بنگلہ دیش کا خوابناک سفر جاری، سری لنکا کو ہرا کر فائنل میں پہنچ گیا

ایشیا کپ میں بنگلہ دیش کا خوابناک سفر جاری ہے اور اس نے ٹورنامنٹ کے اہم ترین میچ میں سری لنکا کو شکست دے کر نہ صرف پہلی بار ٹورنامنٹ کے فائنل میں جگہ پا لی ہے بلکہ دفاعی چیمپئن بھارت کو بھی باہر کر دیا ہے۔ اب 22 مارچ کو ایشیا کپ کا فائنل پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان کھیلا جائے گا۔

سری لنکا جسے آسٹریلیا میں حالیہ شاندار کارکردگی کے باعث ٹورنامنٹ سے قبل ’ہاٹ فیورٹ‘ قرار دیا جا رہا تھا انتہائی مایوس کن کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے بعد ٹورنامنٹ سے باہر ہو گیا اور ایک میچ بھی جیتنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ یہ ٹورنامنٹ کی تاریخ کا پہلا موقع ہے کہ سری لنکا فائنل تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔

نوجوان ناصر حسین نے چھٹی وکٹ پر محمود اللہ کے ساتھ ناقابل شکست 77 رنز کی شراکت داری قائم کی (تصویر: AP)

نوجوان ناصر حسین نے چھٹی وکٹ پر محمود اللہ کے ساتھ ناقابل شکست 77 رنز کی شراکت داری قائم کی (تصویر: AP)

گو کہ بارش کے باعث 10 اوورز کا کھیل ضایع ہونے نے بنگلہ دیش کو ہدف تک پہنچنے کے سفر کو کچھ مشکل کر دیا لیکن تمیم اقبال اورشکیب الحسن کی شاندار بلے بازی اور آخر میں ناصر حسین اور محمود اللہ کی 77 رنز کی ناقابل شکست رفاقت نے بالاخر بنگلہ دیش کو منزل تک پہنچا دیا جس کے بعد میدان میں جشن کے زبردست مناظر دیکھنے میں آئے۔ صدر ظل الرحمٰن اور وزیر اعظم حسینہ واجد سمیت متعدد اعلیٰ شخصیات اس مقابلے کو دیکھنے کے لیے شیر بنگلہ نیشنل اسٹیڈیم میں موجود تھیں اور کھلاڑیوں نے ملک کی اعلیٰ ترین شخصیات کو بہترین کھیل کے ذریعے مایوس نہیں ہونے دیا۔

یہ 2009ء میں ایک سہ فریقی ٹورنامنٹ کے فائنل میں پہنچنے کے بعد دوسرا موقع ہے کہ بنگلہ دیش کسی ایک روزہ ٹورنامنٹ کے فائنل تک رسائی میں کامیاب ہوا ہو اور یہ 2007ء کے عالمی کپ کے بعد پہلا موقع ہے کہ ایک ہی ٹورنامنٹ میں بنگلہ دیش نے خود سے بہتر دو ٹیموں کو شکست دی ہے۔ مذکورہ ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش نے بھارت اور جنوبی افریقہ کو ہرایا تھا۔

تجربہ کار تمیم اور شکیب کے علاوہ ناصر حسین کی جانب سے میچ کو خاتمے تک پہنچانے میں اہم کردار نے ثابت کیا کہ نوجوان کھلاڑی اس سیزن کی بہت بڑی دریافت ہے۔ یکے بعد دیگرے دونوں سیٹ بلےبازوں کے جانے کے بعد میچ ایک لمحے کے لیے مقابلہ میزبان ٹیم کی گرفت سے نکلتا ہوا محسوس ہوا لیکن سینانائیکے کی عمدہ گیند بازی کے سامنے ناصر حسین نے بند باندھااور محمود اللہ نے ان کا بھرپور ساتھ دیا اور دونوں نے ذمہ دارانہ انداز سے سلسلے کو آگے بڑھایا اور 38 ویں اوور کی پہلی گیند پر چوکا لگاکر بنگلہ دیش منزل کو پہنچ گیا اور 5 وکٹوں کی تاریخی فتح سمیٹ کر فائنل میں جگہ بنا لی اور بھارت کے کھلاڑی جو اپنے تھیلے تیار کیے بیٹھے تھے، نے ہوائی اڈے کے سفر کا آغاز کیا۔

