آسٹریلیا، ایک اور ناخدا ڈوبتی کشتی بھنور میں چھوڑ گیا

میچ میں ہار کے بعد کپتان کا کپتانی چھوڑ دینا، نو آموز کھلاڑی کوٹیسٹ قیادت کی ذمہ داری دینا، میچ میں بدترین شکست، ایک فارمیٹ میں ریٹائرمنٹ، دوسرے فارمیٹ میں قیادت پر زور اور بہت کچھ۔ کیا یہ پاکستانی ٹیم کا ذکر ہو رہا ہے؟ جی نہیں، یہ سب کہانیاں اب اس ملک کی ہیں جو دنیائے کرکٹ کی تاریخ میں سب سےطویل عرصے تک بے تاج بادشاہ رہا ہے، جی ہاں۔ آسٹریلیا!

مائیکل کلارک سڈنی ٹیسٹ میں شکست کے بعد افسردہ و دل گرفتہ (گیٹی امیجز)

ایشیز سیریز 2010-11ء آسٹریلیا کی گزشتہ دو سالوں میں گرتی ہوئی کارکردگی کی معراج رہی۔ پانچ میں سےتین ٹیسٹ میچز میں اننگز سے شکست اور 24 سال بعد ہوم گراؤنڈ پر انگلستان کے ہاتھوں ہزیمت نے ایک جانب جہاں رکی پونٹنگ کے مستقبل پر سوالیہ نشان عائد کر دیے ہیں وہیں ان کے نائب مائیکل کلارک بھی دل شکستہ ہو چکے ہیں۔

سڈنی کے تاریخی میدان (ایس سی جی) میں کھیلے گئے سیریز کے آخری ٹیسٹ میچ میں ایک اور اننگ کی شکست کے بعد مائیکل کلارک نے ٹی ٹوئنٹی سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا اور یوں وہ اس فارمیٹ میں قومی ٹیم کی قیادت سے دستبردار ہو گئے ہیں۔ ٹیسٹ سیریز کے بعد اب جبکہ جارح مزاج انگلستان کے سامنے دو ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے سیریز کے معرکے درپیش ہیں، دو کپتان آسٹریلیا کی ڈوبتی ہوئی کشتی سے کود چکے ہیں اور قیادت کا ہما اب نو آموز کھلاڑی کیمرون وائٹ کے سر سجایا گیا ہے۔

مائیکل کلارک کا کہنا ہے کہ وہ تمام تر توجہ پانچ روزہ اور ایک روزہ مقابلوں میں اپنی کارکردگی پر مرکوز رکھیں گے کیونکہ ٹی ٹوئنٹی کے تیز رفتار فارمیٹ میں انہیں مسائل درپیش ہیں اس لیے وہ خود کو اس طرز کی کرکٹ میں فٹ نہیں سمجھتے۔

کرکٹ آسٹریلیا نے کلارک کی جگہ کیمرون وائٹ کو آسٹریلیا کے ٹی ٹوئنٹی دستے کا کپتان مقرر کیا گیا ہے جبکہ ٹم پین ان کے نائب ہوں گے۔

انگلستان اور آسٹریلیا کے درمیان دو ٹی ٹوئنٹی مقابلے اگلے بدھ اور جمعرات کو کھیلے جائیں گے۔ اعلان کردہ اسکواڈ میں تیز رفتار گیند باز بریٹ لی بھی شامل ہیں جو اکتوبر 2009ء کے بعد پہلی بار قومی ٹیم کی نمائندگی کریں گے۔

ٹی ٹوئنٹی میچز کے لیے اعلان کردہ آسٹریلوی اسکواڈ میں مندرجہ ذیل کھلاڑی شامل ہیں (بلحاظ حروف تہجی):

اسٹیو او کیف، اسٹیون اسمتھ، آرون فنچ، بریٹ لی، ٹم پین، جیمز پیٹن سن، ڈیوڈ ہسی، ڈیوڈ وارنر، شان ٹیٹ، شین واٹسن، کیمرون وائٹ(کپتان) اور مچل جانسن۔

Facebook Comments