشان تھے۔ یہ پاکستان کرکٹ کی تاریخ کا بدترین تھا۔ افسوس اس بات کا تھا کہ ہمارے ساتھ پاکستان کا نام بھی بدنام ہو رہا تھا۔ میرے لیے یہ افسوس کا مقام تھا، ایک روز قبل میں6 وکٹیں حاصل کرنے پرآسمانوں پر اڑ رہا تھا اور دوسرے ہی روز اس حالت میں تھا کہ مجھے لگتا تھا میں مر چکا ہوں۔ میں نے پانچ روز تک کچھ نہیں کھایا، پانی بھی میرے حلق سے نہیں اتر رہا تھا۔ میچ ختم ہونے کے بعد جب مجھے مین آف دی سیریز کے ایوارڈ کے لیے بلایا گیا ت میں نے جانے سے انکار کر دیا لیکن ہمارے سیکورٹی آفیسر مجھے زبردستی لے گئے اور وہاں میری حالت دیدنی تھی، سب لوگ میری طرف دیکھ رہے تھے۔

عامر کا کہنا تھا کہ انہوں نے کوئی کام پیسوں کے لیے نہیں کیا بلکہ ایجنٹ اور کپتان کی جانب سے اسے پھنسایا گیا اور اس کے لیے انہوں نے کہانی گڑھی کہ میں سخت مصیبت میں ہوں اور اس سے مجھے نکالنے کے لیے مجھ سے نو بالز کروائیں اور میں بے وقوفوں کی طرح ان کے کہنے پر چلتا رہا اور جب حقیقت سامنے آئی تو یوں لگا جیسے آسمان مجھ پر گر پڑا ہو۔ اگر میں پیسے کے لیے کام کرتا تو مظہر اور سلمان مجھے صاف صاف کہتے کہ نو بال کرواؤ، اتنا پیسہ ملے گا لیکن نہیں، انہوں نے ایک کہانی گڑھی۔ انہوں نے کہا کہ کرکٹرز کو بہت پیسہ مل جاتا ہے، اتنا کہ وہ اپنی ہر خواہش پوری کر سکتے ہیں، اس لیے بے ایمانی کر کے پیسہ لینے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ نہ ہی میرے گھر اور اساتذہ کی تربیت ایسی ہے کہ میں بے ایمانی کروں، نہ میں ایسی حرکتیں کرتا ہوں اور نہ آئندہ کروں گا بلکہ مجھے اس کام میں پھنسایا گیا۔

بین الاقوامی کرکٹ کونسل کی جانب سے 5 سال کی پابندی عائد ہونے کے بعد محمد عامر کو انگلستان میں بدعنوانی و دھوکہ دہی کے مقدمے کا سامنا کرنا تھا۔ اس حوالے سے نوجوان باؤلر کا کہنا تھا کہ میں نے مقدمے سے قبل ہی فیصلہ کر لیا تھا کہ اب میں نے سچ بولنا ہے اور میں نے اعتراف جرم کر لیا جس کے ساتھ میرے دل سے بہت بڑا بوجھ اتر گیا اور میں نے پرسکون محسوس کیا۔

محمد عامر نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے بین الاقوامی کرکٹ کیریئر کا آغاز میری زندگی کا یادگار ترین لمحہ تھا لیکن برطانیہ کی عدالت میں سزا پانے کے بعد ہاتھوں میں ہتھکڑی لگنا میری زندگی کا بدترین دن تھا۔ اس روز میں نے روتے ہوئے خود سے کہا تھا کہ میں آج کے بعد کبھی کرکٹ نہیں کھیلوں گا اور نہ ہی کبھی گیند کو ہاتھ لگاؤں گا۔

حقیقت یہ ہے کہ میں نے غلط کام کیا اور اس کی سزا مجھے ملی اور میں نے یہ سبق سیکھا ہے کہ کوئی بھی شخص، چاہے وہ آپ کا کتنا ہی قریبی دوست کیوں نہ ہو، اگر وہ آپ کو غلط کام پر اکسائے تو ہو آپ کا دوست نہیں بلکہ سب سے بڑا دشمن ہے۔ حقیقی دوست وہ ہے جو غلط کام سے روکے۔

محمد عامر نے اس تاثر کو بالکل غلط قرار دیا کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم بحیثیت مجموعی کرپٹ ہے اور کہا ہے کہ جتنا عرصہ میں نے کرکٹ کھیلی ہے میں نے ہر کھلاڑی کو بہت اہل پایا ہے، ایک آدھ بندے کی وجہ سے پوری ٹیم کو قصور وار قرار نہیں دیا جا سکتا۔

محمد عامر نے کہا کہ دیر آید درست آید، لیکن اگر مجھے شروع میں عقل آ جاتی تو میں اس وقت پاکستانی ٹیم کی طرف سے کھیل رہا تھا۔

انٹرویو کے آخر میں انہوں نے ایک مرتبہ پھر شائقین کرکٹ سے معذرت طلب کی اور کہا کہ میں ان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے پر بہت معذرت خواہ ہوں۔ میری اس حرکت سے کرکٹ کی ساکھ کو بھی بہت نقصان پہنچا اس لیے میں صرف پاکستانی نہیں بلکہ دنیا بھر کے شائقین سے معافی کا خواستگار ہوں۔ انہوں نے نوجوان کھلاڑیوں کے لیے پیغام دیا کہ جب کوئی انہیں غلط کام کرنے پر آمادہ کرے تو وہ کسی بڑے کو بتائیں۔ انہوں نے کہا کہ فکسنگ میں پھنسانے والے لوگ گن پوائنٹ پر کام نہیں کرواتے بلکہ دوستیاں کرتے ہیں اور تحفے تحائف اور تعلقات کے ذریعے آپ سے کام نکلواتے ہیں۔

مکمل وڈیو انٹرویو

پہلا حصہ

دوسرا حصہ

Facebook Comments