بہرحال، بنگلہ دیش نے اہم ترین معرکے میں ٹاس جیت کر پہلے گیند بازی کا فیصلہ کیا اور زخمی شفیع الاسلام کی جگہ ٹیم میں شامل کیے جانے والے نظم الحسین کی تباہ کن گیند بازی کی بدولت محض 32 رنزپر سری لنکا کے ابتدائی تین کھلاڑیوں کو ٹھکانے لگا دیا اور اپنے انتخاب کو درست ثابت کر دکھایا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے اگر ایک بھی بلے باز کریز پر ٹک جاتا تو بنگلہ دیش ایڑی چوٹی کا زور لگا کر بھی میچ نہ نکال پاتا۔ نظم الحسین نے سب سے پہلے اننگز کے چوتھے اوور میں کپتان مہیلا جے وردھنے کو بولڈ کیا، اس کے بعد 29 کے مجموعے پر کمار سنگاکارا کی باری آئی جبکہ 10 ویں اوور میں تلکارتنے دلشان بھی نظم کے ہاتھوں بولڈ ہو گئے اور میدان میں موجود تماشائی خوشی سے پھٹ پڑے۔

یوں بنگلہ دیش نے ابتدا ہی میں میچ پر جو کنٹرول حاصل کیا، وہ دوبارہ سری لنکا کی مکمل گرفت میں نہ آ سکا۔ گو کہ لاہیرو تھریمانے اور چمارا کاپوگیدرا نے چوتھی وکٹ پر 88 رنز جوڑ کے سری لنکا کو مکمل تباہی سے بچایااور پھر اوپل تھارنگا نے کسی حد تک قابل عزت مجموعے تک پہنچایا لیکن حقیقت یہی ہے کہ سری لنکا اسکور بورڈ پر بہت بڑا مجموعہ اکٹھا کرنے میں ناکام رہا اور 50 ویں اوور کی پانچویں گیند پر پوری ٹیم 232 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔ نظم الحسین کی تین اہم وکٹوں کے علاوہ دو، دو وکٹیں عبد الرزاق اور شکیب الحسن نے حاصل کیں جبکہ ایک، ایک وکٹ مشرفی مرتضیٰ اور شہادت حسین کو ملی۔

سری لنکن کے اختتام کے ساتھ ہی میچ کو بارش نے آ لیا اور 10 اوورز کا کھیل ضایع ہو گیا جس کا سراسر نقصان بنگلہ دیش کو پہنچا کیونکہ اسے 40 اوورز میں 212 رنز کا ہدف ملا جو 50 اوورز میں 233 رنز سے کہیں زیادہ مشکل تھا۔

لیکن شیر بنگلہ اسٹیڈیم کی وکٹ پر جہاں اس سے پہلے بنگلہ دیش بھارت کے خلاف 289 اور پھر بھارت پاکستان کے خلاف 330 رنز کا ہدف حاصل کر چکا تھا، وہاں سیٹ میزبان بلے بازوں کے لیے 40 اوورز میں 212 رنز کا ہدف ناقابل عبور نہیں تھا اور ابتداء ہی میں تین وکٹیں گنوا دینے کے باوجود اس کا سفر جاری رہا۔ دوسرے اوور میں ناظم الدین کے نووان کولاسیکرا کے ہاتھوں بولڈ ہونے کے بعد بنگلہ دیش کے مڈل آرڈر کا حقیقی امتحان شروع ہوا لیکن پانچ گیندوں پر مزید دو وکٹیں گرنے نے میزبان ٹیم کی پیشرفت کو ہلا کر رکھ دیا۔

اس موقع پر دو اِن فارم بلے بازوں تمیم اقبال اور شکیب الحسن اننگز کو مزید کسی بڑے نقصان سے بچایا اور چوتھی وکٹ پر 76 رنز کا اضافہ کر کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے اچھی بنیاد فراہم کی۔ 20 ویں اوور میں جب تین کھلاڑیوں کے نقصان پر بنگلہ دیش کا اسکور 116 رنز تھا اور اسے 100 سے کم رنز درکار تھے، وہ بہت اچھی پوزیشن میں پہنچ چکا تھا لیکن مستقل اچھی گیند بازی کرنے والے سینانائیکے نے تمیم اقبال کو 59 رنز کے انفرادی اسکور پر آؤٹ کر کے سری لنکا کی امیدوں کو دوبارہ روشن کیا۔ تمیم اقبال نے مسلسل تیسرے ایک روزہ میں نصف سنچری بنا کر طویل عرصے سے اپنے عدم انتخاب کو غلط ثابت کر دیا۔ بہرحال، بنگلہ دیش کے لیے سب سے مشکل مرحلہ ابھی باقی تھا کیونکہ سینانائیکے نے اگلے اوور میں شکیب الحسن کی صورت میں سب سےاہم وکٹ حاصل کر لی جو سینانائیکے کے سامنے بہت زیادہ مسائل سے دوچار نظر آئے اور متعدد بار گیند ان کے بلے سے لگ کر اوپر کو اٹھی لیکن فیلڈرز تک پہنچ نہ پائی۔ بالآخر وہ کیریئر کی 24 ویں نصف سنچری بنانے کے بعد انہی کی گیند پر ایل بی ڈبلیو قرار پائے اور 135 رنز پر بنگلہ دیش کے 5 کھلاڑی پویلین لوٹ گئے۔

اب ذمہ داری نوجوان ناصر حسین اور محمود اللہ کے کاندھوں پر آ گئی جن کے بعد کوئی باقاعدہ بلے باز لائن اپ میں موجود نہیں تھا اس لیے اصل دارومدار انہی کھلاڑیوں پر تھا اور دونوں نے اس ذمہ داری کو بہ احسن و خوبی انجام دیا اور چھٹی وکٹ پر 77 ناقابل شکست رنز جڑ کر بنگلہ دیش کو ایک تاریخی فتح سے ہمکنار کر دیا۔ ناصرحسین 61 گیندوں پر 36 اور محمود اللہ 33 گیندوں پر 32 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے۔

سری لنکا کی جانب سے کولاسیکرا اور سینانائیکے نے 2،2 اور سورنگا لکمل نے ایک وکٹ حاصل کی۔

شکیب الحسن کو ایک اور میچ میں بہترین کارکردگی پیش کرنے پر مین آف دی میچ قرار دیا گیا۔

اب بنگلہ دیش جمعرات کو پاکستان کے خلاف ایشیا کپ کا فائنل کھیلے گا۔ ٹورنامنٹ کی 28 سالہ تاریخ میں پاکستان صرف ایک مرتبہ ایشین چیمپئن بننے میں کامیاب ہوا ہے جب 2000ء میں بنگلہ دیش میں ہی ہونے والے ٹورنامنٹ میں پاکستان نے فائنل میں سری لنکا کو شکست دی تھی۔

بنگلہ دیش بمقابلہ سری لنکا

ایشیا کپ 2012ء: چھٹا مقابلہ

20 مارچ 2012ء

بمقام: شیر بنگلہ نیشنل اسٹیڈیم، میرپور، ڈھاکہ، بنگلہ دیش

نتیجہ: بنگلہ دیش 5 وکٹوں سے سے فتح یاب

میچ کے بہترین کھلاڑی: شکیب الحسن (بنگلہ دیش)

سری لنکا رنز گیندیں چوکے چھکے
مہیلا جے وردھنے ب نظم الحسین 5 12 0 0
تلکارتنے دلشان ب نظم الحسین 19 22 3 0
کمار سنگاکارا ک ناظم الدین ب نظم الحسین 6 14 0 0
چمارا کاپوگیدرا ک شکیب ب عبد الرزاق 62 92 4 0
لاہیرو تھریمانے اسٹمپ مشفق ب عبد الرزاق 48 73 3 0
اوپل تھارنگا ک مشفق ب شہادت 48 44 5 1
فرویز مہاروف ک مشفق ب شکیب 3 3 0 0
نووان کولاسیکرا ایل بی ڈبلیو ب شکیب 1 4 0 0
سچیتھرا سینانائیکے ناٹ آؤٹ 19 21 3 0
لاستھ مالنگا ب مشرفی مرتضیٰ 10 13 1 0
سورنگا لکمل رن آؤٹ 0 1 0 0
فاضل رنز ل ب 3، و 8 11
مجموعہ 49.5 اوورز میں تمام وکٹوں کے نقصان پر 232

 

بنگلہ دیش (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
مشرفی مرتضی 9.5 1 30 1
نظم الحسین 8 1 32 3
شہادت حسین 8 0 51 0
عبد الرزاق 10 0 44 2
شکیب الحسن 10 1 56 2
محمود اللہ 4 0 16 0

 

بنگلہ دیشہدف: 212 رنز (40 اوورز میں) رنز گیندیں چوکے چھکے
تمیم اقبال ک تھریمانے ب سینانائيکے 59 57 9 0
ناظم الدین ب کولاسیکرا 6 7 1 0
ظہور الاسلام ک کاپوگیدرا ب لکمل 2 15 0 0
ناصر حسین ب کولاسیکرا 1 4 0 0
شکیب الحسن ایل بی ڈبلیو ب سینانائيکے 56 46 7 0
مشفق الرحیم ناٹ اؤٹ 36 61 3 0
محمود اللہ ناٹ اؤٹ 32 33 3 0
فاضل رنز ل ب 13، و 7 20
مجموعہ 37.1 اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر 212

 

سری لنکا (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
لاستھ مالنگا 8 0 29 0
نووان کولاسیکرا 6 0 30 2
سورنگا لکمل 7.1 0 44 1
سچیتھرا سینانائیکے 8 0 38 2
فرویز مہاروف 6 0 46 0
تلکارتنے دلشان 2 0 12 0

Facebook Comments